کیا ملکۂ برطانیہ چاہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی قتل کرسکتی ہے؟

ملکہ برطانیہ

آج دنیا کے اکثر ممالک میں جمہوریت یعنی ڈیموکریسی رائج ہے۔جس میں ہر شخص چاہے وہ وزیر اعظم ہو یا پھر صدر ، ملک میں رائج قانون کا پابند ہوتا ہے۔لیکن آج سے چند صدیاں قبل جب اس دنیا کے ہر حصے پرمختلف بادشاہ ، سلطان اور شہنشاہ حکومت کیاکرتے۔یہ لوگ دنیا میں رائج کسی بھی قانون کے پابند نہ تھے۔ بلکہ یہ اپنی ذات میں خود ایک قانون کا درجہ رکھتے۔ جو الفاظ ان کے منہ سے اداہوتے اس پر عمل درآمد ریاست کہ ذمہ داری ہوتی۔ چنانچہ تاریخ میں ان مطلق العنان حکمرانوں نے بے جااختیارات کا خوب جم کر فائدہ اُٹھایا۔ کبھی بادشاہ سلامت صبح کے وقت کسی درباری سے خوش ہوکرجاگیریں اور جواہرات عنایت کرتے تو شام کے وقت اسی درباری کا سر قلم کیا جارہا ہوتا۔ کبھی کوئی بادشاہ محض ایک گھوڑے کی خاطر ہزاروں فوجی میدان جنگ میں مروادیتا تو کوئی بادشاہ سلامت گھوڑے کو ہی ریاست کا وزیراعظم بنادیتے۔ کوئی بادشاہ ہر رات ایک نئی شادی کرتا تو کوئی بادشاہ شراب کے حوض میں تیراکی۔کبھی کوئی بادشاہ سرعام عورتوں کو برہنہ حالت میں گھماتا تو کوئی بادشاہ یہ حکم صادر کردیتا کہ ملک میں تمام مرد دوپٹہ پہنیں۔ خیر یہ سب تو قصۂ ماضی ہوا، اب نہ بادشاہ رہے نا شہنشاہ۔ لیکن موجودہ دور میں بھی بادشاہت کی کچھ باقیات موجود ہیں، جن میں حکومت برطانیہ سرفہرست ہے۔برطانیہ نامی ملک میں آج بھی کوئین الزبتھ کا سکہ چلتا ہے۔ یہ ملکہ آج بھی برطانیہ کے تمام قوانین سے بالاتر ہے۔اس ویڈیو میں ہم آپ کے سامنے پیش کریں گے کچھ ایسے قوانین جو عام لوگوں  پر تو لاگو ہوتے ہیں لیکن برطانیہ کی ملکہ ان سے مکمل طور پر بری الذمہ ہے۔

ٹیکسز

ٹیکس
 آج دنیا میں موجود ہر شخص ٹیکس دینے کا پابند ہے۔مہنگی ترین گاڑیاں ہوں یا روز مرہ استعمال کی اشیاء جیسے ٹوتھ پیسٹ۔ ہر انسان ان پر لگایا گیا ٹیکس دینے کا پابند ہے، اس کے علاوہ ہر آدمی اپنی آمدنی ، اثاثہ جات یہاں تک کہ کئی ممالک میں شادی اور اپنے بچوں پر بھی ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن ملکہ برطانیہ دنیا کی ایک ایسی شخصیت ہے جو اس ٹیکس نامی بلا سے مستثنی ہے۔ملکہ برطانیہ کے ذاتی اثاثوں کی ملکیت 420 ملین ڈالرز ہے، اس کے علاوہ  برطانوی قانون کے مطابق ملکۂ برطانیہ ہی تمام برطانیہ کی مالک ہے ،سو اسے کسی کو کوئی ٹیکس دینے کی ضرورت  ہی نہیں۔

ڈولفنز پالنا

ڈولفن

اگر آپ برطانیہ میں رہتے ہیں اور ایک ڈولفن پالنا چاہتے ہیں تو آپ ایسا ہرگز نہیں کرسکتے، کیونکہ برطانوی قانون کے مطابق برطانوی سمندروں اور ملک برطانیہ میں رہنے والی ہر ڈولفن کوئین الزبتھ کی ملکیت ہے۔اگر کوئی ڈولفن پالتا ہے تو یہ ایک چوری کہلائے گی اور ایسا کرنے والے کوسزا کا سامنا ہوگا۔ یہ قانون سن 1324 عیسوی کے دوران بادشاہ ایڈورڈ سیکنڈ نے بنایا تھا جس کے مطابق سمندر میں رہنے والی ڈولفنز، وہیلز اور اسی طرح کی دوسری آبی مخلوقات تاج برطانیہ کی ملکیت ہیں۔

راج ہنس  یعنی سوان کھانا

سارس

ہنس ایک ایسا پرندہ ہے جسے عموماً لوگ  بطور غذا استعمال نہیں کرتے۔  لیکن شاہی محفلوں میں اس کا گوشت پیش کرنا شان و شوکت کی ایک علامت ہے۔  لیکن برطانیہ کا رہنے والا اگر کوئی  عام شخص ہنس  کو پکڑ کر اسے کھانا چاہے  یا  کسی بھی طرح کا کوئی نقصان پہنچائے تو اسے مجرم گردانتے ہوئے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ ڈولفنز اور وہیلز کی طرح برطانیہ میں پائے جانے والے تمام راج ہنس  نامی یہ پرندے بھی صرف اور صرف شاہی خاندان کی ملکیت ہے۔  جنہیں پکڑنا یا پالنا آپ کو قانونی گرفت میں مبتلا کرسکتا ہے۔

غیر قانونی ڈرائیونگ

کوئین

دنیا کے ہر ملک میں ٹریفک کے کچھ قوانین ہوتے ہیں، جن کی پاسداری ہر شہری کا فرض ہے، لیکن یہ رولز ملکہ ٔ برطانیہ پر لاگو نہیں ہوتے۔ وہ اپنے زیر تسلط ملک یعنی برطانیہ کی کسی بھی سڑک  پر کسی بھی رفتار سے ڈرائیونگ کرسکتی ہے۔ نہ تو اسے سگنل توڑنے پر گرفتار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ملکہ کے لیے رانگ واے پر گاڑی کی رفتار کی کوئی حد ہے۔

 

آزادیٔ اظہارِ رائے

فریڈم آف اسپیچ

دنیا کے تمام  جمہوری ممالک میں   یہ قانون نافذ ہے کہ میڈیا ملک کی تمام پبلک فیگرز سے  ان کے عہدے یا پیشے سے متعلق سوالات کرسکتا ہے اور اس قانون سے کوئی بھی شخص ماورا نہیں۔ لیکن دنیا بھر میں نافذ اس قانون کا  برطانوی شاہی خاندان پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔ برطانیہ میں شائع ہونے والے اخباررات نہ تو ملکہ یا شاہی خاندان کا کوئی اسکینڈل اخبار میں چھاپ سکتے ہیں، نہ ہی ان کے خلاف کوئی ہیڈلائن، کوئی آرٹیکل  یا پھر ان کی کوئی  مضحکہ خیز یا غیر اخلاقی تصویر شائع کرسکتے ہیں۔ برطانیہ میں شاہی خاندان کی مرضی کے بناء ان سے متعلق کوئی خبر چھاپی نہیں جاسکتی۔

ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ

ڈرائیونگ لائسنس

آپ کسی بھی ملک کے باشندے ہوں  ، آپ کو سڑک پر ڈرائیو کرنے کے لیے ایک عدد ڈرائیونگ لائسسنس اور بیرون ملک سفر کرنے کے لیے ایک پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ملکہ ٔ برطانیہ  کو  بڑی بڑی گاڑیاں ڈرائیو کرنے کے لیے نہ تو ڈرائیونگ لائسسنس کی ضرورت ہے اور نہ ہی بیرون ممالک سفر کرنے کے لیے پاسپورٹ کی ۔ اس کے علاوہ ملکہ کی گاڑی پر نمبر پلیٹ کا ہونا بھی ضروری نہیں۔

قانون سے ماوراء ہونا

قانون

اگر برطانیہ میں رہنے والا کوئی شہری ملکہ برطانیہ پر کوئی کیس کرنا چاہے تو ایسا کرنا ممکن نہیں۔  نہ تو  برطانیہ کی کوئی عدالت سمن بھیج کر ملکہ کو طلب کرسکتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی مقدمہ عائد کیا جاسکتا ہےاور یہ قانون صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل عدالتوں پر بھی لاگو ہے۔

بچے اغوا  کرنا

اغوا

یہ تصور تھوڑا سا عجیب ہے کہ ملکہ ٔ برطانیہ بچے اغوا کرے لیکن اگر وہ چاہے تو برطانوی قانون اسے یہ اجازت دیتا ہے کیونکہ  ملکہ برطانیہ  قانونی   طور اپنے ملک میں رہنے والے تمام بچوں کی گارجین ہے اور یہ قانون اسے اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی والدین سے کسی بھی وقت ان کا بچہ لے سکتی ہےاور اس بات پر  والدین کو مقدمہ دائر کرنے یا کوئی واؤیلا مچانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

کسی کے بھی گھر میں گھس جانا

فیملی
 ذرا تصور کیجیے کہ آپ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کھانے کی میزپر موجود ہیں۔ یا آپ اپنے بیڈ روم میں سو رہے ہیں اور اسی وقت کوئی شخص آپ کے گھر میں داخل ہوجائے اور کہے کہ یہ میرا گھر ہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ یہ بات عجیب ہے لیکن ملکہ ٔ برطانیہ کو قانوناً یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مملکت میں رہنے والے کسی بھی شخص کے گھر میں کسی بھی وقت داخل ہوسکتی ہے اور جتنا چاہے وقت گزار سکتی ہے۔

قتل اور دوسرے بھیانک جرائم

 

قتل

آخر میں ملکہ برطانیہ اپنی سرزمین پر رائج تمام قوانین سے برتر ہے۔ حتی کہ اگر ملکہ ٔ برطانیہ لندن کے کسی مقام پر کچھ لوگوں کا قتل بھی کردے تو بھی اسے کٹہرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ کیونکہ  ملکہ برطانیہ ہی درحقیقت اس زمین کی مالک ہے اور اس زمین  یعنی برطانیہ میں اس کے نام پر کوئی بھی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تاج برطانیہ اپنے ملک میں ہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کرنے کا مجاذ ہے جس پر اسے کوئی جواب دینے کی ضرورت نہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے