وادیٔ مہران کے سائیں! سچل سر مست

سچل سر مست

دوپہر کے وقت جب گرمی اپنے عروج پر پہنچ گئی تو گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لئے ایک بزرگ ملتانی مٹی جسم پر مل کر رہٹ  (کنویں) کے پاس بیٹھے تھے کہ مٹی خشک ہوجائے تو ٹھنڈے پانی سے غسل کیا جائے۔

یہ اٹھارویں صدی عیسوی کے دور کی بات ہے۔ جو نہایت افراتفری اور انتشار کا دور تھا برِ صغیر میں مغل اقتدار کا سورج زوال پذیر ہوچکا تھا۔ مذکورہ بزرگ کا تعلق سندھ کے شہر درازا سے تھا، سندھ میں اُس وقت کلہوڑا خاندان لمبے عرصے تک برسر اقتدار رہنے کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹ رہا تھا اور ٹالپر خاندان، کلہوڑوں، راجپوتوں اور سکھوں سے لڑائیاں لڑتے ہوئے سندھ کے اقتدار کی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں انگریز خاموشی سے اپنے اثرونفوذ میں اضافہ کررہے تھے۔

ابھی ان بزرگ کو مراقبہ کی کیفیت میں بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ     والی ٔ ریاستِ خیر پور میر صاحب کی سواری اُس طرف سے گزری جو شکار سے واپس آرہے تھے۔ ان کے ہمراہ امراء و وزراء کا ایک لشکر تھا۔

یہ لوگ درازا  شہر کے اِن صوفی بزرگ کے خاندان سے نہایت عقیدت رکھتے تھے۔ اُنہیں دیکھا تو سواری لی۔

والیٔ ریاست  میر صاحب صوفی بزرگ  کی قدم بوسی کرنے کے لیے آگے بڑھے مگر انہیں ملتانی مٹی میں لتھڑے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے اور دُور کھڑے ہو کر خیریت دریافت کرنے لگے۔

بزرگ نے نگاہ اُٹھائی اور حکمرانوں کی سواری دیکھ کر اُسی طرح بیٹھے بیٹھے سلام کا جواب دیا۔

اسی اثنا میں میر صاحب کے چھوٹے بھائی  مراد علی   جو قافلے کے آخری پر تھے، فوراً والہانہ طور بڑھے اور اُن بُزرگ  کے کے قریب آکر اُن کی قدم بوسی کی ۔   صوفی بزرگ نے کھڑے ہوکر اُنہیں گلے سے لگالیا  اور ان کو بہت زیادہ دعائیں دیں ۔

گلے لگنے سے بُزرگ   کے جسم پر لگی ملتانی مٹی میر مراد علی کے شاہانہ لباس پر بھی لگ گئی۔

بزرگ نے یہ دیکھ کر پھر  والیٔ ریاست سے مخاطب ہوئے۔‘‘‘‘تم جس کو ملتانی مٹی سمجھ کر میرے سے دور رہے۔ وہ ملتانی مٹی نہ تھی بلکہ جاہ و اقبال کی مہندی کا رنگ تھا جو چھوٹے میر صاحب میر علی مراد خان کو لگ گیا ہے۔’’ یہ کہتے ہوئے بزرگ کی نگاہیں دُور خلاء میں کسی چیز پر مرکوز تھیں۔  بات کسی کے سمجھ نہیں آئی۔ لیکن یہ واقعہ بہت مشہور ہوگیا اور بُزرگ  کے الفاظ بھی….

دراصل یہ  دعا ایک  پیش گوئی تھی جس کی تصدیق اُس وقت ہوئی جب میر مراد علی نے سندھ کا اقتدار سنبھالا اور  1843ء میں  جب انگریزوں نے میران سندھ سے حکومت چھین کر برطانوی حکومت کا پرچم لہرایا ، تو برطانوی اقتدار کے دور میں اس وقت سندھ میں صرف خیرپور ہی ایک ایسا علاقہ تھا جہاں میر علی مراد خان کی ریاست برقرار رہی ۔

درازا شہر کے ان بزرگ کا نام حافظ عبدالوہاب  فاروقی  تھا۔ لیکن لوگوں میں آپ سچل سرمست کےنام سے مشہور تھے۔   آپ کی سچائی کی نسبت سے ہی آپ کو ‘‘سچل’’،  سچُو اور سچے دینہ کہا جاتا تھا۔ ‘‘سچل’’ آپ کا تخلص  بھی تھا اور    جذب واستغراق کے غلبے کی وجہ سے ‘‘سرمست’’ زبان زدِ عام تھا۔

سچل سرمست یعنی حضرت حافظ عبدالوہاب فاروقی   کا شجرہ نسب مختلف واسطوں سے حضرت عمر فاروق ابن خطابؓ سے جا ملتا ہے۔  حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی وفات کے بعد آپ کے پوتے شیخ شہاب الدین بن عبدالعزیز حجاز سے ہجرت کرکے  عراق آباد ہوگئے۔ عراق کے گورنر حجاج بن یوسف ثقفی نے جب نوجوان محمد بن قاسم کو سندھ کی تسخیر کے لیے روانہ کیا تو یہ جلیل القدر شخصیت یعنی شیخ شہاب الدین فاروقی بھی محمد بن قاسمؒ کے ہمراہ مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے ساتھ تھے۔ شہاب الدین فاروقی اپنے عہد کے مدبر اور سیاست دان تھے۔   جب سندھ پر پہلے  اسلامی لشکر کے سپہ سالار بدیل کو شکست ہوئی تو شہاب الدین فاروقی نے ہی حجاز بن یوسف کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے سرحدی علاقوں میں تبلیغ اسلام کے لیے علماء اور مبلغین روانہ کیے جائیں۔ آپ کی یہی  تجویز سندھ کی کامیاب فتح  کا سبب بنی۔ سندھ کی فتح کے بعد   محمد بن قاسم نے  شیخ شہاب الدین  کو سیوستان کے حاکم مقرر  کیا، آپ نے سندھ کے لوگوں کی خوشحالی کے لیے مفید کام کیے  جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ کے غیر مسلم قبائل جوق در جوق اسلامی برادری میں شامل ہوگئے اور اسلام کی بنیادیں سندھ کے اندر مستحکم ہوگئیں۔  95ھ میں شیخ شہاب الدین  کی وفات کے بعد ان کے فرزند شیخ محمد فاروقی (وفات 144ھ) ان کے جانشین ان کے بعد شیخ محمد باقی، شیخ عبداللطیف، شیخ اسحٰق فاروقی نے حکومت سنبھالی اور ان کے بعد 193ھ میں شیخ محمد فاروقی نے فرمانروائی کا منصب سنبھالا۔ یہ منصب اس خاندان کے پاس سلطان محمود غزنوی کے غلبے تک موجود رہا۔  محمود غزنوی نے  فاروقی خاندان    کو اپنے دربار میں عہدہ دے کر   وظیفہ مقرر کیا ،  اس طرح یہ فاروقی خاندان  کئی سو  سالوں (617ھ   )تک  سندھ کے حکومتی امور میں شامل  رہا۔

221ھ میں شیخ محمد بن اسحٰق فاروقی ؒ کی اولاد میں سے چند لوگ  ہجرت کرکے خداداد اور پھر تھرپارکر آبسے۔ ان کی اولاد میں مخدوم نورالدین  نے علم و فضل میں بہت نام کمایا،  اُن کے چار بیٹے  بھی عالم فاضل ہوئے جن میں مخدوم ابو سعید حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے مرید اور خلیفہ ہوئے۔   مخدوم ابو سعید کی  اولاد میں ایک صاحب میاں احمد  خیر پور کے حاکم میر سہراب خان  کے  دربار سے منسلک ہوئے اور ان کی وفاداری کے عوض انہیں خیرپور میں گمبٹ اور رانی پور کے درمیان ایک  جاگیر عطا کی گئی۔ اس طرح یہ خاندان خیر پور میں آباد ہوگیا ۔  مخدوم ابو سعید کا مزار خیر پور کے قصبے رانی پور میں ہے۔ آپ کی اولاد میں،  خواجہ محمد حافظ عرف میاں صاحب ڈنہ (ڈنو) فاروقی ایک جلیل القدر درویش مشہور تھے۔

کلہوڑہ خاندان کی سندھ پر حکومت تھی، جہاں  میاں صاحب ڈنہ (1101 تا 1192ھ)ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہوئے۔  ایک روز صاحب ڈنہ  کسی کام سے کوٹری کبیرہ ضلع نواب شاہ سے ڈیونوں کے گاؤں جارہے تھے کہ   راستے میں جنگل میں  ان کو ایک مجذوب عورت بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ جن  کا نام بی بی بصری تھا۔  اس نے آواز دی اور فرمایا ‘‘اے صاحب ڈنہ! خدا تم سے بہت بڑا کام لینا چاہتا ہے،  تم کہاں جارہے ہو، جلدی واپس لوٹ جاؤ۔’’

بی بی بصری کی چشم التفات  اور الفاظ نے میاں صاحب ڈنہ  کی زندگی میں ہلچل مچادی، اس کے بعد صاحب ڈنہ نے  میراں کی ملازمت چھوڑ کر درویشی اختیار کرلی، کہتے ہیں کہ کم  و بیش ساڑھے چار سال آپ نے جنگل میں چلہ کشی کی  اور پھر حضرت خواجہ عبداللہ جیلانیؒ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادیؒ کی اولاد میں سے تھے۔   صاحب ڈنہ نے ضلع خیر پور میں قصبہ رانی پور سے ایک میل کے فاصلے پر ‘‘دراز  شریف’’ نامی ایک گاؤں میں   سکونت اختیار کی اور یہی ایک درگاہ    قائم کی  اور اس میں گوشہ نشین ہوگئے ۔  صاحب ڈنہ کے دو بیٹوں خواجہ عبدالخالق اور خواجہ صلاح الدین      نے  بھی اپنے والد کے نقش قدم پر زندگی گزاری۔

1152ھ بمطابق  1739ء کو  خواجہ صلاح الدین  کے گھر میں ایک  فرزند ارجمند کی پیدائش ہوئی جس کا نام خواجہ عبدالوہاب  فاروقی رکھا گیا۔

بچپن سے ہی خواجہ عبدالوہاب  کے چاچا اُنہیں معصومیت اور    کو صاف گوئی کی وجہ سے  ‘‘سچو ڈنہ’’ اور ‘‘سّچل ’’  یعنی سچ بولنے والا ، کے نام سے پُکارتے۔   آپ کے والدِ محترم نے آپ کی تعلیم وتربیت پر اوّل روز ہی سے تو جّہ دینا شروع کردی تھی ۔روزانہ آپ کے کانوں میں اذان دیتے اور آپ کو گود میں لے کر باآوازِبلند قرآن مجید کی تلاوت سُناتے ۔   سچل ابھی عمر کے چھٹے سال میں تھے کہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ چنانچہ اس در یتیم کی پرورش  کی ذمہ داری آپ کے دادا خواجہ  محمد حافظ اور چاچا  خواجہ عبدالخالق نے اُٹھائی۔  ایک  روایات یہ بھی ہے کہ والدۂ ماجدہ کے انتقال کے بعد آپ کے چچا نے آپ کے لیے ایک حبشی آیا کا انتظام کیا۔ جس نے بڑی شفقت ومحبت سے آپ کی پرورش کی ، اس حبشی آیا کا نام جوشیدی تھا  مگر آپ اُنہیں امّاں کہہ کر پکا رتے تھے، اس لفظ میں نامعلوم کیا چاشنی و شیرنی تھی کہ وہ آیا یہ لفظ سن کر نہال ہوجایا کرتی تھی۔گھر میں صوفیانہ ماحول تھا اسی میں ان کی پرورش ہوئی اور یہی ساری زندگی ان کے رگ و پے میں بسا رہا۔

سچل  کے دادا خواجہ محمدحافظ میاں صاحب ڈنہ، مشہور بزرگ اور صوفی شاعر  حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کے ہم عصر بزرگ تھے اور شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ ؒسے بڑی عقیدت ومحبت کے تعلقات رکھتے۔ ایک دن میاں صاحب ڈنہ  نے شاہ عبد اللطیف کو اپنے گھر دعوت پر مدعوکیا ، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، صاحب ڈنہ سے ملاقات کے لئے درازا تشریف لائے۔ اُس وقت سچل کی عمر سات آٹھ سال تھی۔    ملاقات کے وقت حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒنے قوتِ کشف سے جان لیا کہ آپ مستقبل میں معرفت کے اعلیٰ مقام پر ہوں گے۔ شاہ صاحب نے سچل سرمست سے وحدانیت سے متعلق چند سوالات کیے ، جن کامدبّرانہ جواب سُن کر آپ کے مرشد بھی حیران ہوگئے ۔ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی نگاہِ باطن نے اس بچے کی منزلت ومعرفت کو پہچان لیا اور اس موقع پر شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒنے فرمایا :‘‘ہم نے معرفت کی لذّت اگر چہ دل میں محسوس کی ہے، تاہم جو دیگ ہم نے پکائی ہے اس کا ڈھکن سچّل ہی اُتاریں گے ۔’’

سندھی زبان میں شاہ صاحب کا یہ  تاریخی جملہ

اسان جيڪو ڪُنو چاڙهيو آهي،

تنهن جو ڍڪڻ هيءُ نينگر لاهيندو!

 ‘‘جو ہانڈی ہم نے پکائی ہے اُس کا ڈھکنا یہ بچہ  ہی اُٹھائے گا’’….

شاہ  صاحب کی پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی،  اہل سند ھ کا آج بھی اعتقاد ہے کہ  شاہ لطیف  نے اپنی شاعری  سے تصوف کو واضح کیا ،  اسے سچل سرمست  نے  اپنی شاعری  سے بامِ  عروج پر پہنچایا ۔

جب سچّل سرمست 13برس کے تھے ،حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ وصال فرما گئے تاہم سچل سرمست نے آپ کے خلیفہ حضرت میاں سخی قبول محمد سے رابطہ رکھا ۔

سچل سرمست کو سب سے پہلے ان کے چچا  خواجہ عبدالحق نے حافظ عبداللہ قریشی صدیقی کے پاس حفظ قرآن کے لیے بھیجا۔ آپ نہایت کم عمری میں قرآن مجید ازبر کرکے حافظ اور قاری بن گئے اس کے بعد آپ کو چچا نے از خود فارسی اور عربی کی تعلیم  دینا شروع کی۔ ذہانت  کا یہ عالم تھا کہ چودہ برس کی عمر میں تمام علومِ ظاہری کی تکمیل کرلی۔

حضرت سچل سرمست کی بچپن سے ہی تحمل مزاج، خاموش طبع، ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔  غریبوں، مسکینوں، محنت کشوں اور کسانوں سے ان کو دلی ہمدردی تھی۔ خدا ترسی، انسان دوستی اور خدمت خلق کا جذبہ ان کی شخصیت میں شروع سے موجود تھا۔ دینی تعلیم و تربیت اور صوفیانہ ماحول نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ عبادت و ریاضت اور محتاجوں کی امداد و اعانت کے کاموں میں اتنے منہمک رہتے تھے کہ عالم جوانی میں بھی سیر و تفریح سے کوئی واسطہ نہ رکھا۔  تن تنہا بیٹھ کر آپ کتب کا مطالعہ فرماتے خاص طور پر شیخ ابن عربی اور خواجہ فرید الدین عطار کا  بہت شوق سے مطالعہ کرتے۔

علم تصوف و معرفت کے اسرار و رموز سے بھی آپ کو خواجہ عبدالحق نے ہی آگاہ کیا۔     خواجہ عبدالحق نے   جب آپ کے اندر شمع عرفان کی مشعل روشن کردی تو    آپ ؒ  کو اپنی بیعت میں لے کر خرقہ خلافت سے سرفراز کیا۔  اس موقع پر جو نصیحت آپ کو فرمائی گئی، وہ متلاشیانِ طریقت کے لیے ہر زمانے میں رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپ کے مرشد نے فرمایا : ‘‘بیٹا !عشقِ الٰہی اپنی شال ،ذکر ِالٰہی اپنی قال اور حکم الٰہی کو اپنا مال بنانا۔ قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالو،خدمتِ خلق کو اپنا شعار ،عاجزی وانکساری کو اپنا وقار اور عبا دت وریاضت کو اپنا ہتھیا ر بنا ؤ ۔یہ حیات ِناپائید ار محض عرصۂ امتحان و آزمائش ہے ،لہٰذا اس کی زیبا ئش میں نہ کھو جانا، مو ت کو ہمہ وقت یاد رکھو ، اللہ اور رسول ؐ اللہ کو لمحہ لمحہ دل میں آباد رکھو ۔’’

بچپن ہی سے  آپ میں ایک خاص عادت تھی کہ وہ اکیلا رہنا پسند کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ تن تنہا جنگلوں میں پھرتے رہتے۔ اس دشت نوردی میں آپ خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر غور کرتے۔ خاموشی، صبر اور فکر  آپ کا اذلی اور فطری سرمایہ تھا۔    عہد جوانی میں آپ کے معمولات صرف عبادت  اور .وظائف تک محدود تھے ۔ جوں جوں آپ عمر کی منازل طے کرتے گئے۔ آپ کے اندر موج مستی، عروج عرفان پیدا ہوتا گیا اور آپ بے خود سرمست بن گئے۔ آپ پر ہر وقت کیفیت استغراق طاری رہتیتھی۔

آپ اپنی درویشی اور سرمستی میں اس قدر غرق رہے کہ آپ کے عالم شباب میں آنے کے بعد بھی آپ کو شادی کرنے کا خیال ہی نہ آیا۔ آخر آپ کے چچا  و مرشد خواجہ عبدالحق نے سچل سرمست کا عقد اپنی صاحبزادی کے ساتھ کیا۔ آپ اگرچہ شادی کرنے کے خواہش مندد نہ تھے، لیکن اس کے خلاف بھی نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ کو آپ کے مرشد نے شادی کرنے کا حکم دیا تو آپ نے سنت نبویؐ پر عمل پیرا ہونے کےلیے اس حکم کو دل و جان سے قبول کیا۔ تاہم کوئی مصلحتِ خداوندی تھی کہ آپ کے ہاں کوئی اولا د نہیں ہُوئی ۔ اپنی سلیقہ مند، دین دار اور پرخلوص شریک حیات سے بہت پیار تھا مگر خدا کی قدرت کہ باہمی رفاقت زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی۔ ان کی نیک سیرت اہلیہ جو‫صرف دو سال ساتھ نبھا کر عالم جوانی میں  الله کو پیاری ہو گیئں۔ اس‬ ‫کے بعد انہوں نے شادی نہ کی۔‬  اولاد سے بھی محروم رہے اس لئے کرب تنہائی نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ اکثر جنگلوں اور ویرانوں میں اکیلے گھومتے پھرتے رہے۔ روحانی سوز و گداز اور جذب و کیف اتنا بڑھ گیا کہ مسلسل سرمستی و بے خودی کے عالم میں رہنے لگے اسی لئے سرمست کہلائے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ کو شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرزند بھی عطا کیا تھا جو جلد ہی اللہ کوپیارا ہوگیا ۔مرزا علی قلی بیگ نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ رقم کیا ہے۔ امیر رستم خان ریاست خیر پور کا والی تھا۔ اس کا بیٹا میر محمد حسین سخت بیمار ہوگیا تھا۔ وہ حضرت سچل سرمست کی خدمت میں حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی۔ آپ اس وقت جلال میں آگئے اور فرمایا۔ ‘‘تمہارے بیٹے کی زندگی کے لیے قربانی دینا پڑے گی اور ہم تمہارے بیٹے کے بدلے اپنا بیٹا خدا کے حضور پیش کرتے ہیں۔’’ آپ کی یہ دعا ابھی آپ کے لبوں پر ہی تھی کہ اللہ نے قبول فرمالی۔ میرمحمد حسن صحتیاب ہوگیا اور آپ کا بیٹا خدا کو پیارا ہوگیا۔ تاریخ نگار حضرت سچل سرمست کے بیٹے کا نام نیاز علی یا موجود علی تحریر کرتے ہیں۔

ایک ہندو عامل ‘‘دیوان چند’’ حیدرآباد کے میر صاحبان کے ہاں ملازم تھا اور  کسی وجہ سے یہ ملازمت چھوڑ کر خیرپور کے والی میر سہراب خان کے ہاں  مختار کار مقرر ہوا۔  لیکن چند دنوں کے بعد سرکاری کام میں خروبرد کے  الزام میں اُسے گرفتار کرلیا گیا۔  اس دیوان  کے ایک   رشتہ دار صوفی فقیر میاں فضل اللہ جھوک شریف والے کی خدمت میں حاضر ہوئے اور منت سماجت کی۔ صوفی فقیر نے ایک خط خواجہ عبدالحق کے نام لکھا۔  کہ ‘‘ہمارا ایک آدمی تمہارے میروں  نے قید  کر رکھا ہے۔ اس کو فوراً آزاد کراؤ۔’’

حضرت خواجہ عبدالحق نے خط پڑھ کر اپنی دستار  مبارک   نکال کر حضرت سچل سرمست  کے سر پر رکھی اور فرمایا ۔ ‘‘جاؤ اور میران خیرپور سے حیدرآبادی  عامل کو آزادکراؤ۔’’ حسب ارشاد حضرت سچل سرمست میر سہراب خان اور اس کے صاحبزادوں کے دربار میں آکر حاضر ہوئے اور وہاں بندوقیں دیکھ کر آپ نے پوچھا ‘‘یہ کیاہے….؟’’

آپ کو وہاں پر موجود دو درباریوں نے بتایا کہ ‘‘ان سے شیروں کا شکار کیا جاتا ہے’’۔  آپ کو شکار سے نفرت تھی چنانچہ آپ نے زندگی میں کبھی کسی جانور کا شکار نہیں کیا۔  حضرت نے فرمایا۔ ‘‘شیروں کا شکار کرنا اتنا آسان نہیں۔’’

حاضرین نے آپ سے بحث شروع کردی کہ اس بندوق کی ایک گولی سے شیر کے جسم کے چیتھڑے اڑ سکتے ہیں۔ یہ بحث و مباحثہ سن کر حضرت سچل سرمست  کے چہرے پر جلال آگیا۔ اس جلال کی آمد تھی کہ اہل دربار کو یوں محسوس ہوا جیسے سچ مچ کا شیر ان کے درمیان آکھڑا ہوا ہے۔ سب کے سب ڈر کے مارے کانپنے لگے اور حضرت سچل سرمست سے معافی مانگی۔ آپ نے حکم دیا کہ ‘‘میرے مرشد نے ہندو عامل دیوان کی رہائی کی خواہش کی ہے۔ اس لیے آپ  لوگ اسے فوراً آزاد کردیں۔ آپ کے کہنے کی دیر تھی کہ دیوان کو قید سے آزاد کردیاگیا۔

سچل سرمست نے بڑے ہی پُر آشوب سیاسی دور میں پرورش پائی۔ آپ نے بچپن ہی سے جنگ وجدال کے واقعات دیکھے اور سنے تھے۔ آپ کی ولادت 1739 میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب نادر شاہ نے سندھ پر حملہ کیا تھا۔ بڑی تباہی مچانے کے ساتھ اس نے سندھ کے علمی ذخیرے بھی تہس نہس کر ڈالے۔ سچل نے 15 سال کی عمر میں احمد شاہ ابدالی کو سندھ پر حملہ آور ہوتے دیکھا ۔ جس میں ہزاروں بے گناہ افراد مارے گئے    اور کئی سیاسی، سماجی و معاشرتی تبدیلیاں ان کے مشاہدے میں آئیں۔  حضرت سچل سرمست نے ان سارے حالات کو اپنی نظروں سے دیکھا،    کلہوڑوں ، تالپوروں، میروں، کے درمیان خانہ جنگیاں ہوئیں، ان دنوں سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی تھی۔  آپ کا دل  سیاسی بےاعتدلیوں  اور  امت مسلمہ کے باہمی تعصب اور دشمنی پر بہت کڑھتا تھا۔ آپ کو ان باتوں سے سخت نفرت تھی۔  یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام سے امن وآشتی کا درس ملتا ہے۔   آپ نے لوگوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرایا۔ لڑائی جھگڑوں۔ آئے دن کے سیاسی جوڑ توڑ اور بغض  و ریا سے دور رکھنے کے لیے آپ نے لوگوں کی روحانی اور دینی تربیت کی۔

آپ امن کے داعی تھے اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے عالقے کے ولگوں کو بھی پرامن زندگی گزارنے کی تلقین کی یہ آپ کی روح پرور زندگی کا ہی اعجاز ہے کہ آپ کے زمانے میں سندھ کی صورتحال باقی زمانوں کی نسبت بہتر  رہی۔ لوگ آپ کی تعلیمات سے نہ صرف فائدہ اٹھایا کرتے تھے بلکہ ان پر عمل پیرا بھی ہوتے تھے۔

سندھ کی ادبی مذہبی اور سیاسی زندگی میں حضرت  سچل سرمست اور انکے آباؤ اجداد کا بڑا دخل ہے کیونکہ ان اصحاب صالحہ کی بدولت لوگوں کے اندر علم و آگہی اور معرفت کی شمعیں روشن ہوئیں اور ان کی ذات پر اہلیان سندھ جتنا فخر کریں کمہوگا۔

آپ کا زمانہ ادبی لحاظ سے بڑا زرّیں زمانہ تھا۔ کیونکہ کلہوڑا حکام اور سہراب کان اور میر رستم خان سب کے سب علم کے دلدادہ تھے چنانچہ ان کی حکومتوں میں ادب کو بہت فروغ حاصل ہوا۔

سچل سرمست کی ظاہری و باطنی تعلیم و تربیت  میں  میاں صاحب ڈنو اور خواجہ عبدالحق نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، سچل سرمست کے داا بھی صوی شاعر تھے،   1192ھ میں سچل سائیں چالیس برس کے  ہوئے تو آپ کے دادا میاں صاحب ڈنو وفات پاگئے،  اور 1213ھ میں آپ کے مشفق چچا بھی انتقال کرگئے،   آپ کے مرشد وچچا کے انتقال کے بعد سچل سرمست نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سجادہ نشین سخی قبول محمد کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ آپ نے خرقۂ خلافت سے بھی نوازا۔یوں سچّل سرمست بھٹائی سلسلے میں شامل ہوگئے ۔

حضرت سچل سرمست نے اپنی زیادہ تر زندگی سندھ کے اندر ہی رہ کر گزاری اور باہر جانے سے گریز کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یاد الٰہی میں کسی جگہ بھی بیٹھ کر مگن رہا جاسکتا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے چند علاقوں کا دورہ کیا۔ آپ ایک مرتبہ سکھر گئے وہاں آپ نے کئی نیک لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ درویشی اس بات کی متقاضی ہوتی ہے اور درویشوں کا یہ خاصا ہوتا ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے درویشوں کو دیکھ کر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس میدان میں حسد، تعصب اور کینہ و بغض نام کو نہیں۔ چنانچہ درویش لوگ اپنے ہم مسلکوں اور صوفیاء کی محافل میں بیٹھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ روپڑی اور شکار پور سے ہوتے ہوئے حضرت سچل سرمست لاڑکانہ تک گئے۔ آپ نے روپڑی میں فقیر قادر بخش بیدل سے ملاقات کی وہ آپ سے ملاقات کرنے کے بعد آپ کے عقیدت مند اور معتقد ہوگئے۔ شکار پور اور سکھر میں آپ کی ولایت و کرامت اور سخنوری و درویشی کو بڑی شہرت ہوئی۔ یہاں آپ نے کچھ عرصہ قیام کیا۔ دن رات لوگوں کے ٹھٹھ آپ کے گرد جمع رہا کرتے تھے اور ذکر کی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہاں آپ کے ہاتھ پر لاتعداد لوگوں نے بیعت کی۔

عثمان فقیر چاکی کو لاڑکانہ میں روحانی فیوض و برکات سے مستفیض فرمایا اور ان کو خلافت عطا کی۔ میاں محمد صالح قادری بھی آپ کے خادموں میں سے تھے ان کو بھی سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔ روحانی تربیت کرکے ان کو ولایت کے اعلیٰ درجوں پر فائز کیا  اور بعد میں ان لوگوں کے فیض اور روحانی تعلیم سے لاتعداد لوگوں نے اسلام کی شمع سے روشنی حاصل کی ۔

سچل سر مستآپ نے اپنی باقی ماندہ زندگی اپنے گاؤں میں ہی بسر کی اور یہاں پر رہ کر آپ نے لوگوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرایا۔ حضرت سچل سرمست عمر بھر کبھی بیمار نہ ہوئے تھے۔ عمر کے آخری دور میں آپ مرض اسہال  میں مبتلا  ہوگئے۔ مرض اس قدر بڑھا کہ آپ نڈھال ہوگئے اور اسی بیماری کی طوالت سے مورخہ 14 رمضان المبارک 1242ھ بمطابق 11 اپریل 1827ء کو 90 برس کی عمر میں آپ واصل با حق ہوئے۔ ریاست خیر پور کے حکمرانوں اور سچل سرمست کے درمیان بڑے قریبی تعلقات تھےم والیٔ ریاست میر رستم خان نے  آپ کے مزار کی تعمیر کروائی۔ اسی طرح میر مراد علی نے آپ کی تصنیف دیوانِ آشکار طبع کروائی۔

سچل سرمست صوفی اور اولیاء اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ سخن ور بھی تھے۔ شاعری آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپ کے کلام میں فصاحت و بلاغت، بلند فکریا  ندرت بیان ہر طرح سے قابل داد ہے آپ نے شاعری کی زبان میں علم تصوف کے جو رموز و اسرار بیان کیے ہیں۔ ان کی بنا پر آپ کو حافظ سندھ کہا جاتا تھا۔اس کے علاوہ آپ نے عشق مجاز میں ایسے سوز و گداز کے ساتھ کا فیاں کہیں ہیں جن کو سن کر کوئی  بھی صاحب ذوق شخص متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔

شاعر ہفت زباں حضرت سچل سرمست کا کلام حق و صداقت، خلوص و محبت، ایثار و قربانی، ہمدردی و رواداری، عدل و احسان اور اخوت و مساوات کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے نہ صرف سندھی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا بلکہ وہ اردو، فارسی، سرائیکی اور ہندی کے بھی ممتاز شاعر تھے۔ آپ  کو شاعر ہفت زبان بھی کہا جاتا ہے، آپؒ نے سات زبانوں (عربی ، فارسی، ہندی، اردو، پنجابی، سرائیکی  اور سندھی )میں اشعار کے ذریعے روحانی طرز فکر کو عام کیا۔

سچل سرمست کے اشعار کی تعداد نو لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ علیٰ ہذاالقیاس حضرت سچل سرمست کا کلام ہر زبان میں جذبہ مستی سوز و گداز، رقت و جدائی، خناد بقا! جلوہ عبودیت، استغراق، تجلیات معرفت اور ذوق فنانی الوجود سے لبریز اور معمور ہے۔ فارسی کے علاوہ اردو میں بھی آپ کو دوسرے درجے کا صوفی شاعر کہا گیا ہے۔ آپ اپنی جداگانہ مضمون آفرینی کے باعث سب سے زیادہ ممتاز نظر آتے ہیں۔ آپ کا توحید وجودی کا مضمون صوفیانہ شاعری میں سب سے اہم ممتاز موضوع شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں تعینات کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور سالک کو   ہر طرف وحدت ہی وحدت کا جلوہ نظر آتا ہے۔  حضرت سچل سرمست نے  اپنے دور کی تمام اضاف سخن میں طبع آزمائی کی۔ وحدت نامہ آپ کی بہت بلند پایۂ تصانیف ہیں۔  آپ کی دیگر فارسی تصانیف میں دیوان آشکار، مثنوی راز نامہ، مثنوی  گداز نامہ، مثنوی  تار نامہ، مثنوی رہبر نامہ ، مثنوی درد نامہ، مثنوی عشق نامہ ،  مثنوی مرغ نامہ، مثنوی  وصلت نامہ، مثنوی چاقی نامہ، دیوانِ خدائی، نکتہ تصوف،  بحرِطویل، قابل ذکر کتب ہیں۔

حضرت سچلؔ سرمستؒ مثنویٰ ’’عشق نامہ‘‘  میں فرماتے ہیں

آن   خدا   از   عشق  آدم   آفرید

تاز مخلوقات اور ابرِ گزید

آن خدا اور امانت عِشق داد

 در نہادش سِرّ اسرارِ نہاد

(خدا تعالیٰ عشق میں سے آدم کو پیدا کیا۔جس وجہ سے اُسے اشرف المخلوقات بنایا، خدا تعالیٰ اُسے عشق کی امانت عطا فرمائی۔ اور اُس میں اپنے سارے مخفی راز چھپا دیئے۔ )

راست میگویم دلی گردد عیان

 آن کہ ہستی اسرار در باطن نہان

(اگرچہ اُس کے چھپے ہوئے اور مخفی راز عیاں بھی ہوجائیں۔پھر بھی میں سچ کہوں گا)

سچائی سے محبت کی وجہ سے آپ نے  سچل کا تخلص اختیارکیا۔ سچائی، تصوف کی بنیادی خوبی ہے۔ عمل، قول و فعل کی سچائی انسان کو عظمت کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔ یہ ایک انتہائی کٹھن راستہ ہے، جو طالب کو مطلوب تک لے کر جاتا ہے۔ حضرت سچل سرمست نے سرائیکی زبان میں بامعنی اور خوبصورت شعر کہے ہیں۔ فرماتے ہیں:

عشق دو کار بداند ، اول از خود برھاند

سربشمشیر براند، جز خدا ہیچ نماند

پس بہ محبوب رساند  غیر خیالات براند

(عشق دو کام کر دکھاتا ہے۔ ابتدا میں یہ اپنی ذات سے آزادی دلاتا ہے۔ پھر تلوار سے سر کاٹ دیتا ہے۔ اور پھر خدا کی ذات کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر محبوب ملتا ہے۔ باقی تمام خیال دل سے نکال دیتا ہے)

جسم ہست ایں یک خانہ ، جائی پاکیزہ شہانہ

درصدف چوں دردانہ ، این نباشد بتخانہ

بیشکن سو مردانہ ، تا شوی یار یگانہ

(یہ جسم ایک گھر کی طرح ہے جو دیکھنے میں بہت اچھا اور شاندار نظر آتا ہے ، اور اس میں روح اس طرح ہے سیپ میں کوئی موتی ہو جیسے، کیا یہ گھر بت خانہ نہیں ہے؟ ہمت سے کام لے کر اسے توڑدو، تاکہ تم منفرد بن جاؤ)

خاص بَاشی جان و تن را کن گداز

 عَام را راہ خدا روزہ نماز

جُز گدازی تن بنا شد حاصیلی

 گر گذری اندرین راہ واصیلی

ای برادر اندراین رہ شو گداز

 بگذری تو از نشیب و از فراز

(اگر تم خاص بننا چاہتے ہو تو جان اور تن کو فنا  کرو،  عام لوگوں کے واسطے خدا کی راہ میں روزہ اور نماز ہے۔ تن کو فنا کرنے کے سواء کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر تم خود کو فنا  کردوگے تو تمہیں وصال نصیب ہوگا۔ اے  برادر، اس رستے میں اپنے آپ کو فنا  کرو۔ تو پھر تم اونچایوں گہرائیوں سے گذر جاؤگے۔)

حضرت سچل سرمست نے اپنے کئی اشعار میں لوگوں کو انتشار سے رروکا اور امن پر زور  دیا ہے:

جنگ  با مرادان چہ واری جنگ کن با نفس خویش

نفس را بشناسی در رحمت رحمان در آ

(آدمیوں سے لڑائی کے بجائے اپنے سرکش نفس سے جنگ کرو۔ اپنے نفس کو  پہچان اور اللہ کی رحمت میں داخل ہو۔ )

سچل کی شاعری اس رابطے کی نشاندہی کرتی ہے جو انسانوں کے درمیان یکجہتی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ انسان کے مختلف روپ، رنگ اور پہچان کے ذریعے عارضی ہیں۔ آپ کی شاعری میں بابا بلھے شاہ کا بھی رنگ جھلکتا ہے، آپ فرماتے ہیں۔

نہ میں گویا نہ میں جویا نہ میں سوال جواب

نہ میں خاکی نہ میں بادی نہ آگ نہ آب

نہ میں جینی نہ میں انسی نہ مائی نہ باب

نہ میں سنی نہ میں شیعہ نہ میں ڈوہ ثواب

نہ میں شرے نہ میں ورعی نہ میں رنگ رباب

نہ میں مُلاّ نہ میں قاضی نہ میں شور شراب

ذات سچل دی کیہی پچھدا ایں نالے تاں نایاب

سرائیکی میں آپ کے چند اشعار درج ذیل ہیں:

نین نواب کعبے وچ کھڑ دے ، عالی تاب اوہناں دا

لازم ہے لئوں والیاں نوں ، جو کرن طواف تنہاں دا

قدر جانن اوہی نال تنہاں دے ، پوسی کم جینہاں دا

سچل قبلہ صحیح نہ کردے ، کیڈے رخ کینہاں دا

آپ مزید فرماتے ہیں :

چشماں دے چمکارے ، دل نوں گھتدے حیرت دے وچ

اینہاں اکھیاں منصور مرایا ، سولی کون سوارے

بجلی دے جیوں بدلاں اندر ، جگ مگ تے جھلکارے

تیویں نال اکھیں دے نیزے مارن ، ہک مارے ڈوجھی الارے

مست ہوئے سرمست ہزاراں ، سچل جیہے بے چارے

سچل سرمست کے اردو اشعار ملاحظہ ہوں :

دلبر کے در پر میں تو دیوانہ ہو رہا ہوں

یارو میں دو جہاں سے بیگانہ ہو رہا ہوں

یہ عقل فہم اس کے دیدار نے اڑایا

زلفوں کے پیچ و خم میں مستانہ ہو رہا ہوں

آئے گا جوں وہ دلبر تیروں کی ہوگی بارش

سینہ سپر ہے سچل نشانہ ہو رہا ہوں

سچل سرمت خیر پور شہر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع اپنی خانقاہ سے بہت ہی کم باہر نکلے۔ تو پھر انہوں نے اردو کہاں سے سیکھی؟…. لگتا ہے کہ اردو سیکھنے کیلئے سچل سرمست کو کہیں بھی جانا نہیں پڑا بلکہ اس دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں مقبولیت حاصل کرنے والی یہ زبان خود چل کر انکے پاس آئی….

میرے پاس کورے قاضیا کیسا تمہارا کام ہے

تجھ کو کتابوں کی خوشی میرے لیئے ماتم ہے

مجھ کو تو مارا ہجر نے کہتا ہے تو آ پڑھ کتاب

گھر میرے اس محبوب کی آمد کا آج انجام ہے

آخر کو مطلب پا لیا مرشد ھمن سون یون کہا

بن عشق دلبر کے سچل کیا کفر کیا اسلام ہے

حضرت سچل سرمست کی زبان حق کے تراجم بیان کرکے سندھی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ سندھی کافی میں حضرت سچل سرمست نے ساخت مضمون اور معنی کے لحاظ سے جو ایجادیں کی ہیں۔ ان میں آج تک کوئی بھی اضافہ نہیں کرسکا۔ آپ کی لاتعداد غزلیں اور خیال عالم  عروض کے قوائد کے مطابق ہیں۔ زبان کی صفائی۔ خیال کی گہرائی اور مضمون آفرینی میں آپ یکہ تاز تھے۔ آپ نے فارسی میں بھی غزل۔ مستزاد۔ قطعہ اور مثنوی پر طبع آزمائی کی۔ ان تمام اضاف میں تمثیل کے ذریعے آپ کے وحدت الوجود کی وضاحت فرمائی۔

ڪڏھن ٿيو ڪونڪو، عاشقِن آرام، ميان

راتو ڏينھان تن اُتي محبت جو ماتام، ميان

خاڪَون ھَلج خاص ٿي ڪر پاڻِيءَ کَؤن پرواز، ميان

چڙيءَ چَنبو ماريُئي ، ٿي شاھِين ۽ شھباز، ميان

‘‘(عاشقوں کو کبھی بھی آرام میسر نہیں آیا،  رات دن ان پر محبت (درد و فراق) کا ماتم جاری ہے۔  خاک پر رہ کر بھی تم خاص رہنا، اور پانی (دنیا) پر پرواز کرنال  (عشق نے) ایسی ضرب رسید کی کہ شاہیں اور شہباز بنا دیا (حق سے آشنا کردیا)’’

هيڏي ھوڏي نه ڏسين، مُنھُن پاڻيءَ ۾ پاءِ؛

پوءِ تصور ھن ۾، ٻي بازي ڪا نه بناءِ؛

اکيون پَٽي جي ڏسين، ھادِي آھي ھَر جاءِ؛

سَچوءَ سارو سچُ چيو، ھيءَ رمز دل ئي سان لاءِ

(یہاں وہاں نہ دیکھو ، چہرہ پانی میں دیکھو،  پھر تصور میں اور کوئی بازی نہ بناؤ…. آنکھیں کھول کر دیکھو تو ھادی ( اللہ) ہے ہر جگہ،   سچوء  نے سب سچ کہا ہے رمز یہ دل سے لگا لو)

سچل سرمست کی پیدائش سندھ کے روایتی مذہبی گھرانے میں ہوئی مگر انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی خاندانی اور اس وقت کی مذہبی روایات کو توڑ کر اپنی محفلوں میں ہندو مسلم کا فرق مٹا دیا۔ان کے عقیدت مندوں میں کئی ہندو بھی شامل ہیں۔ان کا شعر ہے:

کہاں مومن کہاں کافر ،کہاں ہے ساحری ساحر

کہاں کاتب کہاں شاعر ، جو ہی ہے اصل اوئی ہے

  سچل سرمست نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے ایسے دور میں زندگی بسر کی جب مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر تھی۔انہوں نے اپنے آس پاس مذہبی نفرتوں کو دیکھ کر سندھی میں کہا:

مذهبن ملڪ ۾، ماڻهو منجهايا

شيخي پيري بزرگيءَ، بيحد ڀلايا

ڪي نمازون نوڙي پڙهن، ڪن مندر وسايا،

اوڏو ڪين آيا، عقل وارا عشق کي.

(ترجمہ: عقائد و مسالک نے لوگ مایوسی میں الجھائے رکھا،  شیخی پیری نے بے حد بھلائے رکھا،  کوئی محض نماز پڑھے کوئی مندر بسائے،  کیوں یہ عاقل عشق کے قریب نہ آئے)

سچل سرمست کے کلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ یہ اشعار اُس کیفیت میں کہے گئے ہیں جب بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے قریب تر ہوجاتا ہے۔ آپؒ کا مخاطب انسان ہے اور آپؒ کا پیغام تمام بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی ہے۔

سچل سرمست نے تو انسان کو انسان ہونے کے ناطے ہی عظیم سمجھا ہے نہ کہ کسی مذہب، مسلک، رنگ و نسل کی وجہ سے کہتے ہیں:

انسان هيس انسان آهيان،

هندو مومن ناهيان،

جوئي، آهيان سوئي آهيان،

ڪو مومن چوي ڪو ڪافر چوي،

ڪو جاهل نالو ظاهر چوي،

ڪو شاعر چوي ڪو ساحر چوي،

آءٌ جوئي آهيان سوئي آهيان.

(ترجمہ:  انسان تھا انسان ہوں، ہندو مومن نہیں ہوں،میں جو ہوں سو ہوں، کوئی مومن کہے کوئی کافر کہے، کوئی جاہل نام ظاہر کہے،  کوئی شاعر کہے کوئی ساحر کہے-میں جو ہوں سو ہوں۔)

آپ اپنے ایک سندھی شعر میں فرماتے ہیں؎

(خالقِ کائنات نے یہ راز عیاں کردیا ہے کہ کافر اور مومن کی صورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔   )

آپؒ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ تخلیق انسان کامقصد معرفت الٰہی کا حصول ہے اور اس کے بعد ہی انسان اشرف المخلوقات کے مرتبے پر پہنچ سکتا ہے۔ آپؒ ایک شعر میں کہتے ہیں کہ جس طرح پانی اور لہریں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے اُسی طرح بندہ بھی اﷲ سے جد انہیں ہوسکتا…. اُس کی ہر سانس اﷲ تعالیٰ کے  رحم وکرم کی محتاج ہے اور جو خود کو پہچان لیتا ہے وہ خدا کو پہچان لیتا ہے۔

سچل سرمستؒ نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے دَور اقتدار میں زندگی بسر کی ۔یہی وجہ ہے کہ غلامی اور غلامانہ ذہنیت کو ردّ کرتے ہوئے ،اُنھوں نے سندھی میں کہا: او کتلا ڈینھ غلامی وچ وت سارا زور سلامی وچ کیوں آپ گھتیوئی خامی وچ بل کہ واضح الفاظ میں فرمایا:

چھوڑ گمان گدائی والا،شملا چا بد شاھی دا

نفی سچل اثبات کریندا ویکو سیر سپاھی دا

سچل سائیں کے اس کلام  کا ترجمہ  درج ذیل ہے:

(فقیری اور گدائی کا خیال چھوڑدے

اور شاہی دستار باندھ لے

وحدت کا نقارہ بجا

اور اپنی سوچ کو بادشاہی کی سطح پر رکھ

غیر کا خیال دل میں نہ لا

کیوں کہ یہ گمراہی کا سامان ہے

مستی کی صراحی سے ایک گھونٹ پی لے

خود کو پہچان اور سکون حاصل کر

سچّلؔ! نفی سے اثبات کے فائدے ہیں

ہم  لوگ اس کی مثال ہیں)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے