ڈین کُوپر D.B. Cooper! نہ وہ جہاز میں چڑھا اور نہ اُترا پھر بھی سارا جہاز لوٹ لیا۔

D.B. Cooper

لوگ نہیں جانتے کہ یہ اس کا نام بھی تھا یا نہیں یا صرف شناخت کے طور پرا سے ڈی بی کوپر کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک عجیب پراسرار انسان تھا۔

یہ واقعہ 24 نومبر 1971ء کا ہے۔ طیارہ اپنی منزل کی طرف محو پرواز تھا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ موسم کی رپورٹ بھی اچھی تھی۔ طیارے کے مسافر گرما گرم کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کہیں بھی ایسے آثار نہیں تھے جن سے یہ اندازہ ہوسکے کہ جہاز میں کسی قسم کی گڑ بڑ ہونے والی ہے۔ جہاز کی ائرہوسٹیس مسافروں کی گرم جوشیوں کا جواب اپنی مسکراہٹوں سے دے رہی تھیں کہ اچانک ایک آدمی کھڑا ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ریوالور تھا۔

‘‘سب میری طرف متوجہ ہوں۔’’ اس نے آواز لگائی ‘‘میرا نام ڈی بی کوپر ہے۔’’

اس کےہاتھ میں ریوالور تھا۔ اسی لیے سب کو اس کی طرف متوجہ ہونا ہی تھا۔ اس زمانے میں معاشرے میں تشدد کا اتنا رواج نہیں ہوا تھا۔ چاہے وہ مشرقی معاشرہ ہو یا مغربی۔  اور جہاز میں سفر کرنے والے جس طبقے کےلوگ ہوتےہیں،  وہ عام طور پر لڑائی بھڑائی سے پرہیز ہی کیا کرتے ہیں اسی لیےجب انہوں نے اچانک ایک مسافر کےہاتھ میں ریوالور دیکھا تو سب بری طرح خوف زدہ ہوگئے۔

‘‘معاف کیجیے خواتین و حضرات!’’ کوپر نے کہا ‘‘میں آپ لوگوں کو زیاددہ پریشان نہیں کروں گا۔’’ اس کا لہجہ بھی بہت شائستہ اور سلجھا ہوا تھا۔

‘‘کیا تم جہاز کو اغوا کرنا چاہتے ہو….؟’’ ایک مسافر نے اس کے نرم لہجے سے ہمت پا کر سوال کیا۔

‘‘ارے نہیں۔’’ کوپر مسکرا دیا‘‘وہ بڑے لوگوں کےکام ہیں۔ میں بےچارہ تو ایک غریب، معمولی انسان ہوں۔’’

‘‘تو پھر تم کیا چاہتے ہو….؟’’

‘‘پیسے۔’’ کوپر نے کہا ‘‘آپ حضرات اور خواتین اپنی ساری رقم نکال کر میرے اس تھیلے میں ڈال دیں۔’’ اس نے اپنی جیب سے پلاسٹک کا ایک بڑا سا بیگ نکال کر ایک خوفزدہ ائر ہوسٹیس کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ وہ ائر ہوسٹیس سہمی ہوئی اس کےپاس پہنچ گئی تھی۔

‘‘گھبراؤ نہیں۔’’ کوپر نے کہا ‘‘میں کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ تم یہ بیگ لو اور لوگوں  سے رقم لے لے کر اس میں رکھنا شروع کردو۔ جس طرح چرچ کے چندے لیے جاتے ہیں، شاباش!’’

‘‘اور اگر کوئی نہ دے تو….؟’’ ائر ہوسٹیس نےپوچھا۔

‘‘پھر تو مجبوری ہے۔’’ کوپر کا چہرہ سخت ہوگیا تھا۔ اب جو وہ  بولا تو اس کی آواز میں بےرحمی شامل تھی ‘‘میں انکار کرنے والے کو یہیں ڈھیر کردوں گا۔ کیونکہ میں صرف شوقیہ طور پر  جہاز میں بیٹھ کر لوٹ مار نہیں کر رہا ہوں، بلکہ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر یہاں تک آیا ہوں۔’’

اس کے لہجے کی سختی نے لوگوں کو مزید خوفزدہ کردیا تھا۔ ائر ہوسٹیس ہر ایک سے رقم اکٹھا کرتی جارہی تھی کہ ا چانک ایک آدمی نے ائر ہوسٹیس کو پکڑ لیا۔

اس نے بڑی پھرتی سے ائر ہوسٹیس کو ڈھال بنالیا تھا۔ ‘‘کوپر! اپنا ریوالور پھینک دو۔’’ اس آدمی نے کہا ‘‘ورنہ میں ائرہوسٹیس کی گردن توڑ دوں گا۔’’

‘‘توڑ دو۔’’ کوپر بےرحمی سے بولا ‘‘تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ ائرہوسٹیس میری بیوی یا محبوبہ ہے کہ میں اس کا خیال کروں گا لیکن پھر یہ سوچ لو کہ اس کے بعد تمہاراکیا ہوگا….؟’’

اس آدمی کے پاس اب کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ وہ ائرہوسٹیس کو چھوڑ دے۔ اس نے ائرہوسٹیس کو چھوڑ دیا۔ ائرہوسٹیس نے خوفزدہ ہو کر پھر سے اپنا کام شروع کردیا۔ پھر اچانک کوپر کے ریوالور سے ایک گولی نکلی  اور اس آدمی کے بازو  میں پیوست ہوگئی جس نے ائرہوسٹیس کو پکڑا تھا۔ وہ آدمی بری طرح چیخ رہا تھا۔

‘‘بس خاموش رہو۔’’ کوپر غرایا ‘‘یہی گولی میں تمہارے سینے میں بھی مار سکتا تھا لیکن صرف تھوڑی سی سزا دی ہے۔ اگر یہاں کوئی ڈاکٹر ہے تو اس کی مرہم پٹی کردے۔’’

اتفاق سے ایک سرجن اپنے اوزاروں کےس اتھ اسی طیارے میں سفر کر رہا تھا۔ وہ اس زخمی کی طرف متوجہ ہوگیا۔

‘‘تمہارا کیا خیال ہےکہ تم ائرپورٹ اتر کر بچ جاؤگے….؟’’ ایک عورت نے کوپر سے پوچھا۔

‘‘نہیں میڈم! میں اتنا بےوقوف نہیں ہوں کہ کسی ائرپورٹ پر اترنے کی حماقت کروں۔’’ کوپر نے کہا۔‘‘پھر کیا کروگے تم….؟’’

‘‘میڈیم، یہ آپ کا درد سر نہیں ہے۔’’ کوپر نے کہا ‘‘میں اچھی طرح جانتا ہوں  کہ مجھے کیاکرناہے….؟’’

بےچارہ زخمی اپنی مرہم پٹی کروا کے ایک طرف ہوگیا تھا۔ ایئر ہوسٹس نے رقم تھیلے میں بھر کر کوپر کے حوالے کردی۔ کوپر نے تھیلے کو دیکھتے ہوئے بلند آواز میں کہا ‘‘اچھا دوستو، میں نے آپ لوگوں کو زحمت دی۔ اب میرے چلنے کا وقت ہوگیا ہے۔’’

سب اس سر پھرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس نے ائر ہوسٹس سے پیراشوٹ طلب کیا۔ پیراشوٹ باندھا اور اُڑتے ہوئے طیارے سے کود گیا۔ یہ تو ایک پہلو ہوا، دوسرا پہلو اس سے زیادہ حیرت انگیز ہے۔ کوپر طیارے سے کود تو گیا لیکن وہ زمین پر اترا ہی نہیں۔ ہے نا حیرت کی بات۔

اتفاق ہے کہ اس نے جہاں طیارے سے چھلانگ لگائی، وہ فوجی علاقہ تھا، یہ چونکہ دن کا وقت تھا، اس لیے اس کےپیراشوٹ کو اترتے ہوئے دیکھ لیا گیا تھا۔  سب ہی حیران ہو رہے تھے کہ یہ کون شخص ہے جو اس طرح پیراشوٹ سےنیچے آرہا ہے۔ اس کو دوربینوں کےذریعے آبزرو کیا جانے لگا۔

پیراشوٹ سیدھے فوجی چھاؤنی کی طرف آرہا تھا۔ اسی لیے فوجی بڑے اطمینان سے اس کے اترنے کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن اچانک ہوا کا رخ تبدیل ہوگیا اور پیراشوٹ قریبی جنگل کی طرف دوڑایا گیا لیکن اترنے والے کا کوئی پتا نہیں چلا۔ کوئی سراغ نہیں ملا، پورے جنگل کے چپے چپے کی تلاشی لے لی گئی لیکن نہ تو پیراشوٹ سے اترنے والے کا پتا چلا اور نہ ہی اس کےپیراشوٹ کا۔ آس پاس کی آبادیوں کی بھی تلاشی لے لی گئی لیکن کوپر کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دوسری طرف ائر پورٹ پہنچ کر مسافروں نے جب کوپر کےبارے میں بتایا تو سب ہی حیران رہ گئے۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ مسافروں کی فہرست میں کوپر کا نام ہی نہیں تھا یعنی اس نام کا کوئی مسافر طیارے میں سوار ہی نہیں ہوا تھا۔  اور اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ جہاز میں جتنے مسافر سوار ہوئے تھے۔ ان کی گنتی مکمل تھی یعنی جتنے سوار ہوئے تھے، اتنے ہی اتر بھی گئے تو پھر یہ کوپر کون تھا، یہ کہاں سے آیا تھا….؟ یہ معما بھی ابھی تک لا یخل ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے