مولانا رومؒ ! اسلامی ریاست کو سفاک دشمنوں سے بچانے والے۔

مولانا روم

شاہ شمس تبریزؒ اکثر سیاحت میں رہتے تھے عموماً اُن پر جذب کی کیفیت طاری رہتی تھی شاہ تبریزؒ کا یہ معمول تھا کہ جس علاقے میں بھی جاتے وہاں پہلا کام یہ کرتے تھے کہ سرائے کے حجرے میں مراقبے میں مصروف ہوجاتے۔ اسی طرح نگر نگر گھومتے رہے پھر ایک دن خداتعالیٰ سے مناجات کرنے لگے کہ ’’یا اﷲ تیرا وہ خاص بندہ کہاں ہے جو میری صحبت کا متحمل ہوسکے؟‘‘ آپؒ کو اشارہ ملا کہ روم روانہ ہوجاؤ۔ اس کے بعد شاہ شمس تبریزؒ روم کی طرف روانہ ہوگئے…..
اس وقت ایشائے کو چک کو سلطنتِ روم کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں پورے روم کے عوام الناّس کے ذہنوں پر اپنے وقت کی علمی شخصیت مولانا جلال الدین رومیؒ کا دورہ تھا۔ مولانا کو علم کے ساتھ ساتھ طرزِ بیان میں بھی کمال حاصل تھا جب آپ کسی جگہ خطاب کے لئے کھڑے ہوجاتے تو لوگ پتھر کی طرح ساکت و جامد ہوجاتے اور انہیں اپنے گردو پیش کی بھی خبر نہ ہوتی۔ مولانا کے اس علم و فضل سے بہت سے علماء آپ سے حسد کرنے لگے اور پھر انہوں نے مولانا رومؒ کی تحقیر کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا اور جب ایک عظیم اجتماع سے خطاب کے لئے آپ کھڑے ہوئے توخطاب سے پہلے ہی ایک عالم اٹھ کر بلند آواز میں کہنے لگا ’’مولانا! آپ اپنے پسندیدہ موضوع پر ہفتوں اور مہینوں تیاری کے بعد خطاب کرتے ہیں یہ کوئی بڑا کمال نہیں ہے اس طرح تو کوئی بھی تقریر کرسکتا ہے‘‘۔ مولانا رومیؒ نے تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا ’’میں نے کبھی اپنے کمال کا دعویٰ نہیں کیا۔ میں ایک ادنیٰ طالبِ علم ہوں ویسے اگر آپ کسی موضوع کا انتخاب کریں تو میں اس پر بیان کرنے کی کوشش کروں گا‘‘۔مولانا کا یہ جواب سن کر ہزاروں کے مجمع پر سکوت طاری ہوگیا۔ اس عالم نے دوسرے علماء کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور پھر کہنے لگا مولانا! آپ سورۂ والضحیٰ کی تشریح بیان کریں ان علماء کا خیال تھا کہ مولانا فی البدیہہ تقریر نہ کرسکیں گے اور اس طرح ان کا تماشا بن جائے گا۔ مولاناؒ نے حمد و درود کے بعد مسکراتے ہوئے فرمایا ’’سورہ والضحیٰ کا پہلا حرف ’’و‘‘ ہے میں اس کی تشریح بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں پھر ایسا لگا کہ علم کا سمندر موجیں مارنے لگا ہو مولاناؒ مسلسل چھ گھنٹے تک حرف ’’و‘‘ پر تقریر کرتے رہے تقریر جاری تھی کہ وہ عالم جس نے آپ کو موضوع دیا تھا دیوانگی کے عالم میں کھڑا ہوا اور دوڑتا ہوا آیا اور مولانا کے قدموں میں گر گیا اور کہنے لگا ’’مولانا بے شک پورے روم میں آپ سا کوئی عالم نہیں ہے مجھے معاف کردیجئے بہت سے علماء آپ سے حسد کرتے ہیں اور میں بھی اسی لعنت میں مبتلا ہوگیا تھا‘‘۔ مولانا رومیؒ نے اس عالم کو اٹھا کر گلے لگایا اور فرمایا ’’میں ہر اس شخص کو معاف کرتا ہوں جو مجھ سے بے سبب عداوت رکھتا ہے۔ اﷲ ان کے سینوں میں بھڑکتی ہوئی آتشِ حسد کو ٹھنڈا کردے اور انہیں اپنے فضل و کرم سے ہدایت بخش دے‘‘۔ مولانا رومؒ نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ تحصیلِ علم میں بسر کیا تھا لیکن اس کے باوجود آپ کی تشنگی بڑھتی جارہی تھی سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کیسی پیاس ہے اپنے خاص دوستوں کی محفل میں کبھی کبھی اظہار فرماتے کہ ’’میں آج بھی پیاسا ہوں میں خود بھی نہیں جانتا کہ یہ کیسی پیاس ہے؟بس ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح پیاسی ہے‘‘۔
حضرت شمس تبریزؒ سلطنتِ روم میں جب قونیہ پہنچے تو رات کا وقت ہوچکا تھا مشیت ایزدی کے تحت آپ ایک سرائے کے دروازے پر موجود بلند چبوترے پر بیٹھ جاتے اور خاموشی سے آنے جانے والوں کو دیکھتے اور تلاش کرتے کہ خدا کا وہ خاص بندہ کون سا ہے۔ ایک دن جب مولانا جلال الدین رومیؒ اسی راستے سے گزرے تو حضرت شمس تبریزؒ انہیں دیکھ کر چونک گئے لگتا تھا جیسے کسی شہنشاہ کی سواری گزر رہی ہو مولانا رومیؒ کے سینکڑوں شاگرد با ادب اپنے استاد کے پیچھے چل رہے تھے۔ حضرت شمس تبریزؒ پر الہامی کیفیت طاری ہوگئی کہ ’’یہی وہ شخص ہے جسے تم ڈھونڈ رہے تھے‘‘۔
مولانا رومؒ اور حضرت شمس تبریزؒ کی ملاقات کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ مولانا رومؒ مجلس میں اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے کہ ایک اجنبی جو ظاہری حلیے سے ایک عام آدمی معلوم ہوتا تھا مجلس میں داخل ہوا، سلام کیا اور صفوں کو چیرتا ہوا مولانا کے پاس جا بیٹھا۔ مولانا کے شاگردوں کو اس کی یہ حرکت سخت نا گوار لگی۔ لیکن مولانا رومؒ بدستور درس دیتے رہے اس دوران وہ شخص بجائے درس سننے کے کتب خانے میں کتابوں کے عظیم الشان ذخیرے کو دیکھتا رہا پھر درس کے درمیان اُٹھ کر پوچھنے لگا ’’مولانا یہ کیا ہے؟‘‘ مولانا رومؒ نے جواب دیا ’’ذرا صبر کرلو درس کے بعد تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں‘‘۔ جب درس ختم ہوا تو مولانا نے اجنبی سے پوچھا ’’آپ کون ہیں اور یہاں کس لئے تشریف لائے ہیں؟‘‘ اس شخص نے کہا ’’مولانا میرے بارے میں مت پوچھیں یہ بتائیں کہ یہ کیا ہے؟‘‘ مولانا نے کہا ’’کیا آپ کی بینائی کمزور ہے؟‘‘ اجنبی نے جواب دیا’’نہیں! میں تو بہت دور تک دیکھ سکتا ہوں‘‘۔ پھر آپ کو نظر نہیں آتا یہ کیا ہے؟ مولانا رومؒ جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوگئے۔ اجنبی نے کہا مولانا ’’مگر میں آپ کی زبان سے سننا چاہتا ہوں‘‘۔ مولانا رومؒ کا لہجہ ہلکا سا تلخ ہوگیا فرمایا ’’یہ وہ ہے جسے آپ نہیں جانتے‘‘۔ اجنبی یہ جواب سن کر کھڑا ہوگیا اور ایک کتاب کو ہاتھ میں لے کر وضو کے حوض میں غوطہ دیا۔ مولانا رومؒ گھبرا گئے کہ کتاب ضائع ہوگئی۔ اُس زمانے میں ہاتھ سے کتابیں لکھی جاتی تھیں۔ پانی سے ساری سیاہی دھل کر صرف کاغذ کے باقی رہ جانے کا خطرہ تھا لیکن کتاب پانی سے باہر آئی تو وہ ذرا سی بھی گیلی نہیں ہوسکی تھی مولانا نے بوکھلا کر کہا ’’اے شخص یہ کیا ہے؟‘‘ اجنبی نے مسکراتے ہوئے مولانا رومؒ کی طرف دیکھا اور کہا ’’مولانا! یہ وہ ہے جسے آپ نہیں جانتے‘‘۔ اس کے بعد اجنبی تیزی کے ساتھ مجلس سے باہر چلا گیا۔ اس واقعہ نے مولانا رومؒ کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا انہیں یوں محسوس ہوا جیسے روح کی پیاس جو انہیں بے قرار رکھتی ہے اس کی سیرابی کا انتظام یہی شخص کرسکتا ہے۔ مولانا رومؒ نے اس اجنبی کے بارے میں معلومات کرائیں تو معلوم ہوا کہ وہ شمس تبریزؒ ہیں۔ مولانا حضرت شمس تبریزؒ کے پاس گئے اور باطنی تعلیم کے خواہش مند ہوئے۔ حضرت شمس تبریزؒ نے مولانا رومؒ کو اپنی شاگردی میں لے لیا اور یہ دونوں بزرگ حضرت صلاح الدین زرکوبؒ کے حجرہ میں چھ ماہ برابر مراقب رہے اس دوران مولانا رومؒ نے کسی سے ملاقات نہ کی۔ مولانا رومؒ کے اس طرح گوشۂ نشین ہوجانے پر شہر میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا اور بہت سے لوگ حضرت شمس تبریزؒ کے دشمن ہوگئے ان کا خیال تھا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے ہمارے عالم کو ہم سے چھین لیا ہے۔ حضرت شمس ؒ نے مولانا رومؒ کو چند ماہ میں ہی روحانیت کے اعلیٰ مدارج طے کروادےئے اور اس کے بعد آپؒ قونیہ سے غائب ہوگئے اور پھر کسی کو نظر نہ آئے۔ مولانا رومؒ کو اپنے مرشد کے فراق سے شدید صدمہ پہنچا اور مولانا رومؒ بے قراری میں اشعار کہنے لگے۔ ان کی شاعری اس قدر پر اثر تھی کہ دنیائے ادب میں ایک شہرۂ آفاق تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ سامنے آئی اور آج صدیاں گزرجانے کے بعد بھی عالمی ادب میں مولانا کی مثنوی کا کوئی حریف نظر نہیں آتا۔ حضرت مولانا رومؒ کے استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ عشاء کی نماز کے بعد دورکعت نماز کی نیت کرتے تو اس میں صبح ہوجاتی تھی۔ حضرت شمس تبریزؒ کے بعد مولانا روم ؒ نے لوگوں سے قطع تعلق کرلیا تھا۔

مولانا روم مزارجب مسلمانوں کے دل ایمان سے خالی ہونے لگے اور ذہن صرف مادیت پر مرکوز ہوگئے تو ان کی عظیم سلطنتوں کے شیرازے بکھر گئے اہلِ بغداد کو قہر خداوندی نے پکڑلیا اور مسلمانوں کی شاندار تہذیب و تمدن وحشیوں کے نیزوں پر آگئی چنگیز خان کا پوتا مسلمانوں کے سروں سے مینار بناتا رہا….. اب ہلاکو خان نے نیشا پور کا رخ کیا اور پھر خبر آئی کہ تاتاریوں نے حضرت شیخ فرید الدین عطارؒ جیسے بزرگ کو بھی شہید کردیا اور پھر خبرآئی حضرت شیخ نجم الدین کبریؒ نے بھی جامِ شہادت پی لیا اور پیغام یہ دیا کہ ’’گھروں کو چھوڑ کر میدانِ کار زار میں نکل آؤ‘‘۔ پھر ہلاکو خان کے خون آشام لشکر کا رخ روم کے شہر ’’قونیہ‘‘ کی جانب تھا اس لشکر کا سالار بیچو خان تھا۔ بیچو خان کے لشکر نے ’’قونیہ‘‘ کا محاصرہ کرلیا اور پورے شہر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی لوگ شدید خوفزدہ تھے کہ اب کیا ہوگا اور پھر جب محاصرے نے طول پکڑا تو قونیہ کے باشندوں کا سامانِ رسد بند ہوگیا اس سے ہر طرف بدحواسی سی پھیل گئی، امراء جمع ہو کر مشورے کرنے لگے، طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں اور سب کے ذہن سوچتے سوچتے مفلوج ہوگئے تو امراء کی محفل میں ایک مجذوب صفت آدمی آیا اس شخص کی ظاہری حالت دیکھ کر امراء سمجھے کہ یہ کوئی بھکاری ہے اس شخص نے بارعب لہجہ میں کہا ’’میں تم سے بھیک مانگنے نہیں آیا ہوں اسی تنگ دلی اور بے ضمیری نے تمہیں یہ دن دکھائے ہیں۔ دولت و اقتدار کے نشے میں تم نے مخلوقِ خدا کی زندگی اجیرن کردی تھی۔ اب دولت کے یہ ذخیرے کہاں لے جاؤ گے؟‘‘ اس شخص کے ان الفاظ نے پوری محفل پر سکوتِ مرگ طاری کردیا سب کے سر شرم سے جھک چکے تھے۔ وہ دوبارہ گویا ہوا ’’میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ اس قہر کا بس ایک علاج ہے‘‘۔ سب نے بیک وقت کہا ’’کیا ہے بتاؤ! بتاؤ ہم پر مہربانی کرو ورنہ بربادی ہمارا مقدر ہے‘‘۔ اجنبی نے کہا ’’اس کے پاس جاؤ جو تمہارے عشرت کدوں پر تھوک کر گوشۂ نشین ہوچکا ہے اﷲ اس کی بہت سنتا ہے اگر وہ تمہارے لئے دعا کردے تو ممکن ہے تم بچ جاؤ۔ یاد رکھنا وہ آسانی سے نہیں مانے گا جاؤ مولانا رومؒ کی خانقاہ میں جاؤ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ اجنبی تیزی سے باہر نکل گیا۔ حضرت جلال الدین رومیؒ کی خانقاہ پر خواص و عام کا ہجوم جمع ہوگیا سب کے چہرے موت کے خوف سے زرد تھے۔ حضرت مولانا رومؒ نے ان سے آنے کا مقصد پوچھا تو سب گریہ و زاری کرنے لگے۔ آپؒ نے فرمایا تم ’’جانتے ہو شیخ فرید الدین عطارؒ اور حضرت نجم الدین کبریؒ جیسے بزرگ خالق حقیقی سے جاملے تو پھر میں کس شمار میں ہوں میں کیا کرسکتا ہوں‘‘۔ لوگ چیخنے چلانے لگے تو آپؒ مجبور ہو کر اندر گئے اور اپنا مصلیٰ اٹھا کر ایک سمت چل دےئے۔ سامنے دور بیچو خان کا لشکر نظر آرہا تھا کہ اچانک مڑ کر آپؒ نے سخت لہجے میں فرمایا ’’تم سب اپنے گھروں میں جاؤ اور خدا سے پناہ مانگو‘‘۔ آپؒ آگے بڑھے اورلشکر کے قریب ایک ٹیلے پر پہنچ کر اپنا مصلیٰ بچھا دیا ایک لمحے کو آسمان کی طرف دیکھا اور پھر صلوٰۃ ادا کرنے لگے۔ لشکر کے سپاہیوں نے جب دیکھا کہ ایک کمزور سا بوڑھا ٹیلے پر ساکت و جامد کھڑا ہے تو انہیں خیال ہوا کہ یہ کوئی جاسوس ہے اس خیال کے ساتھ ہی لشکر میں ہلچل مچ گئی سپاہیوں نے کاندھوں سے کمانیں اتاریں اور برق رفتاری سے تیر چڑھائے تو ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اپنی پوری کوشش کے باوجود وہ کمان نہیں کھینچ پارہے تھے، پھر بہت سے سپاہیوں نے اپنے گھوڑے دوڑانے چاہے لیکن گھوڑوں نے اپنی جگہ سے جنبش نہ کی، اس پر وہ غصے میں گھوڑوں کو پیٹنے لگے اور فضا میں بے زبان جانوروں نے چیخیں بلند کرنا شروع کردیں۔ اس ہنگامہ پر بیچو خان اپنے خیمے سے باہر نکل آیا جب سپاہیوں نے اس عجیب آفت کے بارے میں اسے بتایا تو وہ چیخ پڑا کہ ’’تم سب جھوٹے ہو‘‘ پھر اس نے ایک سپاہی سے کمان اور تیر طلب کیا۔ بیچو خان ہلا کو کے لشکر میں سب سے بہترین تیر انداز سمجھا جاتا تھا تمام سپاہی رکی ہوئی سانسوں کے ساتھ بیچو خان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آخر کار بیجو خان نے اپنی کمان کھینچی تو وہ بآسانی کھنچ گئی اب اس نے سپاہیوں کو قہر آلود نظروں سے دیکھا جو کہہ رہے تھے کہ وہ اپنی کمانیں نہیں کھینچ پارہے یہ دیکھ کر ان سپاہیوں کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی کہ بیچو خان کمان کھینچ چکا ہے پھر بیچو خان نے پوری طاقت سے تیر چھوڑ دیا سپاہی سمجھ رہے تھے کہ چند ثانیوں بعد اس بوڑھے کی لاش ٹیلے کی بلندی سے زمین کی طرف چلی جائے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا بیچو خان کا تیر بوڑھے کے قریب سے گزر گیا۔ بیچو خان جو سب سے بہترین تیر انداز سمجھا جاتا تھا اپنا نشانہ خطا ہوتے دیکھ کر شدید غضب میں آگیا اور اس نے دوسرا تیر ترکش پر چڑھا کر چھوڑ دیا لیکن اس مرتبہ بھی تیر بوڑھے کو نہ لگا۔ بیچو خان پاگلوں کی طرح تیر پر تیر چھوڑنے لگا لیکن کوئی بھی تیر اس بوڑھے کے جسم کو نہ چھوسکا۔ انتہائی غصے میں اس نے کمان قریب کھڑے سپاہی کے سر پر دے ماری اور اپنے خیمے میں جا کر تلوار نکال لایا تاکہ اس بوڑھے کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردے لیکن وہ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اسے ایسا لگا جیسے زمین نے اس کے پاؤں پکڑ لئے ہوں، ٹانگیں پتھر کی ہوگئی ہوں اس نے گھبرا کر اپنے سپاہیوں کو دیکھا سب سر جھکائے ہوئے تھے۔ آخر وہ درد ناک آواز میں چلا اٹھا ’’اے عظیم ساحر، جادو گر! ہمیں معاف کردے ہم غلطی سے تیرے علاقے میں آگئے۔ بے شک تو اس جگہ کا بادشاہ ہے ہمیں معاف کر تا کہ ہم واپس لوٹ جائیں‘‘۔ بیچو خان کو ان الفاظ کے ساتھ ہی لگا جیسے اس کے پیروں کی طاقت بحال ہوگئی ہو۔ اس نے سپاہیوں سے کہا ’’فوراً چلو یہ علاقہ بوڑھے کی طاقت کے زیرِ اثر ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ہی پورا لشکر قونیہ کا محاصرہ ختم کر کے واپس لوٹ گیا۔ حضرت مولانا رومؒ نے نماز ختم کی اور لوگوں کے پاس جاکر مخاطب ہوئے ’’آج رب جلیل نے بچالیا ہے اس سے پہلے کہ درد ناک عذاب آپکڑے اپنے گناہوں سے توبہ کرلو، اﷲ پر یقین پیدا کرو اور اس کی حفاظت کرو‘‘۔ یہ مولانا روم رحمتہ اﷲ علیہ کی بڑی کرامت تھی کہ ان کی دعاؤں کے سبب اﷲ نے قونیہ کے باشندوں کو ہلاکت سے بچالیا تھا۔

مولانا روم مزارحضرت مولانا رومؒ 604ھ بمطابق 1207ع میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کی بلند پاےۂ تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ جو کہ 26666 اشعار پر مبنی ہے اس میں عشق، تصوف اور معرفت کے بہت سے گوشوں سے پردے اٹھائے گئے ہیں۔ ’’مثنوی مولانا روم‘‘ کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں بھی بہت سے لوگ حضرت مولانا رومؒ سے عقیدت رکھتے ہیں۔ حضرت مولانا رومؒ نے 670ھ میں وصال فرمایا آپؒ کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں تھے اور روتے جاتے تھے۔ حکمرانِ وقت نے غیر مسلموں سے پوچھا کہ تمہیں مولانا رومؒ سے کیا نسبت ہے؟ تو انہوں نے کہا ’’مولاناؒ تمہاری طرح ہمارے بھی محبوب ہیں‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے