سفاکیت اور درندگی میں چنگیز خان کو پیچھے چھوڑ دینے والی ملکہ کیتھرین!

ملکہ کیتھرین

آپ نے آج تک چنگیز خان و ہلاکو خان کی خونریزی اور بربریت کے لاتعداد قصے سن رکھے ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہٹلر، تیمور لنگ اور دیگر کئی فاتحین  کو دنیا اپنی سفاکیت اور انسانیت کے قتل عام کی وجہ سے یاد کرتی ہے لیکن آج ہم ایک ایسی خاتون کی کہانی پیش کرنے جارہے ہیں  کہ جو اپنی بے رحمی اور قاتلانہ صفات میں ان بڑے بڑے جرنیلوں سے کسی صورت کم نہیں۔ یہ عورت سیکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے قتل کی تنہا ذمہ دار ہے۔ تو چلیے ہم اس سسپنس کو ختم کرتے ہوئے اپنی کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب یورپ میں پروٹسٹنٹ مذہب آہستہ آہستہ ترقی پارہا  تھا اور لوگ کیتھولک مذہب سے متنفر ہوکر اس کی طرف کھنچے چلے آرہے تھے۔ ناضرین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جس طرح ہم مسلمانوں میں دو گروہ شیعہ اور سنی موجود ہیں ، اسی طرح عیسائیت بھی دو بڑے فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں تقسیم ہے۔ کیتھولک ایک قدامت پسند اور روایات پر سختی سے عمل کرنے والی جماعت ہے جبکہ پروٹسٹنٹ آزاد خیال لوگوں کا فرقہ ہے۔

یہ 1572 عیسوی کا قصہ ہے کہ جب یورپ کے تمام ممالک میں اس جدید مسلک یعنی پروٹسٹنٹ کی اشاعت ہورہی تھی  لیکن فرانس کی سرزمین اس کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوئی اور وہاں اس نے بہت جلد کافی جماعت پیدا کرلی تھی  لیکن اب بھی بڑے بڑے امراء کیتھولک مذہب پر ہی قائم تھے۔ شاہ فرانس  ہنری ثانی کا انتقال ہوچکا تھا اور اس کے بعد ریاست کی باگ ڈور اس کے کم عمر بیٹے چارلس کے ہاتھوں میں آئی تھی۔  لیکن اس حکومت کی اصل فرمانروا فرانس کی ملکہ اور چارلس کی ماں ملکہ کیتھرین تھی۔ اس نے اپنے بیٹے کو طرح طرح کی شرابوں اور عیاشیوں  میں مبتلا کردیا تھا اور خود ریاست کے سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھی تھی۔ ایسے میں پروٹسٹنٹ مذہب  وہاں غیر معمولی ترقی  کررہا تھا اور بڑے بڑے سردار اس کو اختیار کرچکے تھے، ہمہ وقت  ایک تصادم کی سی  صورتحال بنی رہتی۔

اول تو ملکہ  کیتھرین خود کیتھولک مذہب پر قائم تھی ، دوسرا یہ کہ کیتھولک کا سب سے بڑا حامی ڈیوک دی گائز ملکہ کے نہایت قریبی ساتھیوں میں شامل تھا، اس شخص نے ملکہ کے دل میں ایسی آتش انتقام بھڑکائی کہ وہ ہر وقت پروٹسٹنٹ کی مخالفت میں بے چین رہنے لگی۔  مسئلہ یہ تھا کہ اب پروٹسٹنٹ فرقے کے لوگوں کی آبادی بھی کافی حد تک بڑھ چکی تھی، دوسری طرف  کولینی اور ڈی کونڈا جیسے صاحب اقتدار امراء بھی اس میں شامل تھے۔ اس لیے وہ کھلم کھلا مخالفت بھی نہ کرسکتی تھی، چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے انگاروں پر لوٹتی رہتی اور ہر وقت اسی فکر میں غرق رہتی کہ کس طرح ان کافروں سے اپنے ملک کو پاک کردے۔

اسی دوران ہنری دی نوویر جو پروٹسٹنٹ جماعت کا سب سے بڑا سردار تھا ، اس نے ملکہ کیتھرین کی بیٹی سے شادی کا پیغام بھیجا، جسے کیتھرین نے پسند کرکے 21 اگست 1572ء کی تاریخ شادی کے لیے مقرر کردی۔ کیتھولک حلقوں میں اس شادی پر بہت لعن طعن کی جارہی تھی، مسیحی پوپ اور اسپین کے  بادشاہ  جو خود  بھی پروٹسٹنٹ  فرقے سے برسر پیکار تھے، دونوں  نے اس شادی کی مخالفت کی۔ اُدھر کیتھرین یہ چاہتی تھی  کہ اس کی بیٹی کی یہ شادی اس اہتمام  سے ہو کہ  تاریخ انسانی میں اس کی کوئی نظر نہ ملے اور واقعی وہ ایسی تیاریوں میں مصروف تھی جو اس شادی کو رہتی دنیا تک لافانی بنادیتیں۔

کیتھرین  نے اپنے تمام مقرب امراء اور فوجی عہدیداروں کو پوشیدہ  طور پر طلب کیا اور پروٹسٹنٹ  جماعت سے انتقام لینے کی اسکیم پیش کی، جس کو سن کر سب کےدل کانپ گئے، جبکہ اس کے بیٹے چارلس نے بھی صاف انکار کردیا لیکن اس کی ضد کے آگے تمام افراد  کو سرتسلیم خم کرنا پڑا۔ بالآخر اس کام کے لیے نکاح کے بعد تیسری رات یعنی 24 اگست کی تاریخ تجویز کی گئی۔

23 اگست سے ہی کیتھرین کے ساتھیوں نے کام شروع کردیا، انہوں نے شہر کے ان تمام مکانات پر جن میں پروٹسٹنٹ  رہتے تھے  مخصوص نشانات بنادیے تاکہ کیتھولک  جماعت کے مکانات  نمایاں طور پر پہچان لیے جائیں۔ اب 24 اگست کی رات آئی تمام پیرس بقعۂ نور بناہوا تھا، شہر کے تمام پروٹسٹنٹ شرفاء و امراء  اس شاہی دعوت میں شریک تھے، صرف پیرس ہی نہیں  بلکہ  ملک کے دیگر  علاقوں سے پروٹسٹنٹ لوگ اپنے شہزادے کی شادی  میں شرکت کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ اچانک ملکہ کیتھرین  کوئی عذر پیش کرکے چلی جاتی ہے اور خفیہ طور پر اپنے ساتھیوں کو طلب کرکے ، ان کی تیاریوں کے متعلق دریافت کرتی ہے۔ اس کے بعد ڈیوک دی گائیز سے مخاطب ہوکر کہتی ہے کہ میں کچھ دیر بعد پیرس کی گلیوں کی سیر کے لیے نکلوں گی۔ میں چاہتی ہوں کہ میری یہ چہل قدمی اتنے خون میں ہوکہ کم از کم میرے گھٹنے اس خون میں غرق ہوجائیں اور پھر مسکراتی ہوئی واپس محل میں آجاتی ہے۔

تقریباً آدھی رات کے  قریب جب یہ محفل  رقص و سرور کے عروج پر ہوتی ہے کہ دفعتاً گرجاؤں سے ناقوس کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اس آواز کے ساتھ ہی کیتھرین کے درندے بے لگام ہوکر قتل عام شروع کردیتے ہیں۔ شادی میں شریک ہونے والے تمام پروٹسٹنٹ امراء قید کرلیے جاتے ہیں  اور اب باری باری ان کے سر کاٹ کاٹ کر پھینکے جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت جب قصر شاہی میں یہ خونی کھیل کھیلا جارہا تھا، شہر کے ہر گوشے سے آگ کے شعلے بلند ہورہے تھے۔ کیتھولک جماعت پروٹسٹنٹ کے قتل عام میں مصروف تھی، نہ بچے کی تمیز تھی نہ عورت کی، نہ بیمار پر رحم تھا نہ ضعیف پر۔ معصوم بچوں کو ماؤں کی گود سے چھین چھین کر آگ میں ڈالا جارہا تھا، حسین عورتوں کو برہنہ کرکے ان کا جسم نیزوں سے چھلنی کیا جارہا تھا اور پھر کیتھرین  شاہی دستے کے ہمراہ مسکراتی ہوئی محل سے باہر نکلی  تاکہ لاشوں کو تڑپتا اور مکانوں کو جلتا ہوا دیکھ کر مسرور ہو۔ وہ آہستہ آہستہ چلی جارہی تھی  کہ اسے ایک لاش سے ٹھوکر لگی   اور اس کے گھٹنے خون آلود ہوگئے، یہ کھڑی ہوئی اس لاش کو ایک ٹھوکر اور رسید کی اور پھر چل پڑی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ وہ چلتی جاتی اور لوگوں کے کٹے ہوئے  لاشیں دیکھ کر  بے اختیار ہنستی جاتی۔

یہ تمام رات اس نے ایسے ہی پیرس شہر میں گھومتے اور اپنی فتح پر خوشیاں مناتے گزاری۔ یہ قتل عام صرف پیرس  میں ہی محدود نہ رہا بلکہ تمام فرانس  میں پروٹسٹنٹ  فرقے کا یہی حال کیا گیا۔ اس قتل عام میں لاکھوں افراد وحشیانہ قتل کیے گئے، دنیا کے تمام ممالک نے اس واقعے پر لعن طعن کی۔ تاریخ میں اس واقعے کو سینٹ بارتھلومیو میسا کیئر ڈے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس کا سہرا کلی طور پر  ملکہ کیتھرین کے سر جاتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے