دنیا کے قدیم ترین شہر بابل کے شرمناک ترین راز….!

بابل شہر

ہمارا آج کا موضوع گفتگو ایک ایسے عجوبۂ روزگار شہر کے بارے میں ہے کہ جو صدیاں گزرجانے کے باوجود ایک پراسرار اہمیت کا مالک ہے۔ کچھ لوگ اسے چاہ بابل یعنی بابل کے اس کنوئیں کی مناسبت سے جانتے ہیں کہ جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے اور اس میں دو فرشتے ہاروت و ماروت قید ہیں اور کچھ لوگ اسے بابل کے معلق باغات کے حوالے سے کہ جو بادشاہ بخت نصر نے اپنی محبوب بیگم کے لیے تعمیر کروائے۔

اس شہر کا تذکرہ توریت ، انجیل اور قرآن پاک کے علاوہ دنیا کی کئی مذہبی کتابوں میں ملتا ہے۔ آئیے اس شہر کی تاریخ اور اس کے رہن سہن پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ میسو پوٹیمیا یعنی عراق کا قدیم ترین شہر بابل ہے، جسے یونانی بے بیلون کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بابل کا مطلب ہے دیوتا کا دروازہ۔ توریت کے مطابق جس جگہ بعد ازاں بابل شہر آباد ہوا اسی جگہ پر حضرت آدم علیہ السلام بھی رہا کرتے تھے اور اسی جگہ پر قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا تھا۔ اس شہر کی ابتداء کب ہوئی اور کس نے کی اس حوالے سے مختلف روایات ملتی ہیں  لیکن اس شہر کا تذکرہ چار ہزار سال قبل مسیح کی تحریروں میں بھی ملتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شہر اس وقت بھی موجود تھا۔

2300قبل مسیح میں اس شہر پر عیلامی خاندان کا قبضہ ہوگیا۔ وہ بادشاہ نمرود اسی خاندان کا حکمران تھا کہ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور اسی نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں زندہ جلادینے کا حکم دیا تھا۔ اٹھارہویں صدی قبل مسیح کے دوران عراق کے مشہور بادشاہ حمورابی نے بابل کو اپنے دارلحکومت کا درجہ دیا اور اس میں بکثرت عمارتیں تعمیر کروائیں، نہریں کھدوا کر آبپاشی کا نظام درست کیا۔ تبھی سے اس شہر نے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کردیں۔ ایک قابل بادشا ہ ہونے کے علاوہ حمورابی ایک زبردست ساحر اور ماہر طلسمات بھی تھا۔  طلسمات  کے موضوع پر اس کی سب سے مشہور تصنیف مکاشفات حمورابی ہے جو کہ شہر ایلم کے کھنڈرات کی کھدائی کے دوران دریافت ہوئی اور اب برٹش میوزیم میں موجود ہے۔

وقت گزرتا رہا اور اور بادشاہتیں تبدیل ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ کلدانی حکمران نبولاسر  کا بیٹا بخت نصر بابل کے تخت پر براجمان ہوا۔ اس نے اپنے لڑکپن میں ہی مصر جیسی قوت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور اپنے آس پاس کی تمام قوتوں کو زیر کرنے کے بعد یہودیوں کے علاقے  یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ ہزاروں یہودی قید کرکے بابل لے آیا اور ان سے دن رات مشقت لی جانے لگی، ان لوگوں میں حضرت دانیال علیہ السلام بھی شامل تھے۔ بخت نصر کے دور کو ہی بابل شہر کے عروج کا دور  کہا جاتا ہے۔ اس نے سلطنت کی زیادہ تر دولت بابل کی تزئین و آرائش ، اس کی فصیل بندیوں اور دفاع پر خرچ کی۔ بخت نصر کی تعمیر ات میں سب سے اہم مقام بابل کے معلق باغات کو حاصل تھا، جو اپنے وقت کے عجائبات میں شمار کیے جاتے۔ یہ باغات اس نے اپنی حسین و جمیل ملکہ امیتس کا دل لبھانے کے لیے تعمیر کروائے تھے۔ یہ دنیا کاواحد عجوبہ ہے کہ جس کا اصل مقام اب تک معلوم نہیں ہوسکا۔

اس کے دور میں بابل علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا سب سے بڑا مرکز بن چکا تھا۔ یونانی مورخ ہیروڈٹس کے مطابق اس دور میں  بابل کی آبادی ساٹھ لاکھ افراد سے تجاوز کرچکی تھی۔ بخت نصر سے پہلے یہ شہر صرف دریائے فرات کے مشرقی حصے پر واقع تھا لیکن بخت نصر نے دریائے فرات پر ایک شاندار پل  تعمیر کرکے  بابل شہر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔  تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی برائیاں بھی اس شہر میں عام تھیں۔ شہر کے مرکزی  چوک میں قائم جادوگروں اور ماہرین طلسمات کی سینکڑوں دکانیں یہاں کے عوام کے ضعیف الاعتقاد ی کا پتہ دیتیں۔ شام ہوتے ہی اس شہر کے بازار حسن قندیلوں سے جگمگا اُٹھتے، جن میں ہزاروں بازاری عورتیں برہنہ حالت میں مسافروں اور راہگیروں کی دل گیری کا سامان کرتیں۔ بابل کے لوگ بت پرست تھے۔ ان کا سب سے بڑا دیوتا بل مردوک کہلاتا۔ عریانیت اور بے حیائی اتنی زیادہ عام تھی کہ دیوتاؤں کے مندر دراصل فحاشی  کے مراکز ہوا کرتے۔ جہاں کنواری لڑکیاں جاکر اپنی دوشیزگی کا عطیہ دیویوں کی نظر کردیتیں۔ بابل کا سب سے بڑا تہوار فیسٹ آف بیلس کہلاتا تھا۔ بابلیوں کے نزدیک یہ دراصل مقدس بیل اور گائے کے ملاپ کا میلہ تھا جو ہر سال دھوم دھام سے منایا جاتا۔ لاکھوں مرد و زن یہ شرمناک تماشہ دیکھنے ایک میدان میں جمع ہوتے۔ اس میدان میں موجود کوئی بھی مرد کسی بھی عورت سے چاہے اس کا تعلق شاہی خاندان سے کیوں نہ ہو۔ اپنی جنسی خواہشات پوری کرسکتا تھا۔ امراء و شرفاء اس تہوار کے شدید مخالف تھے لیکن پجاریوں کے خوف سے کسی کو آواز اُٹھانے کی ہمت نہ ہوتی۔ یہاں تک کہ  ایک مرتبہ خود بخت نصر کی پوتی کی آبروریزی اس تہوار کے موقع پر ہوئی، لیکن بادشاہ صرف تلملا کر رہ گیا۔ شہر بابل ایک پراسرار کنوئیں کی نسبت سے بھی شہرت کا حامل ہے کہ جسے چاہِ بابل کہا جاتا تھا۔ یہ دراصل ایک زندان یعنی قید خانہ تھا، جس میں دوسرے شہروں پر حملہ کرکے وہاں سے لائے گئے دیوتی دیوتاؤں کے بت قید کیے جاتے۔ اسی لیے اسے ایک پراسرار اور خوفناک مقام کی حیثیت حاصل تھی اور یہی وہ کنواں ہے کہ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں دو فرشتے ہاروت اور ماروت قید ہیں  کہ جو یہودی روایات کے مطابق بیدخت نامی ایک خوبصورت عورت کے ساتھ زنا، شراب نوشی اور پھر قتل جیسے گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ ہاروت و ماروت کے بارے میں ایک تفصیلی آرٹیکل انشاء اللہ جلد پیش کریں گے۔ بخت نصر کے مرنے کے بعد اس شہر پر ایران کے بادشاہ سائرس دی گریٹ کا قبضہ ہوگیا، اور یہ شہر ایرانی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا۔ بعد ازاں اسے سکندر اعظم  نے ایرانیوں  سے چھین لیا اور پھر اسی شہر میں سکندر اعظم کی موت واقع ہوئی۔ سکندر اعظم کے بعد اس شہر کی حکومت زیادہ تر غیر ملکیوں کے ہاتھوں میں رہی، جنہوں نے اس شہر کی فلاح و بہبود پر کوئی خاص توجہ نہ دی، آنے والے ادوار میں  بابل کی جگہ اسکندریہ، اتھینز اور قسطنطنیہ جیسے شہروں نے لے لی جبکہ بابل آہستہ آہستہ گمنامی کے اندھیروں  میں ڈوبتا چلاگیا۔ عباسی خلفاء کے دورِ حکومت تک بابل کی جگہ صرف ایک چھوٹا سا گاؤں موجود تھا لیکن موجودہ دور میں  بغداد سے صرف 65 کلومیٹر کے فاصلے پر بابل شہر کے صرف عظیم الشان کھنڈرات موجود ہیں۔ مسیحی روایات کے مطابق یہ شہر بابل قیامت سے قبل ایک مرتبہ پھر آباد ہوگا اور یہیں خیر و شر کی بڑی بڑی جنگیں لڑی جائیں گی اور آخر میں اس بات کے ساتھ اس مضمون کا اختتام کرنا چاہوں گا کہ بتائی گئی  یہ تمام باتیں صرف روایات ہیں۔ حقیقت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے