چند کوے! جو دنیا کے طاقتور ترین ملک برطانیہ کے محافظ ہیں۔

آج ہم بات کریں گے اُن چند ہیروز کی جو دنیا کے عظیم شہر لندن کےرکھوالے ہیں۔اگر یہ نہ ہوتے تو شاید تاج برطانیہ نیست و نابود ہوچکا ہوتا یہ ماننا ہے برطانوی لوگوں کا۔ ہم سپرمین، بیٹ مین یا پھر ایونجرز کی بات نہیں کررہے۔  بلکہ یہاں بات ہورہی ہے ٹاور آف لندن یعنی لندن  کے مینار پر ہمیشہ موجود رہنے  چھ کوؤں کی۔ جی ہاں دوستو دور قدیم سے یہ بات مانی جاتی ہے کہ یہ کوےہی تاج برطانیہ  اور لندن کے اصل محافظ ہیں۔ ٹاور آف لندن پر ان  کوؤں کی موجودگی   برطانیہ کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ برطانوی باشندوں کے مطابق اگر یہ کوے  مرجائیں یا پھر ٹاور سے اُڑ جائیں تو وہ دن مملکت برطانیہ کا آخری دن ہوگا۔

دورِ قدیم اور دورِ وسطیٰ میں لندن سمیت تمام ملک میں جنگلی کوؤں کی بھرمار تھی  سو پچھلے ادوار میں یہ کوے ٹاور آف لندن پر قدرتی طور پر پائے جاتے لیکن جیسے جیسے انسانی آبادی بڑھتی گئی کوؤں کی نسل ختم ہوتی رہی اور اب یعنی موجودہ دور میں  چند کوے ٹاور آف لندن میں پالے جاتے ہیں۔ حکومت برطانیہ کی دیگر افواج کی طرح   ان کووں کو بھی  سولجرز کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ ان کے لیے اٹیسٹیشن کارڈ ایشو کیا جاتا ہےجبکہ کسی کوے  کے نامناسب سلوک پر اسے ڈس مس بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان کی خدمت کے لیے ہمیشہ ایک شاہی آفیسر جسے ریون ماسٹر کہا جاتا  ہے متعین رہتا ہے۔

ویسے تو ان کوؤں کے پر باندھ کر انہیں ٹاور آف لندن پر رکھا جاتا ہےتاکہ وہ صرف مختصر اُڑان ہی بھرسکیں لیکن ان کنوؤں کی حیثیت کسی بھی طرح شاہی مہمانوں سے کم نہیں ہوتی۔ان کی تواضع کے لیے شاہی  کھانابھی موجودرہتا ہے تو کام کاج کے لیے نوکر بھی، اور ان کی رہائش کے لیے گھر بھی بنائے گئے ہیں آخر کہ وہ برطانیہ کے محافظ   جوٹھہرے۔  تو دوستو آخر برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک  میں جہاں  آکسفورڈ جیسے تعلیمی ادارے قائم ہیں  اورجہاں کے لوگ خود کو دنیا کی مہذب ترین قوم تصور کرتے ہیں۔ اس قوم میں کووں کو اپنا محافظ سمجھنے کے پیچھے آخر کونسی کہانی چھپی ہے ۔

اس بارے میں برطانوی تاریخ  کی ایک روایت ہے کہ  قدیم انگلستان میں  برین دی بلیسڈ نامی ایک  بہت طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کی ایک نہایت چہیتی اور خوبصورت بہن بھی تھی جس کا نام شہزادی برین وین تھا۔ انگلستان کے بادشاہ  برین نے  آئرلینڈ کے ایک بادشاہ میتھولیچ سے اپنی بہن برین وین کی شادی طے کردی۔ یہ شادی دونوں ممالک کے درمیان امن و امان کے قیام کے لیے کی گئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا کیونکہ اس شادی میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے دونوں فریقین کے درمیان رنجشیں پیدا کردیں۔  ہوا یوں کہ  دلہن شہزادی یعنی برین وین کا ایک سوتیلا بھائی ایفن سین بھی اس شادی میں شریک ہوا۔ ایفن سین کو یہ گلہ تھا کہ اس کی بہن کی شادی میں  اس کی مرضی شامل نہ کی گئی تھی۔ اسی غصے میں ایفن سین نے آئرلینڈ کے بادشاہ  میتھولیچ کے پسندیدہ گھوڑے کوتشدد کا نشانہ بنایا اور اسے اپاہج کردیا۔  میتھولیچ اس واقعہ پر شدید غصہ ہوا لیکن  انگلستان کے بادشاہ برین کے سمجھانے  اور گھوڑے کے بدلے کچھ دوسرے تحائف دینے کے سبب خاموشی اختیار کرلی۔  فی الحال تو شادی بخیروعافیت انجام پائی لیکن میتھولیچ کی یہ خاموشی صرف وقتی ثابت ہوئی اپنے گھوڑے کو ناکارہ کرنے کا جرم اس نے شہزادی برین وین پر عائد کیا اور اس سے شدید وحشیانہ سلوک برتنے لگے۔ شاہی باورچی خانے اور دوسری اعلیٰ جگہوں پر برین وین کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ اس سے  نوکرانیوں کی طرح کام لیا جاتا جبکہ بادشاہ میتھولیچ اسے روز جانوروں کی طرح پیٹا کرتا۔  اس شادی کے نتیجے ان دونوں کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام گارن رکھا گیا، اس کے باوجود  شہزادی برین وین پر کیے جانے والے ظلم و ستم میں کوئی کمی نہ آئی۔  آخر کار ایک روز شہزادی برین وین ایک چھوٹے سے پرندے اسٹارلنگ کے ذریعےاپنے بھائی اور انگلستان کے بادشاہ برین تک یہ پیغا م پہنچانے میں کامیاب رہی کہ وہ بہت خراب حالت میں ہے  اور اس کا بھائی اسے یہاں آکر بچالے ۔یہ پیغا م ملتے ہی بادشاہ برین ایک بڑی فوج لے کر  سمندر کو پار کرتا ہوا آئرلینڈ پہنچ گیا۔ بادشاہ برین یعنی انگلستان کی فوج آئرلینڈ کی فوج سے بہت زیادہ طاقتور تھی لیکن   خود انگلستانی فوج کی غلطیوں کے سبب اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بادشاہ برین اس جنگ میں مارا گیا جبکہ اس کی بہن برین وین جو اس جنگ کا سبب بنی تھی اس نے بھی خود کشی کرلی۔  اس پوری جنگ میں صرف سات انگلستانی  لوگ زندہ بچ سکے، جنہیں بادشاہ برین نے مرتے وقت یہ وصیت کی تھی کہ مجھے یہاں دفن نہ کرنا بلکہ میرے سر کو کاٹ کر انگلستان لے جانا اور وہیں دفن کرنا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے بادشاہ کی وصیت پر عمل کیا اور ا س کے سر کو انگلستان لا کر ایک سفید پہاڑی پر دفنایاگیا۔ دوستو یہ وہی سفید پہاڑی تھی جہاں آج ٹاور آف لندن قائم ہے۔ اور روایات کے مطابق اسی جگہ دفن ہے بادشاہ برین کا سر۔ آگے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب سے برین کا سر یہاں دفن ہوا تب ہی سے یہ مقام  ریونز یعنی جنگلی کوؤں کی آماجگاہ ہے۔ جبکہ لفظ برین جو کہ ایک ویلش ورڈ ہے اس کا مطلب بھی  ریون یعنی جنگلی کوا ہی ہے۔

دورِ وسطیٰ میں یہ مقام  پھانسی دینے یعنی ایگزیکیوشنز کے لیے بھی مخصوص تھااور برطانوی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب کسی بے گناہ کو پھانسی دی جاتی  تو یہ تمام کوے  بالکل خاموشی سے تماشہ دیکھتے جیسے کہ یہ سب سوگ منارہے ہوں اس کے برعکس جب کوئی مجرم پھانسی چڑھتا تو یہ اس کا سر نوچ نوچ کر کھا جاتے۔  اور موجودہ ماہرین کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ ٹاور آف لندن کی کوؤں کی آماجگاہ بننے کی سب سے بڑی وجہ  یہاں مجرموں کو  سزائے موت دینا تھی۔ جس کے بعد ان کوؤں کو بھرپیٹ کھانا ملتا۔ یہ سب باتیں آپ کو الف لیلوی داستانیں محسوس ہوں گی پر دوستو انگلینڈ کے رہنے والے تو ان باتوں  پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔  جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم   کے دوران جب جرمنی نے   لندن پر کئی رو ز بمباری کی تھی  ، تاریخ میں اس خوفناک بمباری کو   دی بلٹز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس بمباری کے سبب  ٹاور آف لندن کے تمام کوے مرگئے  اور صرف ایک کوا ہی زندہ بچا۔  اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس دور کے برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے ہنگامی طور پر نئے کوؤں کو ٹاور آف لندن پر بٹھانے کا حکم دیا۔   جبکہ دقیانوسی خیالات کے حامل افراد آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایک کوا بھی مرجاتا تو شاید  آج جنگ عظیم دوم کے نتائج مختلف ہوتے۔   یہ کوے آج بھی ٹاور آف لندن کی منڈیروں پر بیٹھے دیکھے جاسکتے ہیں اور  ان کوؤں کے ذریعے دنیا بھر سے آئے ہزاروں سیاح  روز اس ترقی یافتہ اور روشن خیال ملک کی قدامت پرستی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے