ڈیژاوُو Déjàvu!واہمہ، مرض یا پراسرار صلاحیت۔

آپ نے کبھی نہ کبھی یہ محسوس کیا ہوگا  کہ ہمارے سامنے ہونے والا واقعہ، ہماری زندگی میں پہلے بھی رونما ہوچکا ہے،  یا آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں یا جو کچھ اب بیت رہا ہے   یہ آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں یا  پھر آپ نے جو کچھ کہا  یا سُنا ہے ، یہ سب آپ پہلے بھی کہہ اور سن چکے ہیں یا کسی انجان اجنبی جگہ جاکر آپ کو محسوس ہوتا ہو  کہ آپ وہاں پہلے بھی جاچکے ہیں، حالانکہ آپ  کبھی نہیں گئے ہوتے ۔   

کیا  یہ باتیں ہم نے پہلے سے خواب میں دیکھی ہوتی ہیں…. یا  یہ پہلے سے جان لینے کی ہماری کوئی باطنی صلاحیت ہے…. یا پھر یہ کوئی واہمہ، ذہنی خلل یا نفسیاتی مرض ہے….

زاہد اس گھر کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ اُسے  اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنی آنکھیں ملیں، لیکن منظر پھر بھی وہی رہا۔ ایک روز پہلے ہی وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک قریبی عزیز کی شادی میں شرکت کے لیے کراچی سے روانہ ہوا تھا۔  شادی  لاہور میں تھی۔  فہد  پہلے کبھی لاہور نہیں گیا تھا،   لاہور تو دور کی بات وہ کراچی سے بھی باہر نہیں گیا …. مگر   جب وہ انے رشتہ داروں کے گھر پہنچا تو اس گھر کو دیکھ کر بہت حیران ہوا ۔ 

اسے ایسا محسوس ہورہا  تھا کہ اس نے یہ گھر پہلے بھی کہیں دیکھا ہے،   وہی گہری گلابی رنگ کی تین منزلہ عمارت جس کا ایک بڑا سرمئی دروازہ تھا،   ارد گرد کیاریوں میں وہی  سفید اور سرخ  پھولوں کے پودے لگے ہوئے تھے، اندر داخل ہوتے ہیں وہی  ماربل کا فرش اورہر کمرے میں دیواروں پر ہلکے سبز رنگ کا روغن بڑی مہارت سے کیا گیا تھا۔ ڈرائینگ روم جسے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اس میں ایک بیضوی شکل کی میز کے گرد دس بارہ کرسیاں لگی تھیں ،   کمروں سے ملحقہ ایک بہت لمبا برآمدہ ….   غرض اس گھر کا ایک ایک حصہ ایک ایک کونہ دیکھ کر  یہ محسوس ہوتا  تھا کہ یہ پہلے بھی  کہیں دیکھا ہے۔

اس نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ ‘‘میرا خیال ہے! میں نے اس گھر کو پہلے بھی کبھی دیکھا ہے؟….  کیا  پہلے کبھی  بچپن میں یہاں آیا ہوں؟ ’’ تو وہ کہنے لگیں نہیں بیٹا….! اس گھر  تو کیا تم تو لاہور بھی کبھی نہیں آئے ۔  

فہد پھر  تذبذب  میں مبتلاہوگیا ۔  اس نے سوچا کہ وہ شاید غلطی پر ہے،   ہوسکتا ہے کہ یہ اس کا وہم ہے، گھروں  کی مشابہت بھی کبھی کبھی گم راہ کر دیتی ہے،  لیکن لاہور میں اور بھی تو گھر ہیں ، انہیں دیکھ کر اسے کوئی ایسا خیال کیوں نہیں آیا۔    

کیا پہلے کبھی کسی تصویر میں اس گھر کو دیکھا تھا ، یا پھر کبھی  کسی خواب میں  نظر آیا تھا۔  زاہد جتنے  دن لاہور میں رہا   اسی تذبذب  میں مبتلا  رہا، اور بالآخر ان سوالوں کا جواب کھوجے  بِنا ہی کراچی واپس آگیا۔  

حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے ایسا احساس نہ لاہور آنے پہلے کبھی ہوا اور نہ  کراچی آنے کے بعد کبھی ہوا۔    اس کے بعد بھی زاہد دو بار لاہور گیا اور ہر بار اسے اسی احساس نے تنگ کیا۔ اگر یہ کوئی وہم تھا  تو صرف ایک ہی  جگہ جاکر ہی کیوں ہوتا ہے ۔

یہ احساس اور کیفیت صرف زاہد کے ساتھ نہیں ہے،  ہم میں سے اکثر لوگوں نے  کبھی نہ کبھی یہ محسوس کیا ہوگا  کہ ہمارے سامنے ہونے والا واقعہ، ہماری زندگی میں پہلے بھی رونما ہوچکا ہے،  یا آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں یا جو کچھ اب بیت رہا ہے   یہ آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں یا  پھر آپ نے جو کچھ کہا  یا سُنا ہے ، یہ سب آپ پہلے بھی کہہ اور سن چکے ہیں یا کسی انجان اجنبی جگہ جاکر آپ کو محسوس ہوتا ہو  کہ آپ وہاں پہلے بھی جاچکے ہیں۔

کیا  یہ باتیں ہم نے پہلے سے خواب میں دیکھی ہوتی ہیں…. یا پھر یہ کوئی واہمہ، دماغی  خلل یا نفسیاتی مرض ہے…. یا  یہ پہلے سے جان لینے کی ہماری کوئی باطنی صلاحیت ہے…. بقول فراق گورکھپوری  ؂

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

یہ کیفیت آخر ہےکیا؟….

ماہرینِ نفسیات اور سائنسدان اس پر عرصہ دراز سے تحقیق کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا  ہے ۔

یونانی مفکر ارسطو سمیت قدیم زمانے  کے  لوگ اس بات پر یقین کرتے تھے کہ ہماری روح ہماری پیدائش سے قبل بھی کہیں وجود رکھتی تھی اور   موت کے بعد  بھی اس کا وجود قائم رہتاہے ۔    اس کے علاوہ  دورانِ خواب  ہماری اس جسم کے باہر  سفر کرتی ہے،  خواب میں سوتے وقت ہماری روحیں  گھومتی پھرتی ہیں تو وہ جس جس جگہ جاتی ہیں اور جس جس سے ملتی ہیں جب ہم جاگنے پر وہ دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی سے ملتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ پہلے بھی ہوا ہے۔

سب سے پہلے پانچویں صدی عیسوی کے رومی مفکر بشپ سینٹ آگسٹائن نے اس پر بحث کی اور اسے false memories جھوٹی یادوں  کا نام دیا ۔  آگسٹائن لکھتےہیں کہ نیند میں، جب ہم سپنوں کی اڑان  بھر رہے  ہوتے ہیں  ، ہم جو کچھ بھی تخیل  کرتے ہیں،  ہماری یادوں میں محفوظ ہوجاتا ہے   اور     جاگنے کے بعد بھی ذہنوں میں رہتا ہے۔   بعد میں ہم خیال کرتے ہیں ہم نے ایسا کیا تھا یا ایسا دیکھا تھا مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ 

اٹھارہویں صدی کے مورخ  سر والٹر اسکاٹ نے اسے پہلے سے موجودگی pre-existence کااحساس قراردیا۔  اس کیفیت کو اور بھی نام دیے گئے  مثلاً  برطانیہ کی سوسائٹئ فار سائیکک ریسرچ Society for Psychical Research کے بانی فریڈرک ڈبیو ایچ مائرز  Frederic W. H. Myers نے اسے پرومنیشیا promnesia  یعنی  پہلے سے محفوظ یادوں کا نام دیا، مائرز لکھتے ہیں کہ  جس طرح گزرے ہوئے واقعات کے علم  کا تعلق ہماری یادداشت سے ہے  اسی طرح آنے والے واقعات  کا علم ہمیں  اس دور اندیشی سے ملتا ہے جو ہم اپنی روح کے بیرون از جسم   جانے پر دیکھ چکے ہیں۔ ماہر نفسیات کارل ژنگ نے اسے recognition of immemorially known کہا ہے  ۔ سگمنڈ فرائیڈ نے اسے paramnesia کا نام دیا اور اس کا تعلق لوگوں کی دبی ہوئی خواہشات  اور تناؤ    پر مبنی یادداشت قرار دیا ہے۔ 

1876ء میں فرانسیسی سائنسدان  ایمل بوراک   Emile Boirac  نے اس پراسرار کیفیت پر تحقیق کی   اور اس ایک انوکھے احساس   اور کیفیت کو Déjà vu کا نام دیا ۔  اسے اردو میں ڈیژاوُو اور ڈیجا وُو  لکھا جاتا ہے اور تلفظ  ڈےژا وُو day-zsa woo کیا جاتا ہے۔  ڈیژاوُو دراصل فرانسیسی لفظ  ہے ۔  Déjà کے معنی ، پہلے سے ، قبل اور ابتداء سے وغیرہ کے ہوتے ہیں جبکہ vu کے معنی مشاہدے یا دیکھنے کے آتے ہیں۔ اردو میں اس کے معنی ‘‘پہلے سے دیکھا ہوا’’ ہیں اور انگریزی میں اس کا ترجمہ Already Seen کیا جاتا ہے۔   

ماہرین نفسیات کے مطابق ڈیژاوُو ایک ایسی نفسیاتی کیفیت یا ایسے لمحات کو کہا جاتا ہے کہ جس میں کوئی شخص ، ایک بالکل اجنبی اور پہلی مرتبہ دیکھی جانے والی شے (فرد یا  ماحول) کے بارے میں یہ گمان یا خیال رکھتا ہو کہ اس ماحول یا شے  کو وہ پہلے بھی دیکھ چکا ہے۔ یعنی ایسی کیفیت  جس میں ایک نیا ماحول ، پرانے یا ماضی سے معلومہ و شناسا ہونے کا احساس (sensation) اجاگر کر رہا ہو۔   یعنی ایسی کیفیت جس میں  ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہ کام پہلے بھی کر چکے ہیں۔ یہ چیز پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ کبھی ایسا ہوکہ آپ کو کوئی بات بتائی جائے اور آپ کو لگے کہ اسکے بارے میں تو آپکو پہلے بھی پتہ تھا یا  کسی گفتگو کے دوران ایسا محسوس ہوکہ یہ بات  پہلے بھی ہوبہو ہوئی  تھی  یا یہ آواز میں نے پہلے بھی سنی تھی۔  کسی جگہ پہلی مرتبہ جا کر یہ احساس ہونا کہ میں یہاں پہلے بھی آ چکا ہوں، اور کسی فرد سے پہلی مرتبہ ملنے پر یہ احساس ہونا کہ میں اس فرد کو پہلے بھی دیکھ چکا ہوں….

ڈیژاوُو کِن لوگوں کو ہوتا ہے؟….

آپ کو اپنی زندگی میں شاید اس سے سامنا بھی ہوا ہو مگر ہو سکتا ہے کہ اپنے کبھی اس پر غور نہ کیا ہو لیکن ڈیژاوُو کی اس کیفیت سے بے شمار لوگ واقف ہیں ….

تحقیق کے مطابق ہم میں سے دو تہائی لوگوں کو زندگی میں ایک مرتبہ ڈیژاوُو ضرور ہوتا ہے، تاہم ابھی تک پوری طرح معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کیفیت ہوتی کیوں ہے۔   1973ء میں شکاگو یونیورسٹی کی National Opinion Research Council  کے ایک سروے  میں 58 فیصد امریکیوں نے  ڈیژاوُو کی کیفیت سے گزرنے کا اقرار کیا، 1986 ء کے سروے میں یہ تعداد بڑھ کر 67 فیصد ہوگئی ، ایک  حالیہ  سروے کے مطابق دنیا میں تقریباً 70 فیصد افراد اس کا صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں اور اس کے بارے میں اکثر کنفیوز رہتے ہیں…. 

امریکی ریاست ڈیلاس میں ساؤتھرن میتھڈسٹ یونیورسٹی  ، ڈیڈمن کالج میں  شعبہ نفسیات کے پروفیسر ایلن براؤن کا کہنا ہے کہ   ڈیژاوُو زیادہ تر نوجوانوں کو ہوتا ہے۔ لوگوں کو پہلی مرتبہ ڈیژاوُو   کی کیفیت تقریباً چھ، سات برس کی عمر میں ہوتی ہے، تاہم 15 سے 25 سال کی عمر کے دوران یہ زیادہ مرتبہ ہوتا ہے، اور پھر جوں جوں آپ کی عمر بڑھتی جاتی ہے یہ کیفیت کم اور بہت ہو جاتی ہے۔

ایسے واقعات کا مشاہدہ زیادہ تر خواتین کو ہوتا ہے….  کیونکہ خواتین زیادہ receptive ہوتی ہیں۔ یعنی ان میں روزمرہ کے واقعات کو جذب کرنے کی صلاحیت اور خفیف سے خفیف تر اشارہ اور بات سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے خواتین کو اس قسم کے تجربات زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خواتین کی چھٹی حس زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

  عام لوگوں میں یہ صورتحال تقریبا پانچ سے دس سیکنڈز تک رہتی ہے، لیکن کبھی اس کا دورانیہ بعض اوقات منٹوں اور کئی دفعہ اس سے بھی طویل ہوجاتا ہے۔   جو کچھ بھی ہو یہ صورتحال کوئی خطرناک بات نہیں، یہ اکثر لوگوں  کو پیش آتی ہے اور ایک طرح سے قدرت کی ایک مسٹری  ہے۔  ماہرین اس کوشش میں ہیں کہ اس کے اصل اسباب معلوم کر لیں….

ڈیژاوُو کیوں ہوتا ہے؟….

انسانی دماغ دنیا کی پیچیدہ ترین چیز ہے، اسے اب تک سمجھا نہیں جاسکا ہے۔ دنیا میں بہت اعلیٰ اور تیز کمپیوٹر بنائے جا چکے ہیں لیکن انسانی دماغ دنیا کے کسی بھی تیز ترین کمپیوٹر سے تیز تر ہے۔ انسانی دماغ سوارب سے زائد نیوران (عصبی خلیوں )اور کھربوں سائی نپس (عصبی جنکشن )سے مل کر بنتا ہے  جبکہ ایک دماغی خلیے کے دیگر دماغی خلیات کے ساتھ ایک ہزار سے دس ہزار تک رابطے ہوتے ہیں اور ان خلیات کے درمیان پیغامات کی منتقلی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے ہو جاتی ہے ،  انسانی ذہن کے بہت سے گوشے ایسے ہیں جن کے لیے ابھی بہت سی تحقیق کی ضرورت ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کچھ ایسا واقعہ وقوع پذیر ہوا جو آپ کو لگا کہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔  ماہرینِ نفسیات اور سائنسدان اس پر عرصہ دراز سے تحقیق کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔  اس کی بہت ساری وجوہات پر بحث ہوتی رہی ہے ۔   ماہرین  ابھی تک حتمی طور پر  ڈیژاوُو کی اصل وجوہات کا کھوج تو نہیں لگا سکے۔ تاہم  اس حوالے سے انہوں نے  کئی نظریات ضرور وضع  کیے ہیں ۔    ان نظریات  کو ہم  تین حصوں  یا تین  طبقوں  میں تقسیم کرسکتے ہیں۔  

ایک طبقی اسے واہمہ یا فریب قرار دیتا ہے،، دوسرا طبقہ اسے   دماغ کے یادداشت والے حصے میں پیدا ہونے والا خلل  بتاتا ہےم جبکہ تیسرا طبقہ اس کا تعلق مستقبل دیکھنے کی صلاحیت اور سچے خوابوں  سے جوڑتا ہے۔

کیا ڈیژاوُو ! ایک واہمہ  ہے ؟

پہلا طبقہ اُن ماہرین کا ہے جِن کے نظریات میں ڈیژاوُو  کو    بےمقصد اور  غیر منطقی  کیفیت سمجھتے ہوئے  اسے  ایک واہمہ  یا  حواس کا فریب قرار دیا گیا ہے،  یعنی اس  کی انسانی  زندگی اور عقلیت میں سرے سے  کوئی اہمیت ہی نہیں۔  

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ  ایسی کیفیت محض وہم ہوتی ہے۔ ایسے واقعات دراصل روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ روز مرہ زندگی میں ہم  روز ہی ایک جیسی باتیں دہراتے ہیں۔ جیسے روز ہی آپ برش کرتے ہیں، وضو کرتے ہیں۔ نہاتے ہیں،آپ کے گھر مہمان آتے ہیں یا  آپ کسی کے گھر جاتے ہیں  وغیرہ وغیرہ۔ یا کسی کو اچانک یہ احساس ہونا کہ  باہر فلاں  دوست بیٹھا ہوگا۔ حالانکہ وہ دوست  یقیناً آپ سے اکثر ملتا ہوگا۔ اسی کو دوسری زبان میں دل سے دل کی راہ والی اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے۔  یہ سارے واقعات ہمارے روز مرہ کا حصہ ہیں چونکہ اسطرح کے واقعات روزانہ ہی دہرائے جاتے ہیں اس لئے کچھ عجب نہیں کہ آپ کو یہ احساس ہو کہ یہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔

محض چیزوں کی مشابہت  کا نام

بعض   ماہرین  کا ایک نظریہ   یہ بھی ہے کہ مختلف  چیزوں اور چہروں کی مشابہت بھی کبھی کبھی انسان کو گمراہ  کرکے ڈیژاوُو  کی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے،  یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کوئی ایسی چیز یا واقعہ دیکھتے ہیں جس سے ملتی جلتی چیز یا واقعے کا تجربہ آپ پہلے کر چکے ہوتے ہیں،  اس کی یاد آپ کے دماغ کے کسی خانے میں محفوظ ہوتی ہے۔  مثلاً کسی خاص کمرے کی ساخت یا کسی کمرے میں مختلف چیزوں کی ترتیب دیکھ کر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہ کمرہ کبھی پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔

ڈچ ماہر نفسیات ہرمن سنو Hermon Sno  نے اسے ہولوگرام تھیوری کا نام دیاہے ، ان کے مطابق ہماری یادداشت ایک ہولوگرام کی طرح ہے ، جس  میں ہم کسی بھی خیال کو تھری ڈی صورت میں تخلیق کرلیتے ہیں،  ڈیژاوُو تب ہوتا ہے جب ہمیں اپنے ماحول میں کوئی  ایسا احساس (نظر،  لمس، آواز، خوشبو، وغیرہ) ہوتا ہے جو  ہمارے ماضی کی کسی منسلک   یاد  سے ملتا جلتا ہوتاہے،   اور ہمیں محسوس  ہوتا ہے کہ ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی واقعے یا تجربے سے گزرتے ہوئے ہم چیزوں کو  جانی پہچانی شکل دینے کیلئے ایک خاکے کا لاشعوری استعمال کرتے ہیں۔ جیسے آپ اپنے کمرے میں بیٹھے ہیں اور آپ کی ٹیبل کمرے کی شمالی دیوار کے ساتھ ہے۔ اگر آپ آنکھیں بند کر کے یا منہ دوسری طرف کر کے کمرے کا خاکہ اپنے ذہن میں بنائیں گے تو آپ کو میز شمالی دیوار کے ساتھ ہی بنی نظر آئے گی۔ اگر اسی میز پر ایک چھوٹا سا کلاک ہے تو وہ بھی اسی خاکے میں میز پر پڑا نظر آئے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب  بھی ہمیں ٹائم دیکھنا ہوتا ہے تو  ہر طرف کلاک کی تلاش نہیں کرتے بلکہ سیکنڈ کے سوویں حصہ میں آپ کی نظر میز پر پڑے کلاک پر چلی جاتی ہے۔  

بالکل ایسے ہی کسی بھی جگہ اور کسی بھی سچویشن میں ہم چیزوں کا سرسری جائزہ لے کر ایک پہچانی خاکہ قائم کرتے ہیں۔ اور اسی کی بنیاد پر ہمارے اگلے خیالات جنم لیتے ہیں۔    اس  پہچانی خاکے  کی تمام تر انفارمیشن کا ذخیرہ  ہمارے لاشعور میں محفوظ ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ میں موجود نیورل سسٹم بڑے غیر محسوس طریقے سے اس پہچانی خاکے میں برقی رو چھوڑ کر آؤٹ پٹ ہماری میموری تک پہنچاتا رہتا ہے جسے ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔  اگر کسی  جگہ کا پہچانی خاکہ دوسری  جگہ سے مشابہت رکھتا ہے، تو ہمیں یہ دھوکا  ہوتا ہے کہ یہ  جگہ پہلے سے  دیکھی ہوئی ہے۔ 

لاشعور میں چھپی باتیں 

بعض   ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ ڈیژاوُو  دراصل ہماری زندگی میں گزری وہ باتیں دکھاتا ہے جو ہماری یادداشت سے  مٹ چکی  ہوتی ہیں مگر  ہمارے لاشعور  کسی خانے میں چھپی ہوتی  ہیں۔  

انسانی ذہن تین طرح سے  انفارمیشن  محفوظ کرتا ہے۔ جسے ماہرین نفسیات  نے شعور، لاشعور اور تحت الشعور کا نام دیا ہے ۔  انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت سے اسکا شعور اور لاشعور بننا شروع ہوجاتا ہے۔ وہ آوازیں سنتا ہے اور یہیں سے اس کے لاشعور کے بننے کی ابتداء ہوتی ہے۔ پھر روزمرہ کے کئی ایسے واقعات جو ہمیں یاد نہیں رہتے ہمارے شعور سے نکل کر لاشعور میں چلے جاتے ہیں۔ ہم  سوتے میں جو خواب دیکھتے ہیں اور جو آوازیں سنائی دیتی ہیں وہ بھی لاشعور کی انفارمیشن میں محفوظ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس طرح کوئی ایسی بات جو ہم بھول چکے ہوتے ہیں اور ہمارے لاشعور میں جا چکی ہوتی ہیں اگر دوبارہ ظہور پذیر ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے یہ پہلے ہوچکا ہے۔ کئی ایسے واقعات یا چیزیں جسے ہم سرسری طور پر بھی دیکھتے ہیں وہ بھی لاشعور میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر آ پ ایک سڑک  پر نظر ڈالتے ہیں ، جہاں آپ  کے  ایک دوست آپ کی طرف آرہے ہوتےہیں ۔ یہ انفارمیشن  آپ کے شعور میں محفوظ ہوجاتی ہے، جبکہ سڑک پر کئی اور لوگ  بھی چل پھر رہے ہوتے ہیں کوئی لڑکا بیگ لٹکائے کالج جارہا ہے،    کوئی چھتری لیے جارہا ہے،  تو کوئی سائیکل  پر سوار ہے ، چونکہ ان چیزوں پر آپ دھیان نہیں دیتے اس لیے یہ انفارمیشن  آپ کے شعور ی یادداشت میں محفوظ نہیں ہوتی بلکہ لاشعور  میں چلی جاتی ہیں،  یعنی دوسرے لفظوں میں چاہے ان چیزوں پر آپ کا دھیان ہو نہ ہو،   انسانی ذہن ہر وقت انفارمیشن  اکٹھا کرتا رہتا ہے ۔ شعوری طور پر بھی اور لاشعوری طور پر بھی۔   اس لاشعور کی انفارمیشن سے ملتی جلتی کیفیت جب بھی ظہور پذیر ہوگی، مثلاً سائیکل سوار یا چھتری لیے شخص سے پھر کبھی آپ کی ملاقات ہوتی ہے تو آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ اسے پہلے مل چکے ہیں یا یہ سب پہلے ہوچکا ہے۔

تحت الشعور وہ شعور ہے جو ہمیں وراثتاً منتقل ہوتا ہے۔ اور اس کی انفارمیشن بہت زیادہ ہوتی  ہے لیکن ہمیں اس کا شعوری احساس نہیں ہوتا۔ مثلاً اکثر لوگ آپ کو کہتے ہوں گے کہ تمہاری عادتیں بالکل اپنے باپ، چچا یا دادا وغیرہ سے ملتی ہیں۔ یا لڑکیوں کو کہا جاتا ہے کہ تمہاری عادتیں اپنی ماں، خالہ یا نانی وغیرہ جیسی ہیں۔ ہمیں اپنی عادتوں کی مشابہت کا احساس نہیں ہوتا لیکن خارجی طور پر دیکھنے والے کو فوراً احساس ہوجاتا ہے۔   اس کا مطلب ہے کہ ہم موروثی طور پر بہت سی انفارمیشن حاصل کرتے ہیں  جس کا ہمیں شعوری احساس نہیں ہوتا۔

 مشہور   ماہر نفسیات کارل ژنگ  کا مانناتھا کہ ڈیژاوُو کا تعلق وراثتاً ملے اسی مشترکہ شعور collective consciousnessسے ہے، مشترکہ شعور انسانی تجربات کی وہ یادیں ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔   یہی مشترکہ شعور ہے جس کی وجہ سے مچھلی پیدائش سے ہی تیرنا اور پرندے اُڑنا جانتے  ہیں۔ ایک اور لاشعور بھی ہوتا ہے جسے اجتماعی لاشعور کہا جاتا ہے۔ یعنی اجتماعی طور پر سب انسان ایک ہی طرح سوچ رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً قدیم زمانے میں  جب کمیونیکیشن نہ ہونے کے برابر تھی، پوری دنیا کے فلاسفر ایک ہی طرح سوچ رہے ہوتے تھے،  اچھائی برائی، سچ جھوٹ، اخلاقی اقدار،  معاشرتی روئیے  ، معاشی اصول سب ایک جیسے ہی تھے۔  اسے اجتماعی لاشعور کہا جاتا ہے۔

کہتے ہیں جس کو ڈیژاوُو!….

 خلل  ہے دماغ کا ….

یوں تو یہ غالب نے عشق کے متعلق کہا تھا کہ

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

لیکن  ماہرین  نفسیات کی اکثر یت کا کہنا ہے کہ عشق ہو نہ ہو،  ڈیژاوُو     ضرور دماغی خلل کے باعث  ہوتا ہے۔

اس حوالے سےقدیم نظریہ تو یہ تھا کہ  زیادہترلوگ اس کیفیت میں اس وقت ہوتے ہیں جب ان کے دماغ کی کوئی رگ بلاوجہ ہی ‘‘پھڑک’’ اٹھتی ہے اور بالکل غیر متعلق خیالات کو آپس میں جوڑ دیتی ہے۔ یہ کیفیت آپ کے دماغ کے کسی پٹھے کے بلاوجہ سکڑنے سے پیدا ہوتی ہے، جیسے آپ کی آنکھ بلاوجہ پھڑکتی ہے۔  ماہرین کے خیال میں اس کا تعلق آپ کے دماغ کے اس حصے سے جڑا ہوتا ہے جو آپ کی یاداشتوں سے متعلق ہے، جس کے ذریعے آپ ایک جیسی دو چیزوں یا ایک جیسے دو واقعات میں تعلق جوڑتے ہیں۔ 

دوسری  وضاحت یہ ہے کہ  ان  کا تعلق شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میموری سے بھی ہے جس کے مطابق دماغ کسی بھی دیکھنے اور سننے والی چیز کو دماغ کی اپنی توقع سے بھی پہلے محفوظ کر کے خود ہی یہ تصور قائم کر لیتا ہے کہ یہ سب پہلے ہو چکا ہے۔

1884ء میںDouble Cerebration  کے نام سے ایک نظریہ  پیش کیا گیا کہ  انسانی دماغ دو حصوں پر مشتمل ہے،  دایاں دماغ ہمارے جسم کے بائیں اعضاء ہاتھ پیر آنکھ کان کو کنٹرول کرتا ہے اور بایاں دماغ ہمارے جسم کے دائیں اعضا کو کنٹرول کرتا ہے۔  

جب ہماری آنکھیں کوئی چیز دیکھتی ہیں تو دونوں آنکھیں بہ یک وقت وہ تصویر دماغ کو ارسال کر دیتی ہیں….. یہ کام سرعت کے ساتھ انجام پاتا ہے. لیکن کبھی کبھار ہوتا یوں ہے کہ دونوں آنکھوں کی دماغ کو پیغام رسانی کی رفتار میں معمولی فرق آ جاتا ہے اور یہ صرف چند لمحوں کے لئے ہوتا ہے اور جب ایک آنکھ دماغ کو پیغام ارسال کرتی ہے تو اسی وقت دوسرا پیغام آتا ہے تو انسان تھوڑی دیر تک یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب تو پہلے بھی ہو چکا ہے۔

1963ء میں امریکی نیورولوجسٹ رابرٹ ایفرون  Robert Efronنے Delayed Vision  کے نام سے ایسا ہی  نظریہ پیش کیا،  جس پر کئی سائنسدانوں نے  اتفاق  کیا کہ ڈیژاوُو کا باعث دماغ کے یاد داشت والے حصوں میں ہونے والی  گڑ بڑ ہے۔ اس گڑ بڑ کی وجہ سے ہی ہمیں یہ خیال ہوتا ہے کہ ایسا سب کچھ ہمارے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ دماغ کے جس حصے میں یادداشت کا عمل ہوتا ہے اسےٹیمپورل لوب  کہا جاتا ہے۔ ڈیژاوُو  کا باعث اسی ٹیمپورل لوب میں پیدا ہونے والی ایکٹیویٹی ہے۔

1997ء میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے  جان گیبریلی John D.E. Gabrieli نے  ڈیژاوُو کا دماغ کے حصے رائنل کارٹیکس  سے  تعلق کا  نظریہ پیش کیا، جس  کے مطابق  کسی بھی شے کو یاد کرنے کے لیے ہمارے دماغ کے  چار حصے اہم کردار ادا کرتے ہیں، ٹیمپورل لوب Temporal Lobe  میں  لانگ ٹرم میموری  کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ ہیپوکیمپس  hippocampus کا تعلق شناخت  اور پہچان سے ہے، اسے  دماغ میں یادوں کاسوئچ  بھی کہہ سکتےہیں۔ دماغ کا ایک حصہ  رائنل کارٹیکس Rhinal Cortex کسی شے کے متعلق  ہماری واقفیت اور مانوسیت  سے تعلق رکھتا ہے اور امیگڈالا Amygdala جذباتیت سے تعلق رکھتا ہے۔ ان حصوں کے درمیان تعلق یادداشت کو محفوظ کرنے کے عمل میں مدد دیتا ہے۔  انسان کو جب کوئی بات یا چیز یا واقعہ یاد آئے، تو دماغ میں موجود نیورونز کے متحرک ہونے سے یادوں کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔   

 رائنل کارٹیکس بہت پیچیدہ نظام رکھتا ہے اور کبھی کبھی    رائنل کارٹیکس ، امیگدالہ اور ہیپوکیمپس  کے درمیان نیورونز  کی مطابقت پذیر حرکات کی تیزی میں اضافہ ہوجاتا ہے ، جس کی وجہ سے  کسی شے کی انفارمیشن  ٹیمپورل لوب  سے پہلے ہپوکیمپس میں پہنچ جاتی ہے اور دیکھنے والے  شخص کو ایسا  لگتا ہے کہ یہ منظر میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں ۔

ڈیژاوُو!…. مستقبل کے خواب….

ڈیژاوُو کے متعلق سب سے قدیم   اور مشہور نظریہ  یہ ہے کہ     ایسا عموماً تب ہوتا ہے جب ہم حقیقی زندگی میں وہ جگہیں یا واقعات دیکھتے ہیں جو ہم خواب میں  پہلے ہی سے دیکھ چکے ہوتے ہیں۔  قدیم دور سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ   خواب میں سوتے وقت ہماری روحیں  گھومتی پھرتی ہیں تو وہ جس جس جگہ جاتی ہیں اور جس جس سے ملتی ہیں جب ہم جاگنے پر وہ دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی سے ملتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ پہلے بھی ہوا ہے۔

موجودہ دور میں بھی کچھ ماہرین اور ریسرچرز  ایسے ہیں جنہوں نے ڈیژاوُو اور خواب کے درمیان تعلق پر تحقیق کی ہے،    دوسری عالمی جنگ  کےبعد ایروناٹیکل انجینئرجے ڈبیلو  ڈیونیJ.W. Dunne نے اس موضوع پر کتاب An Experiment with Time   لکھی، جس میں انہوں نے خوابوں کے اُن تجربات کا تذکرہ کیا جو حیرت انگیز طور پر حقیقی دنیا میں  سامنے آئے۔ 1939ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی  میں ہونے والے ایک سروے میں 12.7 فیصد  طالب علموں  نے  اقرار کیا کہ وہ ایسے تجربات سے گزرے ہیں جو وہ  پہلے ہی خواب میں دیکھ چکے تھے۔

 اسی طرح سوئس سائنسدان اور سائیکولوجسٹ آرتھر فنک ہاؤزر  Arthur Funkhouser اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ ڈیژاوُو کا تعلق Precognitive Dreams یعنی ایسے خوابوں سے ہے جو مستقبل کا انکشاف کرتے ہیں۔ 2010ء میں آرتھر فنک ہاؤزر اور جرمن کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سائیکالوجی  پروفیسر  میشل شرڈل Michael Schredl  نے جرمن  یونیورسٹیوں کےطلباء میں ایک سروے کیا ۔

The Frequency of Déjà Vu (Déjà Rêvé) and the Effects of Age, Dream Recall Frequency and Personality Factors

نامی اس سروے کے نتائج میں پتا چلا کہ  95.2 فیصد طالبات  اس بات کا یقین رکھتے ہیں   ان کو ہونے والی ڈیژاوُو  کی کیفیت کا تعلق خواب سے  ہے ۔  

تقریباً ہر دور کے مفکرین اور ریسرچرز  اس بات کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں ایسے کتنے ہی خوابوں کا تذکرہ ملتا ہے جو مستقبل کے آئینہ دار ہیں۔ ان خوابوں میں خواب دیکھنے والے کے مستقبل کا انکشاف ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات یہ خواب پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سلسلۂ عظیمیہ کے امام قلندر بابا اولیاء  فرماتے ہیں ہیں کہ خواب   ہو یا  بیداری   انسانی زندگی کی  ساری تحریر لاشعور میں موجود ہوتی ہے ۔ لاشعور میں ہی ماضی،  حال اور مستقبل تینوں زمانے موجود ہیں۔  

کتاب قدرت کی اسپیس میں آپ فرماتے ہیں کہ ‘‘انسان کا جاگتا ہوا ذہن (شعور) سامنے ہوتا ہے اور سویا ہوا ذہن(لاشعور) پیچھے ہوتا ہے۔ لاشعور میں ٹائم اور اسپیس  وقت اور جگہ بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ انسان کا سانس شعور اور لاشعور کے بیچ میں گھومتا رہتا ہے۔ وہ اس طرح گھومتا ہے کہ شعور میں جاگتا ہے اور لاشعور میں جاگتا نہیں ہے۔ لاشعور کو جو علم حاصل ہے وہ شعور کو حاصل نہیں ہوتا۔ شعور اور لاشعور دونوں مسلسل ہیں۔  سانس ہمیشہ دائرہ کی شکل میں چلتا ہے۔ سانس کا دائرہ لاشعور میں پورا ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ دائرہ ٹوٹ جائے تو انسان مر جاتا ہے۔ سادھو لوگ لاشعور میں سانس کے دائرہ CYCLE کو قائم رکھتے ہیں اور شعور میں کوئی حرکت نہیں ہونے دیتے۔ اس طرح وہ اپنی زندگی میں اضافہ کر لیتے ہیں۔ سانس کو جتنا زیادہ روکا جائے گا،   لاشعور کو اتنی ہی طاقت حاصل ہو گی۔ یعنی ذہن کے پردے کی رکاوٹ کم ہوتی چلی جائے گی۔ خواب میں یہ رکاوٹ اتنی کم ہو جاتی ہے کہ خواب نظر آنے لگتے ہیں۔ نیند جتنی گہری ہوتی ہے مناظر اتنے ہی واضح (LUCID) ہوتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ گہری وضاحت یادداشت کی مدد کرتی ہے۔ جو خواب یادداشت میں تحریر ہو جاتے ہیں وہ تحت الشعور (SUB CONSCIOUS) سونے والے کے ذہن کی سطح پر رہتے ہیں۔ جو مناظر گہرے نہیں ہوتے تحت الشعور کی سطح کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ کہنے کا منشاء یہ ہے کہ کچھ خواب یاد رہتے ہیں اور کچھ خواب یاد کرنے سے یاد آتے ہیں اور کچھ خواب یاد کرنے سے بھی یاد نہیں آتے۔ یہ وہ خواب ہیں جو تحت الشعور کی بہت ہی نچلی سطح میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔  شعور ہمیشہ لاشعور سے آتا ہے۔ جو لاشعور کی کیفیتیں ہیں وہ شعور میں چلی جاتی ہیں مگر بہت ہی کم۔ لیکن جو کیفیتیں شعور سے لاشعور میں واپس چلی جاتی ہیں وہ یادداشت میں تحریر ہو جاتی ہیں اس کو بھی تحت الشعور کہتے ہیں۔ تحت الشعور لاشعور کا ہی حصہ مانا جاتا ہے۔ 

لاشعور کو انسان محسوس نہیں کرتا۔ لاشعور میں ساری تحریر موجود ہوتی ہے یعنی انفرادی اور اجتماعی دونوں تحریریں لاشعور میں موجود ہیں۔ 

لاشعور میں پوری کائنات ہے ماضی،  حال اور مستقبل تینوں زمانے اس میں موجود ہیں۔ درمیانی پردے کو آدمی کوشش اور ریاضت کے بغیر نہیں ہٹا سکتا۔’’

صوفیائے کرام    انسان کو اپنے باطن کے کھوجنے پر  پرزور دیتے ہیں۔  مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں: ‘‘اِس کائنات میں جو کچھ ہے، تمہارے اندر بھی موجود ہے۔  اپنے آپ سے حاصل کرو’’۔

تعلیمات بتاتی ہیں کہ فرماتے ہیں حقیقی علم انسان کے اپنے باطن میں ہے۔ 

روحانی عالم اور صوفیاء کی رائے بہت واضح ہے تاہم سائنس دانوں اور  ماہرین   نفسیات  کی گزشتہ دوسو برس سے جاری تحقیقات  کے باوجود اب تک کوئی  ایسا نظریہ قائم نہیں ہوسکا جسے حتمی  یا  کامل کہا جاسکے۔ سائنس دانوں کے لیے ڈیژاوُو  آج بھی  ایک  معمہ بنا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے