کیا عاد و ثمود نامی قومیں تباہ کن ریڈیشن کے باعث ہلاک ہوئیں تھیں؟

غزوہ تبوک کے موقع پر پیغمبرِ اسلام حضرت محمد رسول اﷲﷺ کا گزر قومِ ثمود  کے کھنڈرات سے ہوا۔ صحابہ نے وہاں پڑاؤ ڈالا۔ کنویں سے پانی بھرا اور آٹا گوندھ کر روٹی پکانے لگے۔ جب رسول اﷲﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ ‘‘پانی گرادو، ہانڈیاں اوندھی کردو اور آٹا ضائع کردو’’….. اور مزید فرمایا کہ ‘‘یہ وہ بستی ہے جس پر عذاب نازل ہوا تھا۔ یہاں قیام نہ کرو اور نہ ہی یہاں کی اشیاء استعمال کرو۔ آگے بڑھ کر پڑاؤ ڈالو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اس بلا میں مبتلا ہوجاؤ’’….. (تفسیر ابن کثیر)

اس واقعے سے  یہ سوال اُبھرتا ہے کہ آخرماضی میں وہاں آباد قوم ثمود ایسے کس عذاب کا شکار ہوئی کہ جس کے نقصان دہ اثرات اس کی فضاؤں اور عمارتوں میں ہزاروں سال بعد بھی موجود رہے۔

قومِ ثمود اور قوم عاد پر نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔

ترجمہ:‘‘جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی۔ وہ جس چیز پر سے گزرتی اس کو بوسیدہ ہڈیوں کی مانند کئے بغیر نہ چھوڑتی۔ نشانی ہے ثمود (کے واقعہ) میں، جب اُن سے کہا گیا کہ برتو ایک وقت تک (مگر اس تنبیہہ سے وہ باز نہیں آئے) اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کرنے لگے، پھر پکڑا اُن کو ایک خوفناک چمک نے، اور (جسے) وہ دیکھتے تھے، پھر نہ اُن میں اُٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکے’’۔

مذکورہ آیات میں عربی لفظ ’’ریح العقیم‘‘ بھی استعمال ہوا ہے۔ ریح کے معنی ہوا کے ہیں اور عقیم کے معنی بانجھ ہونا۔یعنی ’’بانجھ ہوا‘‘……

کئی سو سال ایک راز بنے رہنےکےبعد  سائنسی ترقی کے سبب ایک ایسی چیز منظر عام پر آئی  جو بانجھ ہوا کی صفات پر پوری اُترتی ہے، اور وہ ہے ایٹمی تابکاری یعنی ریڈیایشن ۔اگر  آپ تابکاری کی خصوصیات کا مطالعہ کریں تو قرآنی آیات کے مفہوم اور تباہ شدہ بستیوں سے گزرنے کے موقع پر حضورپاکﷺ کی شدید احتیاط کی بنیادی وجہ سمجھ میں آجائے گی۔

اب آتے ہیں اس سوال کی جانب کہ تابکاری کیا ہوتی ہے….؟ایٹمی دھماکوں اور نیوکلیائی حادثوں سے جولہریں خارج ہوتی ہیں وہ ایسے تابکار عناصر پر مشتمل ہوتی ہیں جو فضا میں بکھرنے کے بعد وہ چاہے ہوا میں، کھانے میں یا پینے میں داخل ہوجائیں ایک سیکنڈ کے ملین حصے میں انسانی جسم کے اُن خلیات کے الیکٹرانز کو ختم کردیتے ہیں جو  باہم مل کر انسانی جسم کی تشکیل کرتے ہیں۔  اس کے علاوہ یہ جسم میں مختصر اور طویل مدت کی بیماریاں بھی پیدا کرتے ہیں جو نظام تولید کے ذریعے  نسلوں نسلوں چلتی رہتی ہیں۔تابکاری یعنی Radiationانسانوں پر ہی نہیں بلکہ جانوروں اور پودوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور زمین پر فصلیں ناپید ہوجاتی ہیں۔ اس لیےتابکاری کو ہی  قرآن میں موجود لفظ بانجھ ہوا کے قریب ترین کہا جاسکتا ہے۔

قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:‘‘اور تم پر جو عذاب آتے ہیں تمہارے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہیں اور اﷲ تو بہت خطاؤں کو درگزر کرتا ہے’’۔

اس آیت پر تفکر کیا جائے تو قدیم اقوام پر ‘‘بانجھ ہوا’’ یا ‘‘خوفناک چمک کی’’ صورت میں نازل ہونے والے عذاب کا اصل سبب بھی اُن قوموں کے اعمال ہی تھے….. یا تو وہ فطری توازن میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنے ہوں گے یا پھر ممکن ہے ایسی صورتحال رہی ہو جیسا کہ موجودہ دور میں نظر آرہی ہے…..آج کا انسان بھی تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری کی دوڑ میں آگے بڑھ کر ایسے ہتھیار بنا چکا ہے جس کے استعمال سے پوری نوعِ انسانی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ قومِ عاد جو بانجھ ہوا سے ہلاک ہوئی….. جزیرہ نما عرب میں جو صحرا ’’ربع الخالی‘‘ کے نام سے واقع ہے، میں آباد تھی…..یہی وہ جگہ ہے جسے شداد کی جنت کے نام سے بھی پکارا  جاتا ہے۔ ایک لاکھ تیس ہزار کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل اس صحرا کا نام ‘‘ربع الخالی’’ یوں پڑا کہ یہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی زندگی سے بالکل خالی ہے۔ یہاں نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی گھاس پھونس….. قومِ عاد کے زمانے میں یہی خطہ جو زندگی سے خالی ہوگیا ہے….. انتہائی سرسبز وشاداب تھا….. ہر سو کھیت لہلہاتے نظر آتے اور جدھر نظر جاتی باغات ہی باغات تھے….. جن میں قطار در قطار اشجار پھولوں اور پھلوں سے لدے ہوتے….. بانجھ ہوا کے عذاب کے بعد وہاں آج بھی یعنی ساڑھے چار ہزار برس بعد بھی خاک اُڑتی ہے…..

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد خارج ہونے والی تابکاری عمارتوں، زمین اور دیگر اشیاء سے ہزاروں سال تک خارج ہوتی رہتی ہے۔ کیونکہ تابکار عناصر اپنی نصف یعنی آدھی زندگی یہ شعاعیں خارج کرتے رہتے ہیں۔ یورینیم کی نصف حیات 2 لاکھ 45 ہزار سال، تھوریم کی نصف حیات 8 ہزار سال جبکہ ریڈیم کی نصف حیات 1600 سال ہے۔ آج کہ جب ایٹم بمب کی ایجاد کو تقریباً 80 سال گزرچکے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہائیڈروجن اور نیوٹرون بمب بھی تیار کیے جاچکے ہیں۔ہائیڈروجن بمب دھماکے کے بعد ایک بادل کی صورت اختیار کرتا ہے ، یہ جس علاقے سے بھی گزرتا ہے وہاں زندگی کا نام و نشان مٹادیتا ہے۔ بادل کے سفر کے ساتھ  موت اور ہلاکت کا یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہ سکتا ہے،

قرآن میں قوم عاد پر ہونے والے  عذاب کی تفصیل سورۂ احقاف کی 24 ویں آیت میں یوں بیان ہوئی  ہے :

ترجمہ: ‘‘پھر اُنہوں نے بادل دیکھا جو میدانوں کی طرف آرہا تھا، کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسائے گا، کوئی نہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔ ایسی ہوا جس میں دردناک عذاب ہے۔ ہر شئے کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کر ڈالتی ہے پھر ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا’’۔

مذکورہ آیات میں ایسے سیاہ بادلوں کا تذکرہ ہے جس کی ہوا میں ایسی تباہ کاری ہے جو زندگی کے آثار کو متاثر کرسکتی ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر سے یہ سخت آندھی، طوفان یا گردغبار کے اثرات نہیں بلکہ ہائیڈروجن بمب  کی تابکاری سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے۔

اسی طرح ہائیڈروجن  بمب سے بھی خطرناک نیوٹران بمب ہے اس کی سب سے عجیب بات جو اسے دوسرے ایٹمی ہتھیاروں سے منفرد کرتی ہے وہ یہ کہ یہ اپنی توانائی دھماکے میں ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کی زیادہ تر توانائی ایسی شعاعوں کے اخراج میں صرف ہوتی ہے جو انسانی و حیوانی زندگی کے لیے مہلک ترین ہیں۔  نیوٹران بمب کے پھٹنے کے کچھ دیر بعد اس کے دائرۂ کار میں زندگی ختم ہوجاتی ہے، لیکن سڑکیں، عمارتیں، فیکٹریاں اور دکانیں سب اپنی جگہ موجود رہتی ہیں۔ جیسا کہ قوم ثمود کے ساتھ ہوا کہ اُن کی عمارتیں ساڑھے چار ہزار سال بعد بھی عبرت کا نشان بنی ہوئی ہیں۔

اب یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اُس دور میں ایٹم بمب  جیسی تباہی کیسے رونما ہوئی؟

انیسویں صدی میں چند سائنسدانوں نے   ربع الخالی میں ایک تباہ شدہ شہر دریافت کیا جسے  wabar کا نام دیا ۔ مقامی لوگ آج اس علاقے کو الحدید کہتے ہیں جس کے معنی ’’لوہے کا ٹکڑا ‘‘ کے ہیں۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس صحرا میں جگہ جگہ لوہے کے پگھلے ہوئے ٹکڑے ملتے ہیں۔ یہاں کی ریت میں لوہے کے ٹکڑوں اور سفید سلیکا کے شیشے کی آمیزش ہے۔  ان ٹکڑوں کے  برٹش میوزیم میں  تجزیہ سے معلوم ہوا کہ یہ لوہے کا ٹکڑا کسی زبردست حرارت سے پگھل کر خشک ہوگیا تھا۔ اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا گیا کہ انتہائی وزنی شہاب ثاقب (جس میں لوہے کا عنصر سب سے زیادہ تھا) نہایت تیز ولاسٹی سے زمین کی طرف آیا۔ زمینی فضا میں زبردست گیسی تعامل کی بناء پر شہاب ثاقب ایک آتش فشاں بن گیا اور یہ انتہائی تیز رفتاری سے اس علاقے پر آفت بن کر گرا جس سے زمین پھٹ گئی اور ہر طرف آگ ہی آگ لگ گئی۔ یہاں کی ریت دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں زبردست حرارت کے باعث پگھل گئی ہوگی اور سلیکا کی موجودگی اس علاقے پر اُس وقت پیدا ہونے والے انتہائی درجہ حرارت کی نشاندہی کررہی ہے۔

غزوۂ تبوک کے موقع پر قوم ثمود کے کھنڈرات سے رسول اللہﷺ کے گزرنے کے واقعے سے  رسول اللہ ﷺ کی ایک اور معجزانہ صلاحیت کا انکشاف بھی ہوجاتا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے بغیر کسی وسیلے کے خطرناک شعاعوں کے اخراج کو دیکھا، اسے انسانوں کے لیے خطرناک پایا اور وہاں سے فی الفور کوچ کرنے کا حکم دیا۔ حتی کہ غذا، پانی اور برتن تک کہ ضائع کرنے کا حکم کیا کہ تابکار شعاعیں اُن میں سرائیت کرچکی ہوں گی۔اگر ہم مسلمانوں سورۂ الزاریات کی آیات میں مذکور بانجھ ہوا، خوفناک چمک اور سیرت کے اس واقعے کو سامنے رکھ کر غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ 14 سو سال قبل جب رسول اللہ ﷺ کا لشکر اس بستی سے گزرا ہوگا تو اُس وقت تابکاری کے اخراج کی  کیا مقدار رہی ہوگی…

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے