نیاگرا آبشار کے نیچے ہزاروں برس سے روشن ایک شعلہ!

نیاگرا

گزشتہ  چند عشروں سے کرۂ ارض کو عجیب وغریب تغیرات کاسامنا ہے۔ بعض  متعلق ماہرین کی متضادآرا ء سامنے آئی ہیں۔ماحولیات  کے ماہرین انہیں   مختلف سائنسی ناموں سے موسوم کرتے ہوئے ان کی ممکنہ وجوہات  بھی بتاتے ہیں اس کے باوجود کئی معاملات میں پراسراریت  قائم  ہے ۔ایسا ہی معاملہ امریکی ریاست  نیویارک کے ایک آبشار کا بھی ہے۔

متحدہ امریکہ کے شمال مشرق کی مشہور ریاست نیویارک کے شمال مغرب میں کینیڈاکے صوبہ اونٹاریو  اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سرحد پر واقع دنیا کی مشہور ترین آبشار نیاگرا کو جسے حسن فطرت کا عظیم شاہکار اور دنیا کے قدرتی عجائبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔    یہ آبشار براعظم امریکہ کی دو بڑی  جھیلوں ایری اور اونٹاریو کو آپس میں ملاتا ہے۔   اس آبشار کے علاوہ ایک اور آبشار ہے جو نیاگرا کے قریب موجود ایری  کاونٹی کے ایک پارک میں موجودہے ، یہ نیاگرافال کی طرح بڑی تو نہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس آبشار کے نیچے ہزاروں برس سے ایک شعلہ روشن ہے۔یہاں آنے والے سیاح  تیزی سے گرتے پانی کی چادر کے نیچے بھڑکتا ہوا شعلہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔

نیاگرا فالامریکی ریاست نیویارک کے مغرب میں ایری کاونٹی  کے شہر بفالو کے قریب اوکیڈ پارک ٹون میں موجود ایک چھوٹا سا پارک ‘‘چیس نٹ رج پارک’’ Chestnut Park Ridge کے نام سے مشہور ہے۔ یہ پارک  شاہِ بلوط کے درختوں سے بھرا پڑا ہے۔  اس پارک کے جنوب میں Seufert روڈ  اور شیل کریک  کے درمیان واقع ایک بڑے آبشار کے نیچے برسوں سے ایک شعلہ جل رہاہے جو دور سے واضح طورپر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسکے اوپر زور دار آبشار سالہا سال سے بہہ رہاہے۔ شمال مغرب کی جانب رخ کیے ہوئے یہ آبشار 10 فٹ چوڑی اور 30 فٹ بلند ہے۔ آبشار کے نیچے دائیں جانب ایک چھوٹی کوہ grotto  سی پائی جاتی ہے جس میں ایک شعلہ ہمیشہ جلتا نظر آتا ہے، شعلے کی اونچائی 3 سے 8 انچ تک ہوتی ہے۔ پانی کے بہاؤ، ہوا کے دباؤ اور برف کی وجہ سے کبھی کبھار شعلہ بجھ جاتا ہے لیکن پھر  دوبارہ روشن ہوجاتا ہے۔ بڑی تعداد میں سیاح یہ دلچسپ منظر دیکھنے آتے ہیں۔ یہ آبشار سائنسدانوں اورماہرین ارضیات کے لیے  معمہ بنا ہواہے۔

بہت عرصہ قبل امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے آبشار کے نیچے روشن شعلے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں کوئی خاص بات معلوم نہ ہوسکی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی رپورٹ میں پانی کے نیچے موجود پتھروں سے گیس کے اخراج کو شعلے کا سبب قرار دیاتھا۔

سائنسدانوں کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پانی کے نیچے فوری آگ  پکڑنے والی گیس اورSchist نامی پرت دار چٹان ،جو مختلف معدنیات کی تہوں سے بنتی ہے) موجود ہے۔جس سے پانی کے اندر حرارت پیدا ہوتی ہے اوروہ حرارت پانی کی ٹھنڈک کے سبب پانی کے اوپر اپنا اثر دکھانے کے بجائے پانی  کے اندر شعلے کی شکل میں نظر آرہی ہے لیکن مدت بعد کی جانے والی دوسری تحقیق نے اس کی نفی کردی، جس سے آبشار کے نیچے روشن شعلے کی پراسرایت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ریسرچ کے حوالے سے  شہرت رکھنے والی امریکن انڈیانا یونیورسٹی  Indiana University Bloomingtonکے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق  کے بعد الذکر رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے پانی کے نیچے  کسی ایسی گیس کے وجود کی نفی کردی ہے۔ان کی تحقیق  کے مطابق آبشار کے نیچے ایسی کسی گیس کی موجودگی کے اثرات نہیں پائے گئے  جس کی حدت سے پانی کے اندر آگ کا الاؤ روشن ہوسکے۔

پانی کے اندر گیس کی دو قسمیں EthaneاورPropaneکا وجود ضرور ہے لیکن ان کی حدت  اس قدر ہوتی ہے کہ جتنی کہ چائے کی ایک پیالی کے اندر پائی جاتی ہے۔اتنے طویل  عرصے سے  شعلے کا پانی کے نیچے مسلسل روشن رہنا  حیرت انگیز ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے