چنگیز کی داستانِ عشق! اُس نے اپنی محبوبہ بورتائی کے لیے دنیا فتح کرڈالی۔

چنگیز خان

ترکوں کے جدِ امجد  جن کا نام ترک  تھایافث بن حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ترک بن یافث کی نسل میں النجہ نامی ایک شخص کے گھر دو جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک نام مغول اور دوسرے کا نام تاتار رکھا گیا۔ ان دونوں بیٹوں سے جو نسلیں چلیں وہ مغول اور تاتار کہلائیں۔  دو سگے بھائیوں کی اولاد ہونے کے باوجود ان کے درمیان خونریز معرکے ہوتے رہتے ۔ جن میں اکثر و بیشتر تاتاری فتح یاب ہوتے اور مغلوں کو غلام یا باندیاں  بنالیا جاتا۔ چنگیز خان کا تعلق بھی اسی مغول قبیلے سے تھا جو منگولیا  کے بے آب و گیاہ صحرائے گوبی کا رہنے والا تھا  اور یکا مغل کہلاتا۔

اکثر لوگ چنگیز خان کوتاتاری قرار دیتے ہیں جو کہ ایک تاریخی غلطی ہے۔ یہی مغول آگے چل کر مغل کہلائے جنہوں نے کئی سو سال  مکمل ہندوستان پر حکومت کی۔ چنگیز خان کے باپ کا نام یسوکا تھا جو اپنے قبیلے کا سردار تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنے پڑوسی قبیلے پر  عین اس وقت حملہ کیا جب  چنگیز خان کی ماں اولون کی شادی ہورہی تھی ۔ وہ اسے اُٹھا کر اپنے گھر لے آیا اور اپنی بیوی بنالیا۔ اس کے قبیلے والے جانتے تھے کہ   آج نہیں تو کل اولون کے وارث اس کا  بدلہ لینے ضرور آئیں گے۔ بہرحال اس شادی کے نتیجے جو لڑکا پیدا اس کا نام تموجن رکھا گیا جو آگے چل کر چنگیز خان بنا۔  یہ لڑکا اپنے بچپن سے ہی نہایت سخت طبیعت کا مالک تھا۔  ایک مرتبہ اس نے اپنے سوتیلے بھائی کو محض اس بات پر مار ڈالا تھا کہ اس نے  تموجن کی مچھلی چرالی تھی۔ جبکہ ایک بار وہ اپنے سگے بھائی قسار کو مارنے بھی روانہ ہوا لیکن ان دونوں کی ماں اولون نے قسار کی جان بخشی کروائی۔

ایک مرتبہ تموجن اپنے باپ کے ساتھ حالت سفر میں تھا۔ اس وقت تموجن کی عمر صرف تیرہ سال تھی ۔ راستے میں انہوں نے ایک انجان  بستی میں پڑاؤ ڈالا۔ جہاں تموجن کی ملاقات ایک  چھوٹی سی لڑکی بورتائی سے ہوئی۔ وہ اسے پہلی ہی نظر میں اتنی اچھی لگی کہ تموجن نے اپنے باپ یسوکا کو بتایا کہ وہ   بورتائی سے شادی کرنا چاہتاہے۔ جس پر یسوکا نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہاکہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔  تموجن نے جواب دیا کہ وہ بڑی ہوکراتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے لیے مستقبل میں بہت  قبیلوں سے لڑنا ہوگا۔  یہ بات تموجن کے باپ یسوکا کو سمجھ آئی اور اس نے  بستی کے سردار اور بورتائی کے باپ  سے  ان دونوں کے رشتے کی بات کی۔ سردار اس رشتے پر بہت خوش ہوا اور ان دونوں کی منگنی کردی گئی۔ یسوکا نے اپنے بیٹے تموجن کو کچھ دن اسی بستی میں گزارنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ اپنے سسرالیوں کے رسم و رواج سے واقف  ہوجائے اور خود اپنی منزل کی جانب کوچ کیا۔   یہاں تموجن نے اپنی کم سن محبوبہ کے ساتھ چند ہی دن گزارے تھے کہ ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کے باپ یسوکا کو زہر دے دیا گیاجو اس وقت حالت مرگ میں ہے  اور اس نے تموجن کو طلب کیا گیا۔ جب تک تموجن وہاں پہنچا اس کا باپ یسوکا مرچکا تھا۔

تموجن  کے باپ یسوکا کے مرنے کے بعد یہ قبیلہ منتشر ہوگیا۔ چونکہ تموجن سمیت یسوکا کے تمام بچے ابھی کم عمر تھے ، اس لیے کوئی بھی سرداری کے لائق نہ تھا۔ ایسے میں چنگیز خان کی ماں اولون نہایت استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو روکنے میں کامیاب رہی۔ لیکن  جنگجوؤں کی نہایت کم تعداد کے سبب یہ قبیلہ  دشمنوں کا نہایت آسان ہدف بن گیا۔  چنانچہ  تموجن سمیت یہ لوگ اب اپنی زندگی صحرا میں چھپتے چھپاتے گزارنے لگے۔ پانچ سال بعد جب تموجن ایک کڑیل  جوان بنا اور اپنے  قبیلے  کو واپس مستحکم کرنے میں کامیاب رہا تو وہ  دوبارہ بورتائی کی بستی گیا اور وہاں  جاکر اپنی امانت طلب کی۔  ان پانچ سالوں میں اب بورتائی بھی  جوان ہوچکی تھی ۔ قبیلے کے رسوم و رواج کے مطابق ان دونوں کی شادی ہوئی۔ تموجن اور بورتائی دونوں اس شادی سے بے حد خوش تھے ۔اس وقت  ایک چھوٹی سی صحرائی بستی میں رہنے والی اس نوجوان لڑکی نے کبھی اپنے خوابوں میں بھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ وہ  ملکہ ٔ عالم یعنی تمام دنیا کے ملکہ بننے والی ہے۔ جس کی سلطنت سکندر اعظم اور رومن ایمپائر سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہوگی۔

ابھی اس شادی کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک رات  شمالی میدانوں میں بسنے والے ایک طاقتور قبیلے مرکٹس نے  تموجن  کے قبیلے پر اس وقت حملہ کیا جب وہ  نیند کی آغوش میں تھے۔ یاد رہے دوستو یہ وہی قبیلہ تھا کہ جس کی ایک عورت  یعنی اولون کو  تموجن کا  باپ یسوکازبردستی اُٹھالایا تھا۔   مرکٹس کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ تموجن  تو بھاگنے میں کامیاب رہا لیکن وہ بورتائی کو نہ بچاسکا۔ مرکٹس بورتائی کو اُٹھا کر اپنے ساتھ  لے گئے  اور اسے اپنے ایک آدمی کے حوالے کردیا لیکن بورتائی خاتون  نے اس شخص کے پاس بھی صرف 8 ماہ ہی گزارے ۔  اُس وقت تموجن کے پاس اتنے آدمی نہ تھے کہ وہ اپنی دلہن واپس لیتا چنانچہ وہ قرایت قبیلے کے سردار طغرل کے پاس پہنچا ، اس کی  مدد سے ایک رات مرکٹس پرجوابی حملہ کیا اور دشمنوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ یہاں تموجن نے بورتائی کو تلاش کیا جو ایک جلتے ہوئے خیمے میں سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔ اب تموجن اپنی محبوبہ کو واپس اپنے گھر لے آیا۔

تموجن جانتا تھا کہ دشمنوں نے  بورتائی کو ہر طرح سے استعمال کیا ہوگا لیکن اس نے زندگی بھر اسے کبھی اس بات کا طعنہ نہیں دیا بلکہ وہ اپنی آخری سانس تک بورتائی سے بے پناہ محبت کرتا رہا۔   تموجن  یعنی چنگیز خان  کا پہلا بیٹا جوجی  جو بورتائی  کو دوبارہ حاصل کرنے کے کچھ ہی دن بعد پیدا ہوا چنگیز  خان کی نہیں بلکہ اس مرکٹ کی اولاد تھا    جس کے پاس بورتائی آٹھ ماہ رہی تھی۔ اس کے باوجود اس نے اپنے باقی بیٹوں اور جوجی کے درمیان کبھی فرق نہیں کیا بلکہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جوجی ہی اس کا سب سے پسندیدہ بیٹا تھا۔ جوجی اس کی زندگی میں نہ مرتا تو یقینی طور پر وہی اس کا جانشین ہوتا۔ بورتائی  کے علاوہ بھی  چنگیز خان کی کئی اور بیویاں تھی لیکن اس کی اصل ملکہ کا خطاب بورتائی ہی کو نصیب ہوا اور بورتائی خاتون کے بیٹوں کو ہی چنگیز خان  کی وراثت ملی جبکہ باقی بیویوں سے ہونے والے بیٹوں کا تاریخ میں صرف مبہم سا نام ملتا ہے۔ 44 سال کی عمر میں تموجن کو تمام مغل قبیلوں نے اپنا واحد سردار تسلیم کرلیا اور اسے چنگیز خان کا لقب دیا گیا۔   کچھ مورخین کے مطابق تموجن کے لیے  چنگیز خان کا لقب ایک جادوگر نے تجویز کیا تھا، جسے بعد ازاں چنگیز خان کے ایک فوجی عہدیدار نے ہی قتل کردیا۔  چنگیز خان نے اپنے دارلحکومت کے لیے قراقرم کا انتخاب کیا تھا۔ جہاں ایک سفید اونچے شامیانے میں وہ اپنا دربار منعقد کیاکرتا۔  یہاں  چنگیز خان ایک چھوٹی سی کرسی پر براجمان ہوتا اور اس کے بائیں  جانب اس کی ملکہ بورتائی بیٹھا کرتی۔

تواریخ میں ہے کہ چنگیز خان نے اور بھی بہت شہزادیوں اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے شادی کی لیکن اس کی ملکۂ عالم ہونے اعزاز صرف اور صرف اس کی بچپن کی محبوبہ بورتائی کے حصے میں ہی آیا۔ جو  ہر معرکے ، ہر جنگ اور ہر تکلیف میں ہمیشہ سائے کی طرح چنگیز خان کے ساتھ رہی۔ بورتائی خاتون کے ساتھ   52 سال گزارنے کے بعد 65 سال کی عمر میں چنگیز خان نے وفات پائی۔ جب وہ مرا تو ایک لق دق صحرا میں اور اپنے گھر سے ہزاروں میل دور تھا۔ لیکن  چنگیز خان نے مرتے ہوئے یہ وصیت کی  کہ اس کی لاش دفن کرنے کے لیے بورتائی کے خیمے سے اُٹھائی جائے۔ چنانچہ دنیا کے اس ظالم ترین  لیکن بورتائی کے محبوب ترین شخص کو دفن کے لیے بورتائی کے خیمے میں لے جایا گیا۔   آج کے دور میں کہ جب تموجن یعنی چنگیز خان کی قبر کا نام و نشان مٹ چکا ہے لیکن تاریخ میں آج تک چنگیز خان کی وحشت و ظلمت بھی زندہ ہے اور بورتائی سے اس کی بے پناہ محبت کی داستان بھی۔ انشاء اللہ اگلی کسی ویڈیو میں ہم چنگیز خان کی  بے مثال فتوحات اور   اس کے ظلم و بربریت کے بھی قصے بیان کریں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے