اور وہ زندہ دفن ہوگیا۔۔۔۔۔

زندہ دفن

سویڈن کے قصبے   کارلسکوگا Karlskogaکا باسی، چوالیس  سالہ پیٹراسکائل برگ Peter Skyllberg 19 دسمبر 2011ء  کام کے سلسلہ میں اپنے گھر سے کار میں نکلا اور سویڈن کے شمالی قصبہ کا رخ کیا۔  ہلکی سی برفباری ہورہی تھی وہ پُرلطف انداز میں گاڑی چلاتا جارہا تھا ، لیکن اس کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ وہ ایک بڑی آفت میں گرفتار ہونے والا ہے۔   اچانک برفباری تیز ہوگئی کار کے باہر کا منظر دھندلانے لگا ، پیٹر راستہ بھٹک کر جنگل کی طرف نکل گیا۔ گڑھے میں جا گری، برف باری کی وجہ سے  پیٹر کار سمیت گڑھے میں زندہدفن ہوگیا۔

جب پیٹر واپس گھر نہ پہنچا، تو اس کی تلاش شروع ہوئی۔ مگر سراغ رسانوں کو اس کا سراغ نہ ملا۔

آخرکار  17 فروری 2012 ، کو ایک پولیس افسر اینڈریو گڈلانڈ    نے  اپنی اسنو موبائل میں نصب شدہ ریڈار کے ذریعہ دفن شدہ کار ڈھونڈ نکالی۔  یہ کار انہیں شمالی سویڈن کے قصبہ اوُمیا   Umeå سے ایک میل کے فاصلہ پر ملی ۔   سب لوگوں کو یقین تھا کہ پیٹر شدید سردی کے باعث اکڑ کر مرچکا ہوگا۔    مگر پیٹر زندہ حالت میں برآمد ہوا، پیٹر کی حالت بہت نخیف تھی اور وہ بمشکل  ہی بات کر پارہا تھا۔   فوری طبی امداد کے بعد  اسے فوراً نزدیک  موجود نارلینڈ یونیورسٹی  ہاسپیٹل بھجوایا  گیا، جہاں پیٹر کی  حالت ٹھیک ہونے لگی۔   پیٹراسکائل برگ    بنا کچھ کھائے پیے،  دو ماہ  یعنی 60 دن تک برف کے نیچے قید رہنے کے باوجود زندہ  نکل آیا ،  اس محیرالعقول واقعہ   کو   دنیا بھر کے مختلف اخبارات نے جگہ دی اور پھر بحث کا ایک سلسلہ جاری ہوگیا کہ کیا انسان میں اتنی صلاحیت  ہے کہ وہ کھائے پیے  بغیر یا سانس لیے بغیرزندہ رہ سکے۔

وقتاً فوقتاً ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جب لینڈ سلائیڈنگ، زلزلہ یا دوسری کسی آفت میں کوئی انسان  کئی دن مصیبت میں پھنسنے کے باوجود زندہ نکلآیاہو۔

2006ء میں ایک جاپانی مہم جو، مٹسوٹکااوشکو Mitsutaka Uchikoshi اپنی ٹیم کے ساتھ مغربی جاپان میں واقع ایک پہاڑ راکو Rokkoپر گیا۔ لیکن دور ا ن سفر وہ اپنی ٹیم سے بچھڑ کر راستہ کھو بیٹھا۔  اس کی تلاش شروع ہوئی ۔ وہ 24 دن بعد کھوجیوں کو ملا،  تو اس کی نبض بہت سستی سے چل رہی تھی اور کئی اہم عضو بھی کام کرنا چھوڑ چکے تھے… مگر وہ غذا ہی نہیں پانی کے بغیر بھی  زندہ  رہا ۔   اس کے جسم کادرجہ حرارت 22 درجے سینٹی گریڈ تھا، یعنی معمول کے درجے سے پورے 15 سینٹی گریڈ کم۔ اس کا بدن ہوش و مدہوشی کے  درمیان تھا۔ ڈاکٹروں کو یقین تھا کہ اس کا بچنا محال ہے۔ لیکن پھر کرشمہ ظہورپذیر ہوا، مٹسوٹاکا  تندرستہو کر گھر چلا گیا۔

اسی طرح پچھلے سال کینیڈا سے ایک مہم جو جوڑا امریکا کے صحرائے نیواڈا کی خاک چھاننے پہنچا۔ لیکن وہ  دونوں صحرا کے پہاڑی علاقوں میں راہ سے بھٹک گئے۔ شوہراپنی 56سالہ بیوی، ریٹا کریٹسن Rita Chretien کو ویرانے میں چھوڑ کر مدد لینے گیا۔ مگر اُسے منزل تک پہنچنے میں خود ایک ماہ لگ گیا۔ غرض ریٹا 50دن بعد پہاڑی علاقے سے ملی۔ وہ زندہ اور بولنے کے قابل تھی، مگر مصائب نے اس کا وزن کم کردیا۔

1992ء میں آسٹریلوی کوہ پیما، جیمزسکاٹ James Scott ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھتے ہوئے برفانی طوفان میں پھنس گیا۔ اس نے ایک چٹان کے کگر پر پناہ لی اور  اس کے پاس صرف چاکلیٹ کے دو پیکٹ تھے، اور چاروں طرف  برف ہی برف۔   43دن وہ اس جگہ تنہا زندہ رہا۔ آخر ایک ہیلی کاپٹر نے اُسے دیکھ لیا۔ یوں اُسے جان لیوا قید سے رہائی ملی۔

حیاتیات کی رو سے یہ بات ناممکن سمجھی جاتی ہے کہ کوئی بھی انسان  اپنے جسم کو غذا یا پانی کی صورت میں توانائی پہنچائے بغیر  زیادہ عرصہ تک زندہ رہ سکے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ کچھ سرد خون والے (Cool Blooded)   بہت سے جانور (چھپکلی،  مینڈک  وغیرہ  )ایسے ہیں جو پوری سردیوں کے موسم میں سوتے رہتے ہیں اس‘‘سردیوں کی نیند’’ Winter Snooze  کو سائنس کی اصطلاح میں ہائبر نیشنhibernationکہا جاتا ہے۔     اس نیند میں زندگی کے آثار تقریباً ختم ہوجاتے ہیں ، اگر کسی مینڈک کو اس کی جگہ سے باہر نکالیں تووہ مردہ معلوم ہوگا، اس کے پھیپھڑوں میں ہوا نہیں ہوتی، دل کی دھڑکن اتنی خفیف ہوجاتی ہے کہ بالکل محسوس نہیں ہوتی، اس گروپ میں کئی طرح کے کیڑے مکوڑے، حشرات الارض، زمینی سیپ [صدف] اور رینگنے والے جانور  شامل ہیں ۔ بعض گرم خون والے (Warm Blooded) جانور مثلاًبرفانی ریچھ اور چوہےبھی سردیوں کی نیندسو تے ہیں۔ اس نیند کے عالم میں حیاتی فعالتیں بہت سست پڑجاتی ہیں اور بدن میں ذخیرہ شدہ چربی آہستہ آہستہ صرف ہوتی رہتی ہے۔

مگر کیا انسان  میں بھی یہ صلاحیت ہے کہ وہ دانستہ اپنی جسمانی حرکات کو معطل کر لے اور طویل عرصہ  غذا اور پانی کے بغیر زندگی گذارلے۔ کیا زندگی گذارنے کے لیے غذا اور پانی کے علاوہ بھی توانائی حاصل کرنے کا   کوئی ذریعہ ہے….   مذہبی کتابوں اور روایات میں ہمیں اس طرح کے واقعات ملتے ہیں  ، جیساکہ  اصحاب کہف تین سو نو برس غار میں سوتے  رہے  اور حضرت عزیر ؑ جنہیں اللہ نے سو سال کے لیے   سُلا دیا تھا۔

موجودہ دور میں بھی  عجیب و غریب صلاحیتوں کے حامل  بعض ایسے لوگ ملتے ہیں جو اپنے ارادے اور اختیار کی بناء پر اپنی جسمانی حرکات کو معطل کر لیتے ہیں۔ وہ کچھ عرصے خود کو زیرِ زمین کرنے کے بعد دوبارہ زندہ نکل آتے ہیں ۔ اس دوران وہ نہ کچھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں اور نہ ہی ان کی سانس لینے کا نظام   بحال رہتا ہے۔   ان واقعات کے چشم دید گواہ بھی موجود ہوتے ہیں۔

اس نوعیت کا پہلا ریکارڈڈ واقعہ 1837ء میں لاہور میں ملتا ہے۔  اس دور میں لاہور پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی تھی۔  راجہ کے دربار میں ہری داس نامی ایک   یوگی لایا گیا۔ اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ یوگا کا ماہر ہے اور حبسِ دم (سانس روکنے میں) زبردست مہارت رکھتا ہے۔ مہاراجہ نے اسے اپنا کارنامہ دکھانے کےلیےکہا گیا ۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ اور فرانسیسی و برطانوی ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعدادکی موجودگی میں یوگی ہری داس سمادھی ڈال کر میں لیٹ گیا،  اس کی ناک منہ اور آنکھیں موم سے بند کردی گئیں اور اسے کپڑے میں لپیٹ  کر لکڑی کے ایک صندوق میں ڈال سختی سے بند کردیا گیا ۔ اس صندوق  کومہاراجہ کی مہر کے ساتھ سیل کر دیا گیااور ان سب کی موجودگی میں زمین میں دفن کردیا گیا۔ مہاراجہ کے حکم  اس قبر پر ہر وقت سپاہیوں کا پہرا رہتا، پہرے داروں کی تعداد دن میں چار اور رات کو آٹھ  ہوتی۔ چالیس دن کے بعدقبر کو کھولا گیا اور اس کے جسم  کو اُٹھاکر  مہاراجہ کے دربار میں لایا گیا۔ اس کے جسم سے لپڑا اور موم ہٹا کر نیم گرم پانی سے دھویا گیا ، تھوڑی ہی دیر میں یوگی آنکھ کھول کر اٹھ بیٹھا، فرانسیسی اور انگریزی ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا۔  مہاراجہ کے دربار سے منسلک برطانوی گورنر جنرل کے سفیر کرنل کلاؤڈ مارٹن ویڈ Claude Wade بھی اس  واقعہ کے چشم دید گواہ تھے۔انہوں نے یہ واقعہ برطانوی اخبار دی ورلڈ کی مئی 1911ء کی اشاعت میں The Famous Fakir of Lahore کے عنوان  سے شایع کیا ۔

روحانی قوت اور ضبط نفس کے حصول کا اہم طریقہ يوگاہےجس پر ہندو مت، بدھ مت اور جین مت کے پیروکار عمل کرتے ہیں اس کی ایک تکنیک  breatharian طریقہ ریاضت میں  یوگی کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اور Hatha  تکنیک سے یوگی اتنی دیر تک سانس روک لیتے ہیں کہ موت کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ دل کی حرکت کا اس پر اثر نہیں ہوتا- سردی گرمی ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ يوگی طویل ترین فاقے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں-آج بھی  یوگا کے  بعض ماہرین کو تابوت میں رکھ کر ہفتہ بھر کے لیے مٹی کے نیچے دفن کردیتے ہیں اور ایک ہفتہ کے بعد انھیں باہر نکالتے ہیں۔ ان کی مالش کی جاتی ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ اصلی حالت پر پلٹ آتے ہیں۔   2003گنیز بک آف ورلڈ  میں اس طرح کے بہت سے لوگوں کے زندہ دفن ہونے کے ناقابلِ یقین واقعات درج ہیں۔

1950ء میں ڈاکٹر  R. J. Vakil کی زیرِ نگرانی ایک درمیانی عمر کا کمزور ہندو سادھو رام داس کو ڈھائی میٹر گہرے اور ڈیڑھ میٹر چوڑے چیمبر میں بند کیا گیا 56 گھنٹے بعد ایک سوراخ کے ذریعے اس کو 6400 لیٹر پانی سے بھر دیا گیا، پانی سے بھری یہ قبر تقریباً 5 گھنٹے بعد ٹوٹ گئی اور وہ سادھو صحیح و سالم قبر سے برآمد ہوا۔

1974ء میں ایک بھارتی یوگی نے طویل وقت کے لئے اپنا سر زمین میں دفن کرلیا۔ اس کے نبض کی رفتار 70سے کم ہوتے ہوتے ایک منٹ میں دو Pulseتک ہوگئی مگر پھر بھی وہ زندہ رہا۔

2006ء میں  ڈسکوری  چینل  کی جانب سے رام بہادر بومجن Ram Bahadur Bomjon نامی ایک نیپالی بدھ راہب کی چار دن (96 گھنٹوں) فلم بندی  کی گئی اس کے دوران  انہوں نے نہ کھانا  کھایا اور نہ ہی پانی پیاکی۔

ضروری نہیں کہ اس طرح کے کارنامے کسی ماہر یوگی نے ہی کئے ہوں۔ افریقہ، امریکہ اور برطانیہ کے بعض  نابغۂ روزگار افراد نے بھی ایسے ریکارڈقائم کیے ہیں۔   افریقی ملک گھانا کے شہر ایکرا Accra میں  ازیزا نامی ایک سیاہ فام  نے ایک حیرت انگیز اور ناقابل یقین کرتب دکھایا ، لوگوں نے دیکھا کہ ازیزا کو زندہ تابوت میں بند کرنے کے بعدپتھر کی سلوں کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا۔اس پر گارہ ڈال دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ مزید سلیں رکھ کر اسے مکمل طور پر بند کردیا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر ہرشخص خوف سے تھر تھرا  گیا لیکن حیرت انگیز بات یہ کہ  دو گھنٹے بعدمجمع نے دیکھا کہ زمین ابلنے لگی اور ازیزا  گارے سے زندہ باہر نکل آیا۔ ساؤتھ افریقہ میں ہونے والے اس واقعہ کو 1974ء میں وہاں کی Pretoria News ایجنسی کے ذریعے منظر عام پر لایا گیا ۔

1968ء میں ڈچ خاتون ایما اسمتھ Emma Smith نے 101 دن  زیرِزمین رہ نے کا ریکارڈ قائم کیا 1978ء میں ایک ٹیکساس (امریکہ) کے ایک  شخص Bill White نے 134 دن دو گھنٹے اور 5 منٹ زیرِزمین گزارے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران اس نے اپنی تنہائی ٹیلی فون کے ذریعے دور کی یعنی کہ وہ اپنے ظاہری حواس سے کسی طور غافل نہیں تھا۔

2011ء میں تائیوان کے ایک ماہر کرتب  باز Harry Houdiniعرف نے 100گھنٹے تک3اعشاریہ6ٹن مٹی کے نیچے زندہ گاڑے جانے کا خطرناک کرتب پیش کیا۔ اس کرتب کے لیے ایک فون بوتھ میں Harryکو بند کرکے اس میں پوری طرح مٹی بھر دی گئی جبکہ صرف اسکے ہاتھ باہر نظر آتے رہے۔ ہیری کی دھڑکنوں کو جانچنے کے لیے اس کے جسم پر طبی آلات لگائے گئے تھے جبکہ اسکا یہ کرتب دیکھنے کے لیے کم از کم 10ہزار افراد موقع پر موجود تھے۔خود کو زندہ دفن کرکے خطرناک کرتب سر انجام دینے والا یہ نوجوان کرتب باز 100گھنٹے بعد زندہ سلامت اس مٹی سے باہر نکل آیا ۔

2003ء میں امریکی بازی گر  ڈیوڈ بلین David Blaine نے خود کو گلاس کے ڈبے میں بند کیا اور اُسے دریائے ٹیمز، لندن میں چھوڑ دیا گیا۔ وہ کچھ کھائے بغیر اس  ڈبے میں 44 دن تک بند رہا۔

یہ بات ناممکن سمجھی جاتی رہی ہے کہ انسان کھائے پئے  یا سانس لیے بغیر زندہ رہ سکے، لیکن اس طرح کے کرتب دکھانے والے بعض لوگ  میں     اتنی مدت کے لئے اگر کھانے پینے کا مسئلہ کوئی اہم نہ ہو تو بھی آکسیجن کا مسئلہ بہت اہم ہے کیونکہ دماغ کے خلیے آکسیجن کے معاملہ میں اتنے حساس اور ضرورت مند ہوتے ہیں کہ اگر چند سیکنڈ بھی اس سے محروم رہیں تو تباہ ہوجائیں، لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک یوگا کرنے والا پورا ہفتہ  بلکہ پورا مہینہ آکسیجن کی اس کمی کو  کس طرح برداشت کرلیتا ہے۔ آخر وہ کون سی مخفی طاقت تھی جس کے ذریعے، ازیزا، بل وہائٹ،  یوگی بغیر سانس لئے زمین میں دفن ہونے کے بعد دوبارہ زندہ نکل آئے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ بغیر سانس لئے انسان زندہ رہ سکے اگر یہ صحیح ہے تو اس کے حصول کا کیا طریقہ ہے؟

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر حیاتیات ایوان سینڈرسن Ivan Sandersonاپنی کتاب Thing and  more thing میں  ایسے یوگی کے بارے میں بتاتا ہے جو Belize میں 24 گھنٹے دفن ہوا تھا اور اس کی نگرانی ایک برٹش سینیئر میڈیکل آفیسر سمیت پانچ 5 ڈاکٹروں نے کی تھی۔  آئیوین سینڈرسن  کہتا ہے ‘‘میں نے ایسے مزید واقعات اور ان کے حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی مگر 15 سال جدوجہد کے بعد بھی کوئی ایسا شخص دریافت نہیں کر سکا جو مجھے سائنسی اور توجیہی بنیادوں پر اس حیرت انگیز طاقت کی کنہہ سے آگاہکرسکے’’۔

کیا قدرت  نے انسان کو ایسی  صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ حسبِ ضرورت سانس میں تیزی یا کمی پیدا کر سکتا ہے سانس لینے کا مقصد یہی ہے کہ جسم میں مناسب مقدار میں آکسیجن پہنچتی رہے۔ آکسیجن کا ایک بڑا ذخیرہ دماغ کے ایک مخصوص حصے میں جمع رہتا ہے۔ دماغ کا یہی وہ حصہ ہے جو دل کی دھڑکن اور عملِ تنفس کو برقرار رکھتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ دماغ میں آکسیجن کا ذخیرہ ہو تو دل کی دھڑکن اور عملِ تنفس جاری رہتا ہے بصورت دیگر نہیں۔ چنانچہ دماغ میں بڑی مقدار میں آکسیجن جمع کرلی جائے تو کسی موقع پر عملِ تنفس اور دل کی دھڑکن  انتہائی حد تک معدوم یا ختم ہوجائے تب بھی  وہ آدمی زندہ رہ سکتا ہے کیونکہ توانائی کا حصول آکسیجن سے ممکن ہے اور سانس لینے کا مقصد بھی یہی ہے۔ آکسیجن سانس لئے بغیر بھی مل رہی ہے تو سانس لینے یا نہ لینے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

مندرجہ بالا واقعات میں کیا یہی اصول کارفرما تھے….؟وہ تمام لوگ ان مشقوں سے آگاہ تھے جن کے ذریعے وہ آکسیجن کو اپنے اندر زیادہ مقدار میں ذخیرہ کر سکتے تھے یہاں تک کہ اپنے ارادے اور اختیار کو استعمال کر کے کئی کئی دِنوں یا ہفتوں سالوں تک مر کر دوبارہ جی اٹھتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے