نپولین کے رومان اور اس کی بدکردار بیویاں…..

نپولین

انسانی عظمت:

پیر کے گلی کوچوں اور بازاروں میں عجیب افراتفری کا منظر تھا۔ بچے ، بوڑھے اور جوان پریشانی اور بدحواسی کے عالم میں دوڑتے ہوئے چلے جارہے تھے۔ جگہ جگہ  فوجی گارڈز  کی ٹولیاں ہتھیاروں سے آراستہ گھومتی نظر آتی تھیں ۔ کسی کسی جگہ بندوق اور توپ چلنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ غرض بدنظمی اور شدید خوف ہراس نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا….. رعایا اور فوج نے حکومتِ وقت کے خلاف بغاوت کردی تھی اور شاہی محل کی طرف باغیوں کی پیش قدمی شروع ہوچکی تھی۔

فرانس کی قومی مجلس کے لیے یہ بڑا نازک وقت تھا۔ قومی مجلس نے جس جرنیل کو باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے بھیجا وہ ناکام واپس لوٹا اور باغیوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ قوم مجلس کو باغیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کی صورت میں اپنی بدبختی اور بھیانک انجام کا نقشہ صاف نظر آرہا تھا۔ پہلے جرنیل کی ناکامی کے بعد انہوں نے جنرل بیرس کو ساری فوجوں کا  کمانڈر بناکر باغیوں کی سرکوبی پر مامور کیا۔ مگر بیرس نے اس معاملہ میں اپنی بے بسی کا اظہار کردیا۔

‘‘میں آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا نام پیش کرتا ہوں، جو اس نازک وقت میں ہمارے لیے کارآمد ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے بغیر اور کوئی شخص یہ کام انجام نہ دے سکے گا’’۔ جنرل بیرس نے مجلس کے اراکین سے مخاطب ہوکر کہا ‘‘ وہ کارسیکا کا افسر ہے…. نپولین بونا پارٹ’’…. تمام فوجوں کی کمان اس کے سپرد کردی جائے۔

قومی مجلس کے اراکین نپولین سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ اس لیے کہ ابھی تک نپولین ایک معمولی فوجی افسر تھا۔ چنانچہ اراکین مجلس کا خیال تھا کہ جنرل بیرس جیسے قابل اور تجربہ کار جرنیل نے اپنی جگہ جس شخص کا نام پیش کیا ہے وہ یقیناً کوئی پرانا اور بوڑھا تجربہ کار جرنیل ہوگا، لیکن جب نپولین کو بلایا گیا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک دبلا پتلا نوجوان ان کے سامنے کھڑا ہے۔ نپولین کی عمر اس وقت پچیس سال کے قریب تھی مگر شکل و صورت  سے بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا دکھائی دیتا تھا۔ وہ سمجھے جنرل بیرس نے ان سے مذاق کیا ہے۔ چنانچہ مجلس کے صدر نے نپولین سے سوال کیا:

‘‘کیا تم اس نازک وقت میں مجلس کے تحفظ کا ذمہ لے سکتے ہو؟’’  نپولین نے نہایت متانت اور اطمینان کے ساتھ اثبات میں جواب دیا۔

‘‘کیا تم نے اس کام کی اہمیت اور  گرانباری کا اندازہ کرلیا ہے؟’’ صدر نے دوبارہ سوال کیا۔

‘‘جناب عالی ! میں نے آپ کی بات کو اچھی طرح سمجھ کر اور اس کام کا پورا پورا اندازہ کرنے کے بعد اس کی ذمہ داری قبول کی ہے اور میرا یہ اصول ہے کہ جس کام کا ذمہ لیتا ہوں اُسے پورا کرکے دکھاتا ہوں’’۔ نپولین نے جواب دیا۔

نپولین نے صدر مجلس کی باتوں کا جواب ایسی متانت سے دیا کہ سب کی  دلجمعی کردی اور نپولین کے چہرے اور اس کی عمر کے انداز سے اراکین کو جو غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی وہ دور ہوگئی، چنانچہ مجلس نے پورے اختیارات دے کر فوجوںں کی کمان اس کے سپرد کردی۔ نپولین نے پانچ  ہزار جنگجو سپاہیوں کی کمان ہاتھ میں لی اور چالیس ہزار باغیوںں کو جن کی کمان بوڑھے اور تجربہ کار جرنیلوں کے ہاتھ میں تھی پیس کر رکھ دیا۔ نئی حکومت بن گئی۔  نپولین کو اس عظیم خدمت کے صلہ میں فرانس کی داخلی فوج کا سپہ سالار بنادیا گیا ۔ اور ترقی کا یہ پہلا اور بڑا زینہ تھا جس پر نپولین نے قدم رکھا۔ بعد ازاں اٹلی کی مہم میں اس نے جو حیرت انگیز معرکے سر کیے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس نے فرانس کی عزت کے پرچم کو اتنا بلند کردیا تھا کہ ملک کا ہر فرد اس پر جان نثار کرنے تک کو تیار تھا۔ یورپ اس کے نام سے لرزہ براندام رہنے لگا…. یہ تھی نپولین کی انسانی عظمت!

اخلاقی نامرادی:

جب ہم دنیا کے اس عظیم جرنیل کی اخلاقی زندگی یا جنسی سرگرمیوں پر غور کرتے ہیں تو کہنا پڑتا ہے کہ انسان کی ساری اولوالعزمی اور کوہ ہمتی جو دننیا کی ساری  رکاوٹوں کا تن تنہا مقابلہ کرسکتی ہے۔ ہوائے نفس کی ایک ادنیٰ سی رکاوٹ بھی اپنی راہ سے ہٹادینے پر قادر نہیں ہوتی۔ کہیں وہ کارولین کولوبیا نامی دوشیزہ سے عشق لڑاتا ہے تو کہیں وہ جوانی کے دنوں میں ایک بوڑھی عورت  میڈم پرومون پر لٹو ہوکر اس سے بیاہ کرنے کی فکر کرتا ہے۔ کبھی میڈم پولین، میڈم دی اسٹائل، مسز اربل اور متعدد دوسری عورتوں  کے ساتھ عشق کی پینگیں بڑھاتا ہے۔ غرض اس کے کئی معاشقوں کی داستانیں کتابوں میں موجود ہیں۔ ۔ جرمنی میں  ‘‘نپولین اور اس کی دوست عورتیں’’ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں اس کی عاشق مزاجیوں کی تمام داستانیں اکٹھی کردی گئیں ہیں۔ ان میں جوزیفین اور میری لوئیس خاص طور پر قابل ذکر ہیں کیونکہ انہیں دو عورتوں  سے نپولین نے شادی کی اور یہی اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں ‘‘ اٹھاروہویں صدی میں نپولین بونا پارٹ کا ظہور  انسانی الوالعزمی کا ایک عظیم ظہور تھا۔ شاید ہی  یورپ کے کسی انسان کی نسبت دنیا نے اس قدر کہا اور سنا ہو جس قدر اس غیر معمولی انسان کی عجیب و غریب دماغی قوتوں کی نسبت کہہ سن چکی ہے تاہم انسانی عظمت کی اخلاقی نامرادی کا یہ کیسا عبرت انگیز منظر ہے کہ یہی نپولین جب میدان جنگ سے باہر اپنے گھر کی محفوظ زندگی میں دیکھا جاتا ہے تو اس میں اتنی قوت بھی نظر نہیں آتی کہ نہایت ادنیٰ درجہ کی اخلاقی کمزوریوں سے اپنے آپ کو باز رکھے۔

محبت کے باب میں نپولین کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ ‘‘ محبت کاہل آدمی دل بھلاوا ہے’’۔ ممکن ہے نپولین  نے یہ اس وقت کہا ہو جب وہ پاک دامن تھا لیکن بعد میں اگر مخالف مورخین کی روایت تسلیم کرلی جائے تو اس نے اس قول کی بناء پر حسن و ہوس کی زندگی سے اجتناب نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی حسینہ سے وابستہ رہا۔

پہلا عشق:

آغاز شباب میں نپولین مارسیلز اور پیرس کی سڑکوں پر پھٹے پرانے کپڑے پہنے پھرا کرتا تھا۔ نہ اس کی ہیئت سے کسی کو دولت مندی کا شبہ ہوسکتا تھا ۔ نہ اس میں ظاہری حسن و جمال ہی کچھ ایسا غیر معمو

میری لوئیس
 

لی تھا کہ کسی کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی بکثرت عورتیں اس پر عاشق ہوگئی تھیں  کیونکہ اس میں فی الواقع کوئی ایسی نامعلوم کشش موجود تھی جو دلوں کو لبھالیتی تھی ۔ ممکن ہے اس کا شرمگیں انداز اور اس کے پرنور چہرہ کی عجیب اداسی اس کے دیکھنے والوں میں محبت پیدا کردیتی ہو۔

 

کہا جاتا ہے کہ نپولین سولہ برس کی عمر میں جب والنسا میں رہتا تھا تو وہاں کی بہت سی حسین عورتیں اس پر فریفتہ ہوگئی تھیں مگر خود اسے بجز ایک کے کسی سے دلچسپی نہیں ہوئی۔ اس دوشیزہ کا نام کارولین کولومبیا تھا۔ وہ نہایت نازک اندام اور خوبصورت تھی۔ ایک مرتبہ خود نپولین نے اس لڑکے متعلق کہا تھا ‘‘ اس وقت دنیا میں کوئی دو شخص ایسے خوش نصیب نہ تھے جیسے ہم دونوں تھے۔ ہم ایک ایسی پاک محبت کے مزے لوٹ رہے تھے جیسی خواب میں بھی کسی انسان نے نہ دیکھی ہوگی…. اکثر ہم دونوں باغوں میں چلے جاتے اور درختوں پر چڑتے اُترتے ۔ بار بار ہم دن دن بھر مخلوق کی نظروں اور شہر کے شوروغل سے دور بیٹھے باتیں کیا کرتے تھے’’۔

دوسرا عشق :

لیکن امتدادِ زمانہ نے نپولین کے دل سے اس دوشیزہ  کی یاد محو کردی اور اسے اپنی ایک ہم وطن لڑکی سے عشق ہوگیا۔ نپولین شروع ہی سے سخت گیر تھا۔ اس نے اپنی محبوبہ کو سختی سے حکم دے دیا تھا کہ اس کے سوا کسی کو بھی مسکرا کر نہ دیکھے۔ لڑکی کے دل میں اس جابرانہ حکم سے نفرت پیدا ہوگئی اور اس کے پنجے سے نکلنے کے لیے اس نے ایک دن شراب میں زہر ملادیا اور نپولین مرتے مرتے بچا۔

تیسرا عشق:

اس واقعہ سے کچھ عرصہ بعد نپولین کو ایک ادھیڑ عمر عورت میڈیم پرومون سے محبت ہوگئی اور اس قدر بڑھی کہ ایک لمحہ بھی اس کی جدائی گوارا نہ کی۔ ایک دن نپولین  نے اس سے باضابطہ شادی کرلینے کی درخواست کی۔ عورت نے اس خواہش پر زور سے قہقہہ لگایا ‘‘ تم بے وقوف ہوگئے ہو، مضحکہ بننا چاہتے ہو۔ بھلا لوگ کیا کہیں گے ۔ بیوی ہونے کے بجائے میں تمہاری ماں بننے کے زیادہ قابل ہوں’’۔

نپولین پر یہ بات نہایت ناگوار گزری اور اس سے قطع تعلق کرلیا۔

نپولین کا طریقۂ عشق:

ایک مورخ کا بیان ہے کہ نپولین نے بے شمار عورتوں کا دل توڑا ہے۔ اس کی عادت تھی کہ تعلقات بڑھائے جاتا تھا اور جب عورت اس کے دام محبت میں پھنس جاتی تو بے اعتنائی سے  بالکل اسے چھوڑ دیتا تھا۔ چنانچہ میڈم ولسکا پولینڈ کی ایک حسینہ واقعی اس بات کا کافی ثبوت ہے۔ نپولین نے اس عورت کو دیکھا اور لبھانا چاہا مگر اس سے سخت نفرت کا اظہار کیا۔ نپولین نے اسے قبضہ میں لانے کی بہت کوشش کی، مگر وہ برابر منع کرتی رہی۔ آخر ایک دن غضبناک ہوکر چلایا ‘‘ تو دیکھ لے گی میں تجھے کس طرح زیر کرتا ہوں ، تجھے میرے ارادے کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ دیکھ یہ میرے ہاتھ میں گھڑی ہے۔ جس طرح یہ گھڑی چُور چُور کیے ڈالتا ہوں اسی طرح پولینڈ کا ملک بھی پاش پاش کرکے پھینک دوں گا’’۔

اس نے یہ کہا اور گھڑی زور سے دیوار پر مار دی۔ اس حرکت کا عورت پر اتنا شدید اثر ہوا کہ وہ بے ہوش ہوکر نپولین کے قدموں میں گرپڑی۔ لیکن چند دنوں کے بعد ہی نپولین نے اسے اپنا کر چھوڑ دیا۔

محبت میں استبداد:

عشق و محبت کے میدان میں بھی اس شخص کے ظلم و استبداد کے قصے مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ غربت کے زمانے میں جب نپولین اور اس کا بھائی مارسیلز  کے بازاروں میں پھرا کرتے تھے، اتفاق  سے ریشم کے ایک سوداگر  ‘‘فرانسوا کلاری’’ کے خاندان سے ان کا تعارف ہوگیا۔ اس تاجر کی دو لڑکیاں تھیں ۔ بڑی کا نام جولیا تھا ، چھوٹی کا نام ڈیزیرا۔ نپولین نے شروع میں جولیا کو پسند کیا اور اس کے بھائی نے ڈیزیرا کو۔ تھوڑے دن بعد نپولین اپنی محبوبہ سے سیر ہوگیا اور بھائی کی محبوبہ پر قبضہ جمانا چاہا۔ چنانچہ ایک موقع پر جب یہ چاروں عاشق و معشوق جمع تھے۔ نپولین نے تحکمانہ انداز میں کہا  ‘‘جوزف!تم اور تمہاری محبوبہ دونوں غیر مستقل مزاج ہیں لیکن مجھ میں اور میری محبوبہ میں استقلال ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم تم مبار کرلیں تاکہ تمہارا نقص جولیا پورا کردے اور میں ڈیزیرا کی کمی پوری کردوں’’۔

یہ عجیب و غریب فلسفہ بیان کرکے اس نے اپنے بھائی کی محبوبہ کو اپنے  پہلو میں بٹھالیا اور کسی کو بھی مخالفت کی جرات نہ ہوئی، لیکن تھوڑے ہی دن کے بعد نپولین  نے محسوس کیا کہ عزت و عظمت کی راہیں اس کے سامنے کھلی ہوئی ہیں۔ لہٰذا ڈیزیرا کو یک قلم چھوڑ دیا۔

چوتھا عشق:

جوزیفائن

اس کی طبیعت کچھ ایسی بے چین واقع ہوئی تھی کہ ایک ہی حالت پر چلے جانا اسے پسند نہ تھا۔ سابق محبت سے دستبردار ہونے کے تھوڑے ہی دن بعد وہ جوزیفائن پر فریفتہ ہوگیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اکتوبر 1795ء میں جب نپولین بامِ عزت کی ابتدائی سیڑھیوں پر تھا۔ اس کے پاس ایک کم عمر لڑکا آیا اور اپنے باپ کی تلوار مانگی۔ یہ لڑکا فرانس کے مشہور سپہ سالار الیگزینڈر بیوہارنائس کا بیٹا تھا جسے فرانسیسی انقلاب کے زمانے میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ نپولین بچے کی جرأت اور فصاحت سے بڑا خوش ہوا اور اس کی درخواست منظور کرلی۔ دوسرے دن اس کی ماں شکریہ ادا کرنے آئی۔ یہی جوزیفائن تھی۔ نپولین پہلی ہی نظر میں اس پر عاشق ہوگیا۔

جوزیفائن سے شادی :

دوسرے دن  خود نپولین جوزیفائن کے چھوٹے سے مکان پر گیا۔ جوزیفائن واقعی بہت خوبصورت تھی۔ ساتھ ہی ساتھ عقلمند بھی تھی۔ اس نے محسوس کرلیا کہ نپولین اس کی چشم و ابرو کا شکار ہوگیا ہے۔ چونکہ اسراف کی وجہ سے سابقہ شوہر کی تمام دولت خرچ کرکے مقروض ہوچکی تھی۔ اس لیے اس نے بھی اس نئی دعوت کا پوری طرح سے استقبال کیا اور تعلقات بڑھانا شروع کردیے۔ چند ماہ کی آمد و رفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مارچ 1796ء میں جنرل بونا پارٹ اور جوزیفائن کی شادی ہوگئی۔ دلہن کی عمر دلہا سے سات سال زیادہ تھی مگر نکاح نامہ میں اس کی عمر انتیس سال لکھی گئی اور نپولین کی چھبیس برس۔

طویل فراق:

شادی کو دو ہی دن گزرے تھے کہ نپولین کو اٹلی کے محاذ پر جانا پڑا۔ اس مہم میں نپولین نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے کہ اگلے سال میں اُسے کمانڈر انچیف بنادیا گیا۔

یہ پہلا موقع تھا جس میں نپولین نے اپنی عظیم الشان جنگی ہنرمندیوں اور خداداد صلاحیتوں کا بہترین عملی نقشہ پیش کیا ۔ یورپ کی بہت سی طاقتیں اس کے خلاف جمع تھیں اور وہ اکیلا صرف پینتس ہزار سپاہ کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ اٹلی کی فوج میں بیسیوں پرانے اور تجربے کار بوڑھے جرنل تھے مگر ان کے مقابلے میں نپولین ناتجربہ کار اور کمر عمر تھا۔ زیادہ سے زیادہ چھبیس سال کی عمر ہوگی تاہم اس لڑائی میں اس نے قوموں اور ملکوں کی تقدیروں کے فیصلے کردیے۔ کامل ایک سال تک اس محاذ پر لڑتا رہا ۔ اس کی مصروفیت بہت زیادہ تھی مگر اس کے باوجود وہ جوزیفائن کی یاد ہر دم تازہ تھی۔ جنگ کے دوران وہ ہر منزل سے جوزیفائن کو محبت بھرے خطوط لکھتا بلکہ قاصد ساتھ بھیجتا تاکہ اپنی حالت سے اُسے آگاہ رکھے۔ دوسری طرف جوزیفائن کی عیاشیاں بام عروج پر تھیں۔ نپولین کے سبب اسے پیرس میں بہت عزت اور مقام حاصل تھا، سو اس نے بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات بڑھائے۔ جب یہ خبریں نپولین تک پہنچیں تو اس نے جوزیفائن کو اٹلی کے شہر میلان طلب کرلیا۔ جوزیفائن اپنےشوہر کے حسب الحکم جنگی پڑاؤ میں تو آگئی لیکن یہاں بھی اس کی آوارہ طبیعت کو چین نہ ملا۔ یہاں جوزیفائن نے فوج کے ایک کم رتبہ لیکن جوان اور خوبصورت افسر سے ناجائز تعلقات استوار کرلیے۔  ان تعلقات کی خبریں نپولین تک پہنچ گئیں لیکن وہ اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش رہا، اتنا ضرور کیا کہ اپنے اس رقیب کو فوج سے نکال کر واپس پیرس بھیج دیا۔  اٹلی کی جنگ سے فارغ ہونے کے بعد نپولین مصر چلا گیا۔ اور ملکہ جوزیفائن تو جیسے ایک قید سے آزاد ہوگئی، اس کی بے اعتدالیوں اور عیاشیوں کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ یہاں تک کہ وہ لاکھوں فرانک کے قرضے میں ڈوب گئی تھی ۔ نپولین نے مصر سے واپسی پر اس کا  بیس لاکھ فرانک پر مشتمل قرضہ تو ادا کردیا لیکن اب جوزیفائن نپولین کے دل میں اپنی جگہ کھوچکی تھی ، چنانچہ نپولین نے اسے طلاق دے دی ۔ کچھ لوگ اس طلاق کی وجہ   نپولین اور جوزیفائن کی اولاد نہ ہونے کو بھی قرار دیتے ہیں۔  جوزیفائن کے بعد نپولین  نے آسٹریا کی شہزادی میری لوئیس سے شادی رچائی ۔ یہ شہزادی جتنی  خوبصورت تھی اتنی ہی زیادہ مغرور بھی، نپولین کی فتوحات اور کارنامے اس کے سامنے کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔  اپنی حسین و جمیل بیوی کی بے رخی کا شکار نپولین اب  میڈم میتھس نامی ایک اٹیلین حسینہ کے عشق میں مبتلا ہوا۔  نپولین  اسے بھی میدان جنگ سے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا۔  میری لوئیس سے نپولین کو ایک بیٹا تو ہوا جسے اسی دن شاہ روما بنادیا گیا۔ لیکن یہ شادی کبھی کامیاب نہ ہوسکی، اس کا کچھ سبب گردش حالات بھی تھے۔ نپولین کا روس پر حملہ بری طرح ناکام رہا، بعد ازاں اتحادی افواج اس پر ٹوٹ پڑیں، اور اسے ایلبا نامی ایک جزیرے میں منتقل کردیا گیا تب  ایک بیوی کی حیثیت سے میری لوئیس نے نپولین کا ساتھ دینے کے بجائے اپنے باپ کا پاس رہنا زیادہ مناسب سمجھا۔  نپولین نے اس دوران اپنی بیوی میری لوئیس کو  بہت سے خطوط لکھے ، لیکن اس نے ان کا جواب دینے کے بجائے  اُلٹا اتحادی افواج  کو نپولین کی مخبری کرنی شروع کردی کیونکہ وہ دوبارہ نپولین کی زندگی کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھی۔ نپولین کی زندگی میں آنے والی اس آخری عورت اور اس کی دوسری بیوی میری لوئیس نے مرتے دم تک نپولین سے اس کی بیٹے کو ملنے نہ دیا اور نہ کبھی خود ملنے آئی۔ نپولین ان کی یاد میں اس قدر دل گرفتہ تھا کہ  بستر مرگ پر اس نے اپنے ڈاکٹر کو یہ وصیت کی کہ موت کے بعد میرا دل شیشے میں اُتار کر میری بیوی میری لوئیس  کے پاس لے جانا۔ لیکن جب یہ ڈاکٹر یورپ کے اس عظیم ترین سالار کا دل لے کر ملکہ میری لوئیس کے پاس حاضر ہوا تو وہ  ایک کانے عہدے دار  کے ساتھ ہمبستری میں مصروف تھی۔ ملکہ نے نپولین کا پیغام نہایت حقار ت سے سنا، اور کہا کہ میرے دل میں اس شخص کے لیے کوئی محبت نہیں، میں صرف یہ بات یاد رکھنے پر مجبور ہوں کہ وہ میرے لڑکے کا باپ ہے اور یوں  کئی لڑکیوں کے حسن سے کھیلنے والا یہ شخص جس کی ہمت کی مثالیں یورپ دیتا ہوا نہیں تھکتا۔ زندگی کے آخری دنوں  میں اپنی بیوی اور بچے سے ملنےکی آرزو لیے اس دنیا سے رخصت ہوا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے