پو ٹوسٹر Poe toaster!کیا وہ کوئی جن تھا جسے سارا گاؤں مل کر نہ روک سکا۔

Poe toaster

جنوری کی سرد صبح، بالٹی مور میری لینڈ کا قبرستان، پوکی قبر۔ ہر طرف گہری دھند چھائی ہوئی۔ 19 جنوری 1949ء قبرستان کے گیٹ سے ایک آدمی آہستہ آہستہ چلتا ہوا  ایڈگر ایلن پو کی قبر کے پاس آتا ہے۔

اس آدمی کا حلیہ بھی عجیب ہے۔ اس نے ایک فلیٹ ہیٹ پہن رکھا ہے۔ سیاہ رنگ کا ایک لمبا سا اوور کوٹ اس کے جسم پر ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں شراب کی ایک بوتل ہے۔

اس پراسرار آدمی کو دیکھنے والا ایک بوڑھا ہے جو ہر صبح اپنی بیوی کی قبر پر پھول چڑھانے کےلیے آتا ہے۔ اس بوڑھے کو اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ اس کا گھر بھی قبرستان کے پاس ہی ہے۔  اسی لیے اسے قبرستان آنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ وہ بوڑھا اس پراسرار اجنبی کو حیرت سے دیکھتا ہے لیکن اجنبی کو اس بات کی پروا نہیں ہے کہ کون اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ پو کی قبر کے پاس آکر کھڑا ہوتا ہے۔ شراب کی بوتل کھولتا ہے۔ تھوڑی سی شراب پی کر بقیہ بوتل وہیں قبر کےپاس رکھ دیتا ہے۔ کچھ دیر تک گردن جھکائے کھڑا رہتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا قبرستان سے باہر چلا جاتا ہے۔ بوڑھے کےلیے یہ سب کچھ حیرت انگیزتھا۔

وہ گھر آکر اپنے بیٹوں کو بتاتا ہے لیکن کوئی زیاددہ دھیان نہیں دیتا کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہی رہتےہیں۔ ان میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔

بوڑھے کو وہ آدمی کئی دنوں تک دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ بوڑھا اپنی عادت کےمطابق روزانہ قبرستان جایا کرتا ایک صبح ایسے ہی سرد موسم میں وہ پراسرار اجنبی پھر دکھائی دے جاتا ہے۔ وہ فروری کی انیس تاریخ ہے۔

بوڑھے کو یہ تاریخ اس لیے یاد رہی کہ اس کی شادی کی سالگرہ کا دن تھا۔ وہ گھر آکر پھر اس پراسرار اجنبی کا ذکر کرتا ہے۔ اس مرتبہ اس کے بیٹے کسی حد تک اس معاملے میں دلچسپی  لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ بوڑھا اپنے ایک دوست سے اس اجنبی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ‘‘میرا  خیال ہے کہ وہ اجنبی انیس ہی تاریخ کو آتا ہے۔’’

‘‘یہ تم کیسے کہہ سکتےہو….؟’’

‘‘اس لیے جب وہ پچھلی مرتبہ دکھائی دیا تھا تو انیس جنوری تھی۔’’ بوڑھے نے بتایا ‘‘پھر وہ انیس فروری کو دکھائی دیا۔’’

‘‘کیا دوسری مرتبہ بھی  وہ شراب کی بوتل اپنے ساتھ لایا تھا….؟’’ دوست نے پوچھا۔

‘‘ہاں، دوسری مرتبہ بھی۔’’ بوڑھے نے جواب دیا۔

‘‘چلو، تو پھر انیس مارچ کی صبح میں بھی تمہارے ساتھ قبرستان چلوں گا۔’’ اس کے دوست نے کہا۔

انیس مارچ کی صبح دونوں بوڑھے قبرستان میں تھے۔  کہر آلود ٹھنڈی صبح تھی۔ وہ اجنبی پھر دکھائی دے گیا۔ اس کا وہی حلیہ تھا۔ فلیٹ ہیٹ، اوور کوٹ اور ہاتھ میں شراب کی بوتل۔ وہ کسی پر دھیان دیے بغیر سیدھے پو کی قبر کے پاس گیا۔ وہاں کھڑے ہوکر اس نے آدھی بوتل شراب پی اور  بچی ہوئی شراب کی بوتل پو کی قبر کےپاس رکھ کر قبرستان کےگیٹ سے باہر چلا گیا۔ دونوں دوست حیرت زدہ ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے تھے۔

‘‘خدا جانے یہ کیا سلسلہ ہے….؟’’ بوڑھے کے دوست نے کہا ‘‘چلو، ایک مقررہ تاریخ پر قبر پر آنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن شراب کی بوتل کیوں رکھ کر چلاجاتا ہے….؟’’

‘‘اور آدھی شراب پی کر بقیہ آدھی کیوں چھوڑ جاتا ہے۔’’

‘‘کیوں نہ اگلی انیس کو اس کےپاس چل کر اس سے پوچھا جائے….؟’’ دوست نے مشورہ دیا۔

پھر اپریل کی انیس تاریخ آگئی۔ موسم اب بھی سرد تھا لیکن قابل برداشت تھا۔ اس مرتبہ اس آدمی کو دیکھنے کے لیے بوڑھے اور اس کےدوست علاوہ دو چار اور بھی تھے جو ایک پراسرار شخصیت کو دیکھنے کے شوق میں چلے آئے تھے۔

وہ پراسرار اجنبی معمول کے مطابق اپنے وقت پر نمودار ہوا۔ آج بھی اس کا وہی لباس تھا۔ وہی انداز، وہی حلیہ۔ وہ اسی طرح آہستہ آہستہ پو کی قبر کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ اس نے بوتل سے شراب پی اور جب آدھی بوتل رکھ کر واپس جانے لگا تو یہ لوگ اس کےسامنے آگئے۔لیکن ان میں سے کسی میں اتنی ہمت نہ ہوسکی کہ وہ اس سے کچھ پوچھ سکیں۔ اس نے جب ذرا سی فلیٹ ہیٹ اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا تو وہ سب بوکھلا کر کئی قدم پیچھے ہٹ گئے۔ اس شخص کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ان آنکھوں سے آگ نکل رہی ہو۔ آگے آنے والے بری طرح خوف زدہ ہوگئے تھے، پھر وہ اطمینان کے ساتھ ان کے درمیان سے نکلتا چلا گیا۔

ایسا نہیں ہوا کہ وہ دکھائی نہ دیا ہو۔ اگلے مہینے یعنی مئی کی 19 تاریخ کو وہ پھر پو کی قبر پر آگیا۔ حالانکہ اب گرمی کا موسم تھا لیکن اس کے لباس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ اس مرتبہ اس کا راستہ گھیرنے کے لیے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی لیکن اس مرتبہ بھی کسی میں اتنی ہمت نہیں  ہوسکی تھی کہ اس کا راستہ روک سکے یا اس سے کچھ پوچھ سکے۔  البتہ کچھ لوگوں نے اس کا تعاقب کرنے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن وہ اس کا سراغ نہیں لگا سکے تھے۔ وہ قبرستان کے گیٹ سے باہر نکل کر اس طرح غائب ہوگیا تھا جیسے فضا میں تحلیل ہوگیا ہو۔

چونکہ اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا۔ لوگ اس کے نام سے بھی ناواقف تھے اس لیے شناخت کےلیے  Poe Toaster کہا جانے لگا تھا۔

وہ برسوں تک اسی طرح پو کی قبر پر ہر انیس تاریخ کی صبح شراب کی بوتل ہاتھ میں لیے آتا ہوا دکھائی دیتا رہا۔ اس کے بعد وہ اچانک غائب ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے