نفرتیتی! مصر کی طاقتور ترین ملکہ جس نے اپنے بھائی سے شادی کی۔

نفرتیتی

ملکہ نفرتیتی مصر کے عظیم فرعون رعمیسس ثانی کی پہلی اور سب سے طاقتور بیوی تھی۔اس کے بااثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج ہزاروں سال بعد بھی ہم اس ملکہ یعنی نفرتیتی کی باتیں کررہے ہیں۔  وہ رشتے میں فرعون یعنی اپنے شوہرکی بہن بھی لگتی تھی کیونکہ وہ دونوں ہی بادشاہ سیتی کی اولاد تھے۔  تیرہ سال کی عمر میں اس کی شادی رعمیسس ثانی سے ہوگئی تھی فرعون رعمسیس ثانی کی عمر اس وقت 15 سال تھی۔ جیسے ہی ان کا باپ بادشاہ سیتی مرا، رعمیسس ثانی نے اس کی جگہ لے لی اور ملکہ نفرتیتی نے بہت مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس کا ساتھ دیا۔ اس فرعون نے بہت لمبی عمر پائی تھی اور اکیانوے سال کی عمر میں مرا۔ لیکن ملکہ نفرتیتی محض چھپن سال کی عمر میں ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔ بادشاہ نفرتیتی سے بے حد محبت کرتا تھا اور اسی لئے اس نے سرکاری طور پر اس کو کم و بیش پندرہ القابات عطا کئے ہوئے تھے، جو اس وقت کے بادشاہوں کی ایک شہنشاہی روایت تھی۔ موت کے بعد بادشاہ نے  ملکہ نفرتیتی کے لیےکوئنز ویلی میں ایک شاندار مقبرہ تعمیر کروایا۔ فرعون کی اور بھی کئی بیویاں تھیں جن سے اس کے بے شمار بچے تھے۔ لیکن اس بڑی ملکہ کی بدقسمتی یہ رہی کہ بادشاہ کی اتنی چہیتی بیوی ہونے کے باوجود ،جب بادشاہ مرا تو ، ملکہ نفرتیتی کے چار وںبیٹوں میں سے کسی ایک کو بھی تخت فرعون نہ مل سکا اور اس کے بجائے یہ بادشاہت اس کی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والے ایک بیٹے کو مل گئی اور اسے فرعون کا تاج پہنا دیا گیا۔ ملکہ نفرتیتی کا مقبرہ 1904ء میں دریافت ہوا تھا۔ یہ ملکائوں کی وادی میں شمال کی طرف ایک نشیب میں واقع ہے۔ جیساکہ پہلے تحریر کیا یہ زمین مقبروں کیلئے اچھی نہ تھی۔خاص طور پر زیر زمین بنائے جانے والے مقبرے بڑے ہی کمزور ہوتے تھے اوپر سے ہر چند سال بعد آنے والے سیلابوں اور موسمی تغیرات نے اس وادی میں موجود تقریباً سارے ہی مقبروں کے بنیادی ڈھانچوں کو بُری طرح نقصان پہنچایا ۔ملکہ نفرتیتی کا مقبرہ بھی اس بربادی سے نہ بچ سکا۔ قیمتی چیزیں تو چور اور لٹیرے لے اڑے تاہم دیواروں پر کیا گیا کئی انچ موٹا پلاسٹر خراب موسمی اثرات کی بدولت تباہ و برباد ہوا اور ان پر بنی ہوئی تصاویر بُری طرح مسخ ہوگئی تھیں ، جن کو اپنی اصلی حالت میں لانے کے لئے اس مقبرے کی مکمل طور پر مرمت انتہائی ضروری تھی۔ اندر سیاحوں کی مسلسل آمدو رفت کی وجہ سے ان کی جانوں کے ضیاع کا خطرہ بھی بہرحال موجود تھا۔ اس لئے یہ مقبرہ 1950ء میں جزوی طور پر بند کر دیا گیا ، تاکہ گرتے ہوئے پلاسٹر اور ستونوں کو کسی طور سہارا دیا جاسکے۔ مگر مرمت کا یہ کا م کئی دہائیوں تک شروع نہ ہوسکا۔ 1986ء میں بالآخر ایک امریکن کمپنی نے اس کام کو سائنسی بنیادوں پر شروع کرکے دو سال میںمکمل کیا۔ اب یہ مکمل طور پر سیاحوں کے لئے کھلا ہے (محمد سعید جاوید کی کتاب ’’مصریات‘‘ سے ایک اقتباس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے