نادر شاہ! پانچ گھنٹے میں تین لاکھ آدمی قتل کرنے والا ظالم ترین بادشاہ

نادر شاہ

آج ہم ذکر کریں گے دنیا کے ظالم ترین بادشاہوں میں سے ایک نادر شاہ کا   جس کے حکم پر صرف پانچ گھنٹے میں تین لاکھ انسانی سروں کو تن سے جدا کردیا گیا۔  لیکن اس کی یہ ظالمانہ روش پیدائشی نہ تھی بلکہ یہ ان الم ناک حالات کا نتیجہ تھی جو اس کے عزیزوں اور دوستوں  نے اس کی زندگی میں پیدا کردیے۔ نادر شاہ   22 نومبر 1688 عیسوی ، ایران کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک قلعے کا حاکم تھا، نادر شاہ ابھی کم سن ہی تھا کہ اس کا باپ مرگیا اور چچا نے قلعے پر قبضہ کرلیا۔  نادر کا بچپن اپنے غاصب چچا کی بدولت نہایت دردناک اور مشقتوں سے بھرپور تھا۔ لیکن یہ تکلیفیں اس کے عزائم کو  نقصان نہ پہنچاسکیں، اس نے جوانی میں قدم رکھتے ہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے باپ کے  حقوق  اور  اپنے گزشتہ تمام دکھوں کا بدلہ ضرور لے گا۔ چنانچہ اس نے لوٹ  مار کرنے والوں کا ایک گروہ بنایا اور تجارتی قافلے لوٹنے لگا۔

رفتہ رفتہ اس کی جماعت  اور کاروائیاں اتنی بڑھ گئیں کہ خود شاہ ِ ایران بھی اس سے خوف کھانے لگا۔  طاقت و قوت حاصل کرنے کے بعد نادر شاہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے چچا کا قتل کیا اور اپنے باپ کے قلعے پر قابض ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد نادر شاہ  ایسا زور آور ثابت ہوا کہ شاہ ایران نے نادر شاہ سے صلح کی درخواست کی اور  اسے اپنے دربار میں سرداری کا عہدہ بھی دیا۔  شاہ ایران کی ملازمت میں نادر شاہ نے کئی بہادرانہ کام انجام دیے،  عثمانی ترکوں اور افغانوں کو کئی معرکوں میں شکست دی۔   روس کو دھمکیاں دے کر اس سے تمام ایرانی علاقے واپس لے لیے۔ یہاں تک کہ فوج کا ایک مقبول لیڈر بن جانے کے بعد  نادر نے شاہ ایران کو معزول کردیا اور خود تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا۔ رسم تاج پوشی کے فوراً بعد قندھار پر حملے کے لیے روانہ ہوا۔ سلطنت عثمانیہ اور ہندوستان کے مغل شہنشاہ اس کی بادشاہت تسلیم کرچکے تھے  لیکن کئی وجوہات کی بناء پر  وہ کابل و غزنی کو فتح کرتا ہوا ہندوستان میں داخل ہوا۔ اس وقت  تخت ہندوستان پر محمد شاہ رنگیلا جلوہ افروز تھا جس کی عیاش طبیعت  کا اندازہ آپ ہماری ویڈیو محمد شاہ رنگیلا دیکھ کر بخوبی لگا سکتے ہیں۔ کرنال کے مقام پر  مغلوں اور نادر شاہ کے درمیان یہ یک طرفہ معرکہ ہوا۔

محمد شاہ رنگیلا کی نااہلی کا یہ عالم تھا کہ وہ دہلی سے صرف 70 کلومیٹر کی دوری پربھی اپنی پوری فوج جمع نہ کرسکا۔ جبکہ توپ خانے کو وہ  کہیں پیچھے چھوڑ آئے تھے، نتیجتاً نادر شاہ کے توپ خانے نے ہندوستانی افواج کو بھون کر رکھ دیا اور محمد شاہ رنگیلا کی ایک لاکھ فوج کے مقابلے نادر شاہ کے 55 ہزار سپاہی فتح یاب ہوئے ۔  11 مارچ1739  عیسوی نادر شاہ بحیثیت فاتح دہلی شہر میں داخل ہوا۔ دہلی کے شہری پہلے تو دب گئے مگر جلد ہی ایرانیوں کے خلاف بلوے شروع کردیے۔ نادری سپاہ نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی  لیکن بلوائیوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی، انہوں نے جگہ جگہ  آگ لگادی اور ایرانی فوج کے کئی آدمی زندہ جلادیے گئے۔ اُس وقت تک  ایرانی سپاہیوں کو تلوار چلانے کی اجازت حاصل نہ تھی۔  کچھ دیر بعد نادر شاہ  حالات کا جائزہ لینے شہر میں نکلا تو اس پربھی پتھراؤ شروع ہوگیا یہاں تک کہ  کسی مکان کی چھت سے اس پر بندوق سے  فائر کیا گیا یہ گولی اس کے برابر کھڑے ایک ایرانی سردار کو جالگی۔ اب نادر شاہ غصے میں ایسا بپھرا کہ اسی وقت قتل عام کا حکم دے دیا۔ اس حکم کے ساتھ ہی دہلی میں موت کا بازار گرم ہوگیا۔  بڑے چھوٹے، عورت و مرد سب تہہ تیغ ہونے لگے۔ مکانوں سے شعلے بلند ہورہے تھے، دکانیں لٹ رہی تھیں۔ کوئی قوت ایسی نہ تھی جو اس خون خرابے کو روک سکے۔ بالآخر امرائے دہلی کی منت و سماجت پر یہ قتل عام منسوخ کیا گیا لیکن اس وقت تک دہلی کے تین لاکھ شہری  اپنی جانوں سے ہاتھ دھوچکے تھے۔ قطار در قطار رکھ کر یہ لاشیں جلائیں گئیں ، اس کے باوجود  اتنا تعفن پھیلا کہ سڑکوں پر چلنا محال ہوگیا۔

اس قتل عام کے بعد نادر شاہ ہندوستان  ، اس کے امراء  اور   جاگیرداروں کے خزانوں کی طرف متوجہ ہوا۔   مغلیہ خزانے سے تمام جواہرات، سنہری ظروف اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لینے کے بعد  مزید 20 کروڑ روپیہ کا مطالبہ کیا گیا۔  اس مطالبہ کو پورا کرنے کی خاطر کئی صدیوں سے بند تہہ خانے کھول دیے گئے، جو دولت مغلوں نے چار سو سال میں جمع کی تھی سب کی سب نادر شاہ کے ہاتھ لگی۔ اس کے بعد یہ حکم جاری ہوا کہ  شہر کی تمام رعایا اپنی اپنی دولت اور مال و اسباب کی فہرستیں لے کر حاضر ہو۔ نادر شاہ کو اختیار تھا کہ ان میں سے  وہ جو چیز چاہے پسند کرلے۔   سو تمام رعایا اپنے اپنے مال کا حساب لے کر حاضر ہوئی،  یہاں ان کی ایسی آبرو ریزی  کی گئی  کہ کچھ لوگ اپنا حساب کتاب مکمل ہونے کے بعد شرم ساری سے خود کشی کرلیتے تو کچھ لوگ حساب کتاب شروع ہونے کے ڈر سے۔   مطلوبہ رقم نہ ملنے پر  سر عام ان کے تھپڑ اور گھونسے رسید کیے جاتے،  کوئی غلط گوشوارا لے کر آتا تو اسے ڈنڈوں سے ایسا زدوکوب کیا جاتا کہ جسم اور منہ سے خون جاری ہوجاتا۔ بڑے بڑے امراء و شرفاء کے ساتھ چوروں   اور موالیوں جیسا سلوک ہوتا رہا۔ نادر شاہ کی دہلی سے روانگی تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا، اس طرح دہلی کی عوام سے  قریباً چار کروڑ روپیہ وصول کیا گیا، جس میں سے اکثر نادر  شاہ نے شاہی خزانے میں جمع کیا جبکہ کچھ حصہ اپنی فوج میں تقسیم کردیا۔

اس قتلِ عام کے بعد ایرانی سپاہیوں نے غلے کے تمام کھیت اپنے قبضے میں لے لیے تھے سو  اشیائے خوردونوش نایاب ہوگئیں۔ یہاں تک کہ گیہوں کا ریٹ سات روپے سیر تک جا پہنچا۔ دوستو اس دور میں سات روپے    کی قیمت آج کے ستر  ہزار سے بھی زائد  تھی۔  اس کے بعد نادر شاہ نے محمد شاہ رنگیلا  کو شرف ملاقات بخشا،  محمد شاہ رنگیلا کی  بیٹی وہ پہلے ہی اپنے بیٹے نصرا اللہ مرزا کے لیے مانگ چکا تھا، اب اس نے  مغل بادشاہ  کی پگڑی جس میں کوہ نور نامی ہیرا موجود تھا اس کے سر  سے اتار کر خود پہن لی۔ جب وہ دہلی سے روانہ ہوا تو اس کے ساتھ  بیش بہا دولت، کوہ نور، تخت طاؤس،  ہزاروں جنگی گھوڑے، ہاتھی اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ اتنی دولت کہ اگلے تین سالوں تک تمام سلطنت ایران میں کوئی ٹیکس نہ لیا  گیا۔ ایرانی میں فوجیوں اور دیگر عہدے داروں کے ساتھ ساتھ دکانداروں اور خوانچہ فروشوں کو بھی تنخواہیں دی جانے لگیں۔  مغل فرمانروا اور امرائے دہلی اس حد تک  نااہل اور کند ذہن ہوچکے تھے کہ نادر شاہ کے واپس چلے جانے کے بعد پھر سے عیاشیوں اور  تفریحات میں مشغول ہوگئے۔ نادر شاہ راستے میں قیام کرتا  ہوا لاہور پہنچا، یہاں کے شہریوں نے  جو دہلی کے قتل عام سے واقف تھے اپنا تمام مال و اسباب لا کر نادرشاہ کے قدموں میں رکھ دیا، جس کی مالیت ایک کروڑ روپیہ تھی۔

کابل پہنچنے کے بعد  نادر شاہ نے  سندھ کے والی اور کلہوڑہ خاندان کے مشہور حکمران میاں نور محمد کو کابل طلب کیا ، اس سردار نے یہ سوچ کر کہ نادر شاہ اتنا فاصلہ طے کر کے یہاں آنے کی ہمت نہیں کرے گا، اس طلبی کو نظر انداز کردیا۔  لیکن نادر شاہ  جو اپنے عزم  و ارادوں میں ایک چٹان جیسا تھا، موسم کی شدید ترین خرابیوں کے باوجود نور محمد کی گوشمالی کی خاطر سندھ روانہ ہوا اور امر کوٹ کے مقام پر اسے جادبوچا۔  ایک کروڑ نقد روپیہ ، جاگیر کا ایک بڑا حصہ اور اس کے دو بیٹوں کو بطور ضمانت ساتھ لے کر واپس نادر آباد  روانہ ہوا۔ اس کے دورِ حکومت میں ایرانی سلطنت اپنے مکمل عروج پر تھی، اس کی فتوحات کے سبب اسے ایشیاء کا نپولین اور سکندر ثانی  بھی کہا جاتا ہے، نادر شاہ  نے  1745 عیسوی میں  سلطنت عثمانیہ کے ایک بڑے لشکر کہ دوبارہ شکست دی۔

اپنے دورِ حکومت کے آخری سالوں میں نادر شاہ بہت چڑچڑا اور بدمزاج ہوچکا تھا، یہاں تک اپنے قابل لڑکے  اور ولی عہد رضا قلی کو صرف شک کی بنیاد پر کہ وہ نادر کو تخت سے اتارنا چاہتا ہے ، اندھا کردیا۔ اس کے بعد جگہ جگہ نادر شاہ کے خلاف بغاوتیں پھوٹنے لگیں۔ آخر کار 1747 عیسوی اس کے اپنے ہی محافظ دستوں نے اس کے خیمے میں داخل ہوکر اسے قتل کر ڈالا۔  نادر شاہ کے بعد اس  کا ایک افغان فوجی سردار احمد شاہ ابدالی اس کا جانشین ہوا۔ ان کی تفصیلات آپ ہماری اگلی کسی پوسٹ میں جان سکیں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے