وولپِٹ کے سبز بچے (Green Children Of Woolpit)

Green Children Of Woolpit

یہ کہانی بارہویں صدی کی ہے۔  لیکن تاریخ لکھنے والوں نے اسے ہمیشہ زندہ رکھا ہے۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیں کی ہیں۔  وولپٹ برطانیہ کا ایک قصبہ ہے۔ اس زمانے میں یہ ایک صاف ستھرا علاقہ تھا۔ لوگ کھیتی باڑی کیا کرتے یا اور دیگر کام کرتے۔ زندگی مشینی اور تیزرفتار نہیں ہوئی تھی۔ سب ایک دوسرے کو جانتے بھی تھے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں بھی شریک رہا کرتے۔ یہ واقعہ اسی قصبے کا ہے۔ ایک صبح جب لوگ گھروں سے اپنے اپنے کام کے لیے نکلے تو انہوں نے دو بچوں کو دیکھا۔ دونوں گیارہ اور بارہ برس  سے زیادہ کے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

ایک لڑکا تھا اور ایک لڑکی۔ ان دونوں کی شباہتیں ایک جیسی تھیں جو یہ بتا رہی تھیں کہ دونوں بھائی بہن ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے اس طرح رو رہے تھے جس طرح والدین سے بچھڑ جانے والے بچے رویا کرتے ہیں۔

یہاں تک تو کوئی خاص بات نہیں تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ دونوں کی جلد انتہائی گہرے سبز رنگ کی تھی۔ جیسے پورے جسم پر گہرے سبز رنگ کا پینٹ کردیا گیا ہو۔ یہ ایک حیرت انگیز بات تھی۔

گہرے سبز رنگ کی جلد ایک انہونی سی بات تھی۔ قصبے میں جلد ہی سب کو اس کی خبر ہوگئی ۔پورا قصبہ ہی ان دونوں کو دیکھنے کےلیے وہاں جمع ہوگیا۔ جب ان  بچوں سے بات کی گئی تو پتا چلا کہ وہ انگریزی نہیں جانتے۔  وہ ایک ایسی زبان بول رہے تھے، جو قصبے والوں کی سمجھ سے باہر تھی۔ وہ جن معصوم نگاہوں سے قصبے والوں کی طرف دیکھ رہے تھے اور روئے جارہے تھے، قصبے والوں کو ان پر بہت افسوس ہورہا تھا۔ نہ جانے یہ بےچارے کون تھے،کہاں سےآئےتھے….؟

انہیں جب کھانے کے لیےد یا گیا تو انہوں نے کھانے سے انکار کردیا۔ اس موقعے پر مقامی چرچ کےپادری نے قصبے والوں سے کہا ‘‘دیکھو، مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں بچے کسی اور سیارے سے  آئے ہیں۔ انہیں خدا کا تحفہ سمجھو۔ ان کی قدر کرو، ان کا خیال رکھو اور یہ جان لو کہ خدا ہم سے خوش ہے اسی لیے اس نے ان دونوں کی پرورش کےلیے ہمارے قصبے ا انتخاب کیاہے۔’’

ان دونوں کےلے اسی وقت قصبے کا ایک گھر مخصوص کردیا گیا۔ ان دونوں کو وہاں لے جایا گیا اور قصبے کےکچھ مردوں اور عورتوں نے اب بچوں کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ایک مسئلہ یہ تھا کہ ان دونوں کو جو کچھ کھانے کے لیے دیا جاتا، وہ کھانے سے انکار کردیتے تھے۔ یقیناً ان کی خوراک مختلف ہوسکتی تھی۔

لیکن کیا  تھی، قصبے والوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ جب ایک عورت نے ان بچوں کےسامنے دودھ کے گلاس رکھے تو انہوں نے دودھ پی لیا تھا۔ ایک مسئلہ  توحل ہوگیا تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ان سے بات کیسے کی جائے….؟ کیونکہ جو کچھ وہ بولتے تھے، وہ قصبے والوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اور جو قصبے والے بولتے تھے، وہ ان بچوں کے سروں سے گزر جاتا تھا۔ بالآخر  قصبے کے ایک آدمی نے ان دونوں کو انگریزی سکھانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ چونکہ وہ بچے کچھ زیادہ عمر کے ہوچکے تھے اسی لیے انہیں کوئی نئی زبان سکھانا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس کے باوجود اس آدمی نے ہمت نہیں ہاری اور ان دونوں کو انگریزی سکھاتا رہا۔ پانچ سال گزر گئے۔

ان پانچ برسوں میں قصبے والوں نے انہیں اپنی اولاد کی طرح قبول کرلیا تھا۔  قصبے کے ہر گھر میں ان کا آنا جانا تھا۔

دونوں انتہائی خوبصورت تھے اور قصبے والوں کا یہ خیال صحیح نکلا تھا کہ دونوں بھائی بہن تھے۔ انگریزی سیکھ جانے کے بعد انہوں نے یہی بتایا تھا۔

اپنے بارے میں انہوں نے یہ بتایا کہ ان کا تعلق ایک ایسی سرزمین سے ہے جو زمین کےنیچے ہے اور اندھیروں کی دنیا کہلاتی ہے۔  وہاں سورج کی روشنی کا گزر نہیں ہوتا اسی لیے ان دونوں کی جلدیں اتنے گہرے رنگ کی ہیں۔ ان دونوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں بھائی بہن گھر سے کھیلنے کے لیے نکلے تھے کہ نہ جانے کیسے یہاں آگئے۔

قصبے والوں کا یہ خیال تھا کہ شاید ان دونوں کی زندگی  اسی قصبے میں گزرے گی لیکن ایک دن وہ دونوں اچانک غائب ہوگئے۔  ان کا کوئی پتا نہیں چلا۔ جس طرح وہ آئے تھے۔ اسی طرح واپس چلے گئے۔ شاید اپنی اسی زمین دوز دنیا میں، جہاں سورج کی روشنی کا گزرنہیں ہوتا۔

نہ جانے کیسے کیسے بھید یہاں چھپے ہوئے ہیں۔ کیسے کیسے لوگ ہمارے  اطراف میں ہیں۔ ایسے پراسرار لوگ جن کے لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کون ہیں۔ اور ان کی زندگی کیا ہے….؟

یہ بات تو یقینی ہے کہ ابھی بھی ان گنت بھید ہیں جن تک انسانی اذہان کی رسائی نہیں ہوسکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے