پاکستان کے چند پراسرار مقامات!

 

افراد مافوق الفطرت مخلوق اور جنات پر بالکل یقین نہیں رکھتے  لیکن ان کا وجود ایک حقیقت ہے ۔جن، آسیب ، عفریت اور عجیب و غریب مخلوقات کے ماننے والے دنیا بھر میں موجود ہیں اور کوئی بھی تہذیب یا معاشرہ اس سے خالی نہیں۔  آپ نے دنیا بھر کے پراسرار مقامات کے بارے میں سن رکھا ہوگا۔  کیاآپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں  بھی بعض مقامات اپنی پراسراریت اور واقعات کی وجہ سے خوف کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

کچھ جگہوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پریاں رہتی ہیں تو کسی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں روحیں راج کرتی ہیں،کچھ ایسی ہی جگہیں ہیں جہاں کئی افراد نے کچھ غیر معمولی ‘‘سائے ’’ یا سرگرمیوں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

یوں تو پاکستان میں ہزاروں ایسے مقامات ہوں گے جنہیں آسیب زدہ کہا جاتا ہے، جن کے متعلق خوفناک کہانیاں مشہور ہیں اور لوگ رات کے وقت ان مقامات پر جانے سے ڈرتے ہیں۔  لیکن ان سب میں سے 12 مشہور ترین پراسرار مقامات ایسے ہیں جن کے گرد کسی نہ کسی حوالے سے دل دہلانے والی کہانیاں، انجانے خوف، پے درپے پیش آنے والے پراسرار حادثات اور انوکھے حالات اور واقعات کی چادر تنی ہوئی ہے۔آئیے آپ کو ان مقامات کے متعلق آگاہ کرتے ہیں۔

Koh-e-Chiltan
کوہ چلتن

 

کوہ چلتن کوئٹہ (بلوچستان) کے قریب واقع اس پہاڑی سلسلہ چلتن میں واقع سب سے بلند چوٹی ہے،   جس کی اونچائی 3194 میٹر (10479 فیٹ ) ہے اور  زرغون اور کوہِ تختو کے بعد کوئٹہ کی تیسری بڑی چوٹی  اور بلوچستان کی پانچویں بڑی چوٹی میں شمار ہوتی ہے۔

چلتن دراصل فارسی  اور بلوچی زبان کا لفظ ‘‘چہل تن’’ ہے  جس کے معنی ہیں  ‘‘چالیس جسم’’۔

کوئٹہ کے قریب واقع اس پہاڑی کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ  ایک پراسرار جگہ ہے ،  یہاں ان چالیس بچوں کی روحیں بھٹکتی ہیں جن کے والدین نے انہیں تنہا مرنے کے لئے  وہاں چھوڑ دیا تھا۔  مقامی افراد اس بارے میں ایک داستان سناتے ہیں۔

داستان کے مطابق صدیوں قبل ایک غریب بے اولاد جوڑا اولاد کے لیے کسی بزرگ کے پاس جارہا تھا۔  بزرگ کی دعا قبول ہوئی اور ان کے ہاں  ایک دو نہیں بلکہ 40 بچوں کی ولادت ہوئی۔ یہ غریب جوڑا اتنے سارے بچوں کی کفالت نہیں کر سکتا تھا چنانچہ انہوں نے ایک بچے کو اپنے پاس رکھ کر 39 بچے پہاڑ پر چھوڑ دیے۔ کچھ عرصہ بعد عورت یہ سوچ کر پہاڑ پر گئی کہ شاید ان بچوں کی موت واقع ہوچکی ہوگی لیکن وہ سب وہاں زندہ تھے۔ بیوی خوشی سے شوہر کو یہ بتانے کے لیے واپس آگئی اور ایک بچہ جو ان کے پاس تھا وہ بھی پہاڑ پر  ہی چھوڑ گئی۔ کچھ دیر بعد جب دونوں میاں بیوی پہاڑ پر پہنچے تو سارے بچے غائب ہوچکےتھے۔

یہ داستان سچی ہو یاجھوٹی …. لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آج بھی انہی 40 بچوں کی روحوں کے چیخنے،  چلانے اور رونے کی آوازیں اکثر و بیشتر سنائیدیتی ہیں۔

Chaukhandi Tombs
چوکھنڈی کا قبرستان

 

چوکھنڈی قبرستان کراچی سے 29کلومیٹر مشرق میں کراچی کی نیشنل ہائی وے پر واقع ہے، چوکھنڈی  دیدہ زیب اور منفرد طرزِ تعمیر کی حامل قبروں کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ڈھائی کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے اس قبرستان میں مورخین کے مطابق بعض قبریں سولہویں صدی عیسوی کے بعض قبائل کے سرداروں کامدفن ہیں۔

600  سال قدیم متروکہ اس  قبرستان  کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں آسیب کا سایہ ہے اور روحیں اکثر یہاں بھٹکتی رہتی ہیں۔ اس لیے کوئی بھی شخص شام کے بعد اس قبرستان میں جانے کی جرأت نہیں کرتا۔قریب کی آبادیوں میں رہائش پذیر افراد کا کہنا ہے کہ شام ہوتے ہی یہاں پراسراریت کا راج ہوجاتا ہے اور یہاں سے غیر مانوس آوازیں اور ہیولے نظر آتے ہیں۔ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے تو یہاں موجود بعض قبریں جلنے لگتی ہیں اوربہت زیادہ گرم ہوجاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اکثر رات کے وقت قبرستان سے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آتی ہیں ۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ اس  قبرستان میں کئی پراسرار واقعات رونما ہوچکے ہیں۔اس قبرستان میں رات کے وقت میں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہاں رات کے وقت میں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔

Makli Graveyard
مکلی کا قبرستان

 

مکلی

صوبہ سند ھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع یہ قبرستان اپنے اندر کئی داستانیں چھپائے ہوئے ہے۔یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جو تقریباً 8 کلومیٹر پھیلا ہوا ہے۔  یہاں بعض قبریں منزلوں میں بنائی گئی ہیں۔ تیرھویں صدی کے اس قبرستان میں ایک لاکھ سے زائد قبریں ہیں لیکن اب یہاں کسی کو دفن نہیں کیا جاتا۔ اس کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں لوگ اس قبرستان میں آتے ہیں۔   اس قبرستان میں جنات اور پریوں سے متعلق کئی پراسرار باتیں منسوب ہیں۔

Sheikhupura Fort
شیخوپورہ قلعہ

 

شیخوپورہ

لاہور کے قریبی شہر  شیخوپورہ کے جنوب میں واقع قلعہ شیخوپورہ مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں تعمیر ہوا۔ بعد میں سکھ حکمراں اور برطانوی دور حکومت میں بھی     یہاں رہائش رہی۔  ایک وقت تھا کہ اس قلعے میں ملکہ اور شہزادیاں رہا کرتی تھیں۔ اب یہ قلعہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور نہایت ابتر حالت میں ہے ، لیکن کوئی اس کی تعمیرنو کرنے کو تیار نہیں اور اسے درست کروانے کی ہمت  بھی نہیں رکھتا۔ کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ قلعے میں اب بھی ان ملکہ اور شہزادیوں کی روحیں آتی رہتی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کئی صدیاں قبل اس قلعہ میں رہنے والی ملکہ کی روح اب بھی یہیں رہتی ہے اور وہ غیر متعلقہ افراد کی موجودگی سخت ناپسند کرتی ہے۔

Lake Saif-ul-Muluk
جھیل سیف الملوک

 

جھیل سیف الملوک

بالاکوٹ سے وادی کاغان اور ناران  جانے والی  شاہراہ پر سربفلک اور برف پوش پہاڑوں کے درمیان سطح سمندر سے  3224 میٹر( 10578 فٹ ) کی بلندی  پر ایک انتہائی خوبصورت جھیل واقع ہے جسے سیف الملوک کی جھیل کہتے ہیں۔   دنیا بھر سے سیاح اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ اس جھیل سے متعلق ایک افسانوی داستان مشہور ہے۔  یہ قصہ ایک فارسی شہزادے اور ایک پری کی محبت کی داستان ہے۔ کہاجاتا ہے کہ صدیوں قبل ایک فارسی  شہزادہ سیف الملوک اور پریوں کی رانی بدیع الجمال ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہوگئے لیکن کچھ لوگوں  کو یہ پیار ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے دونوں کو قتل کردیا اور تب سے اب تک ہررات کو پریاں اس جگہ آکر اپنی ساتھی کو یاد کرکے روتی ہیں۔ جھیل کے ارد گرد کا علاقہ مکمل غیر آباد ہے۔  آج بھی  لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں اکثر رات کو پریاں اُترتی ہیں ۔ بعض لوگ اس جھیل کو طلسماتی جھیل  بھی کہتے ہیں ،   کہا جاتا ہے  کہ کسی بادشاہ کی نابینا بیٹی نے اس جھیل میں غسل کیا تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔

Shamshan ghaat, Hyderabad
شمشان گھاٹ، حیدرآباد

 

شمشان گھاٹ حیدرآباد

حیدرآباد میں واقع شمشان گھاٹ، جہاں ہندو اپنے انتقال کر جانے والے لوگوں کی چتائیں جلاتے ہیں، اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو یہاں جلایا جاتا رہا ہے ان میں سے بعض کی روحیں اب بھی یہیں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ یہ شمشان گھاٹ تقریباً اڑھائی سو سال پرانا ہے۔ شمشان گھاٹ کے گارڈ اور دیگر سٹاف کا کہنا ہے کہ غروب آفتاب کے بعد اکثر یہاں کئی بچے کھیلنے کے لیے آتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکالتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی کبھی گیٹ سے آتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، یہ بچے پتہ نہیں کون سی جگہ سے آتے ہیں اور کھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور  صبح سورج نکلنے سے قبل اپنا کھیل ختم کرنے کےبعد غائب ہوجاتے ہیں۔  رات بھر پراسرار آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں…..بچے جہاں کھیلتے ہیں وہیں نمودار ہوتے ہیں اور پھر وہیں غائب ہو جاتے ہیں۔

Dalmia Road, Karachi
ڈالمیا روڈ ، کراچی

 

ڈالمیا  روڈ

کارساز اور جوہر کو ملانے والی سڑک ڈالمیا روڈ  کراچی کی معروف ترین سڑکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس سڑک کے بارے میں قدیم وقتوں سے آج تک ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ اکثر اس روڈ پر ایک پراسرار لڑکی کو دیکھا جاتا ہے جو دلہن بنی ہوئی ہوتی ہے اور اس نے سرخ لباس پہن رکھا ہوتا ہے۔

لوگوں کا کہناہے 60 کی دہائی میں یہ خاتون ایک ڈانسر تھی جسے قتل کر کے اس کی لاش کو اس سڑک پر چھوڑ دیا گیا۔  جو کہ یہاں سے گزرنے والوں کو مدد کیلئے رُکنے کو کہتی ہے اور اچانک غائب ہو جاتی ہے۔  بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ آدھی رات کو سفر کرنے والے جب ڈالمیا روڈ پر پہنچتے ہیں تو کسی وجہ سے وہ رکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ رُکنے کے بعد انہیں ایک سجی سجائی سرخ لباس میں ملبوس دلہن نظر آتی ہے جو کسی اجنبی زبان میں ان سے گفتگو کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ڈرائیورز کا پہلا خیال یہی ہوتا ہے کہ کسی پریشان حال دلہن کو مدد کی ضرورت ہے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے  اس کی شکل بدل جاتی ہے اور  وہ ایک خوفناک چڑیل کا روپ دھار لیتی ہے۔ کچھ افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب وہ رکے نہیں تو اس دلہن نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں اس کی چیخیں بھی سنائی دیں۔ڈالمیا روڈ پر آدھی رات کو بھٹکنے والی اس ‘‘دلہن’’ نما ہیولے کی سی سی ٹی وی فوٹیج  بھی انٹر نیٹ پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ اسے کارساز کی دلہن Bride of Karsazنام دیا جاتا ہے۔

Kalabagh Dam
کالاباغ ڈیم

کالا باغ ڈٰم

 

آپ نے کالاباغ ڈیم کے بارے میں تو بہت کچھ پڑھ رکھا ہوگا،  جو بعض وجوہات کی بنا پر بن نہ سکا۔

لیکن کیاآپ کو معلوم ہے کہ طویل عرصے سے بند پڑے اس پروجیکٹ کی سائٹ پر بنے مکانات اب کھنڈر ات اور بھوت بنگلے میں تبدیل ہوگئے ہیں اور جس جگہ یہ ڈیم بننا تھا وہاں پراسرار بڑھیا  بھی راتوں کو پھرتی ہوئی پائی جاتی ہے۔

جن لوگوں نے اس بڑھیا   نما  چڑیل کو دیکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹے قد ،فربہ جسم ،لمبے بالوں والی بڑھیاراتوں کو وہاں چلتی ہوئی دیکھی جاتی ہے۔

Koh-e-Suleman
کوہ سلیمان

 

کوہ سلیمان

کوہِ سلیمان جنوب مشرقی افغانستان، جنوبی وزیرستان ،  صوبہ بلوچستان کے شمالی علاقوں ، اور صوبہ پنجاب کے جنوب مغربی علاقوں، پر مشتمل  ہندوکش پہاڑی سلسلہ  کی بلند ترین چوٹیہے۔

اس پہاڑ کے بارے میں کئی دلچسپ قصے اور کہانیاں ہیں ، جتنے قصے اور کہانیاں ہیں اُتنا ہی یہ پہاڑ پرُاسرار بھی ہے ، مقامی لوگ اسے “برقعہ پوش پہاڑ ” بھی کہتے ہیں ، برقعہ پوش اس لیے کیونکہ بعض اوقات یہ انتہائی قریب سے بھی دکھائی نہیں دیتا، البتہ بارش ہو جائے تو یہ میلوں دور سے نظر آتا ہے ،  اس پہاڑ پر ایک تخت بھی ہے  جسے مقامی لوگ “تختِسلیمان” کہتے ہیں۔ اس تخت کے بارے میں روایت ہے کہ  اس جگہ پر حضرت سلیمان   کا تخت  جو ہوا میں اُڑتا جا رہا تھا کچھ لمحوں کیلئے ٹھہر گیا، اس پہاڑ کی چوٹی کو بھی دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے یہ خاص طور پر بیٹھنے کی جگہ ہو۔  اس  پہاڑ پر  جنات کی موجودگی کے واقعات  منسوب ہیں۔

Dhabeji
دھابیجی

 

دھابیجی

کراچی سے 15 کلومیٹر دور سندھ کے قصبہ دھابیجی ٹاؤن میں ہارجینہ Harjeena  نامی ایک فشنگ پوائنٹ ہے،  جو آسیبی علاقے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کے مطابق، اکیلے وہاں جانا یا سورج غروب ہونے کے بعد وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔  کہ کہیں آپ رات کو وہاں مچھلی کے شکار کو جائیں اور کسی بے چین بدروح، بھوت پریت کا نشانہ نہ بن جائیں ۔

Shehr-e-Roghan
شہر روغن

 

ہمارے ملک میں متعدد ایسے مقامات موجود ہیں جن سے خود ہمارے ملک پاکستان کی عوام بھی مکمل طور پر واقف نہیں جبکہ یہ مقامات اپنے اندر کئی پراسرار راز سموئے ہیں۔ انہی مقامات میں سے ایک مقام گونڈرانی بھی ہے جسے شہرروغان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس شہر کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں موجود پہاڑوں میں سینکڑوں غاربنے ہوئے ہیں لیکن ان غاروں کی تعمیر کے حوالے سے تاریخ بالکل خاموش ہے۔ گونڈارنی صوبہ بلوچستان میں کراچی سے 175 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع لسبیلہ میں واقع ہے۔ یہ شہر قدیم قصبے بیلہ کے شمال میں 20 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ مورخین کا خیال ہے کہ ان پہاڑوں میں موجود غار  بدھ مت کے پیروکاروں نے تعمیر کیے اور وہ یہاں رہائش پذیر تھے۔ ان غاروں میں چھوٹے چھوٹے کمرے بھی بنے ہوئے ہیں جو مختلف راستوں سے منسلک ہیں۔ برطانوی دور میں یہاں 1500 غار موجود تھے  لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان گنت غار منہدم ہو  چکے ہیں اور اب صرف 500 غار باقی ہیں۔   بلوچستان میں واقع اس شہر  روغن کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جن یا بدروحیں موجود ہیں۔  یہ جن اس علاقے کی پہاڑیوں،غاروں اورندیوں پر رہتے ہیں ہیں اور یہاں آنے والے لوگوں پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔

Hawks Bay Hut, Karachi
ہاکس بے ہٹ ، کراچی

 

کراچی کے ساحلی مقام  ہاکس بے پر واقع ایک مشہور ہٹ آسیب زدہ مشہور ہے اور اسے کوئی کرایہ پر نہیں لے سکتا۔ اگر کوئی بیوقوف یہ حماقت کرے تو وہ صبح ہونے سے قبل ہی چیختا ہوا ہٹ سے باہر آجاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پورے چاند کی رات میں اس ہٹ کے اندر جنات کی شادیاں انجام پاتی ہیں اور یہ جنات بن بلائے مہمانوں یعنی انسانوں سے بہت برا سلوک کرتے ہیں۔

Hundreds year old House in Gujrat
گجرات میں 100 برس قدیم مکان

 

پاکستان  کے شہر گجرات میں سرگودھا روڈ کے قریب ایک 100 سال پرانا مکان موجود ہے،  جس میں مبینہ طور پر بزرگ  انسان کی ایک دوستانہ روح رہتی ہے،   خستہ دیواروں، اردگرد خود رو پودوں سے ایک ڈراونا  نظر آنے والا یہ مکان برسوں سے خالی پڑا ہے، لیکن   بہت سے مقامی لوگوں نے اس مکان میں سفید کپڑوں  میں ملبوس ایک باریش بزرگ کو دیکھنے کا دعوی کیا ہے۔    اس نیک خصلت بزرگ نے کبھی کسی کو آزار نہیں  پہنچایا ، بعض مقامی بچوں  کا  کہنا ہے کہ ان بزرگ ان کے  ساتھ کھیلتے بھی ہیں،  ایک دو مرتبہ تو کرکٹ کھیلنے کے دوران بچوں گیند اگرا س مکان میں چلی گئی تو  بزرگ اسے واپس بھی لوٹاچکے ہیں۔

Peer Chattal Noorani Gandhawa
پیر چٹال نورانی گندھاوا

نورانی گندھاوا

 

ضلع جھل مگسی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ایک ضلع ہے۔ اس کے مشہور علاقوں میں جھل مگسی اور گنداواہ  (گندھاوا) شامل ہیں۔  بلوچستان کے علاقے جھل مگسی کے قریب ایک نخلستان آباد ہے اور اس کے پانی میں دوفٹ لمبی مچھلیاں پائی جاتی ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہ مچھلیاں یہاں کے بزرگ پیر چٹال نورانی کی پالی ہوئی ہیں ، مقامی لوگ ان مچھلیوں کے شکار کا منع کرتے ہیں  اور اگر کوئی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ  مچھلیاں اسے  کاٹ کر زخمی کردیتی ہیں۔

Haunted House in Karachi
کراچی کے آسیبی مکانات

 

pechs

اگر آپ کبھی پی ای سی ایچ ایس PECHS کی گلیوں میں گھومتے رہے ہوں تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہاں ایک خاص مکان سے پراسرار روشنی آ رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں کوئی رہائش پذیر ہے، حالانکہ یہ مکان کئی عشروں سے بند پڑا ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مکان میں سفید لباس پہنے ہوئے ایک کمزور سی خاتون کو اکثر دیکھا ہے جو رات کے پچھلے پہر گلی میں چلتی نظر آتی ہے مگر صبح 3بجے کے قریب غائب ہو جاتی ہے۔

سولجر بازار، کراچی، میں بھی ایک متروکہ مکان آسیب کی وجہ سے بھوت بنگلہ مشہور ہے. کہا جاتا ہے  یہاں غیر معمولی سرگرمیوں کے مختلف واقعات ہوتے رہے ہیں۔  کبھی کبھی رات کو، ایک عجیب آدمی چھت پر آتا ہے اور مدد کے لئے چیختا ہے.

اسی طرح ناظم آباد میں بھی ایک مکان ہے، کہتے ہیں کہ 1992ء میں اس مکان میں ایک نوبیاہتے جوڑے کو وحشیانہ قتل کر دیا گیا، مقامی لوگوں کو ان کی چیخیں آج تک سنائی دیتی ہیں۔

Gorakh Hill Monster
گورکھ ہل کا عفریت

 

سندھ کے شہردادوکے شمال مغرب کوہ کیرتھر پرگورکھ ہل اسٹیشن واقع ہے، یہ صوبہ سندھ کا بلند ترین مقام ہے اور سطح سمندر سے5،688فٹ بلند ہے جوکہ آب و ہوا کے لحاظ سے پاکستان کے مشہور ترین ہل اسٹیشن مری کا ہم پلہ قراردیا جاتا ہے۔  کراچی سے گورکھ ہل اسٹیشن کا فاصلہ 400 کلومیٹرہے۔ یوں تو گورکھ ہل  میں میٹھے چشمے، آبشار اور قدرتی مناظر وافر نظر آتے ہیں  اور فطری خوبصورتی کے رسیا پہاڑوں کا حسن دیکھنے کے لیے اکثر وہاں جاتے ہیں۔     لیکن اس سیاحتی مقام سے کچھ پراسرار باتیں بھی منسوب ہیں۔

گورکھ ہل کے ویرانوں میں آتے جاتے لوگوں کو  ایسے انسانوں کی جھلک نظر آئی ہے جو بن مانس سے مشابہہ تھے،  یعنی قد کاٹھ تو انسانوں جیسا تھا مگر جسم بالوں سے ڈکھا ہوا تھا۔   نہ جانے کتنے برسوں سے یہاں انسان نما بن مانس دیکھنے کے واقعات  ہوتے آرہے ہیں۔  اس بھاری جسامت والے وجود  کا نام   مقامی لوگوں نے ‘‘مم’’ رکھا ہے۔   ایسی ہی مخلوق تبت کے پہاڑوں  میں یٹی Yeti  کے نام سے اور امریکی  جنگلات میں بگ فُٹ کے نام سے مشہور ہے۔

بعض  لوگوں کا کہنا ہے کہ  یہ مخلوق کوئی انسان نما بھیڑیے کی نسل سے ہیں۔ یہاں ایک داستان بھی مشہور ہے کہ صدیوں پہلے یہاں ایک سادھو گورکھ ناتھ مقیم تھے ان کا ایک ملازم  تھا جو دن میں انسان اور رات میں بھیڑیا بن جاتا تھا، کہتے ہیں کہ گورکھ ہل کانام گورکھ بھی اسی وجہ سے پڑا کیونکہ فارسی میں بھڑیے کو گرک کہتے ہیں۔

یہ تھے  پاکستان کے چند   مشہور مقامات جو بھوت پریت، جناب، پریوں اور بلاؤں کی وجہ سے مشہور  ہیں، بھوت پریت، پریوں اور بلاؤں کی کہانیاں ہم سب ہی سنتے آئے ہیں۔کچھ لوگ ان کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسی باتوں کو مذاق میں اُڑا دیتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جنات اور گھروں میں جنات کے بسروں کے حوالے سے کئی کہانیاں موجود ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جنات اور ان کا گھروں میں بسیرامحض من گھڑت کہانیاں ہیں،لیکن بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جنات حقیقت میں موجود ہوتے ہیں اور یہ گھروں میں بھی بسیراکرلیتے ہیں یا یہ پہلے سے ہی گھروں میں موجود ہوتے ہیں اور ہم ان کے مقامات میں قیام پذیر ہوجاتے ہیں۔  ان مقامات سے منسوب باتوں میں کتنی سچائی ہے اور کتنا فسانہ اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے