ہزاروں انسانوں کا بے رحم قاتل! واسکو ڈی گاما

واسکو ڈٰی گاما

1453 عیسوی  جب سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرکے یورپ کی بنیادیں ہلادیں تھیں۔  سلطان نے اس فتح کے باعث یورپ سے ناصرف قسطنطنیہ چھینا تھا بلکہ وہ تمام تجارت بھی چھین لی تھی جس کے ذریعے ہندوستان سے لائے مصالحے اور دوسری اشیاء یورپ تک  پہنچائی جاتیں۔   اب سلطنت عثمانیہ کی جانب سے ان تمام مصنوعات پر بھاری ٹیکسز عائد کردیے گئے، ان واقعات  نے یورپی ممالک  کو شدید مضطرب کردیا، اور اب ہریورپی ملک اس کوشش میں مصروف ہوگیا کہ کسی طرح براہ راست ہندوستان  کا سمندری راستہ دریافت کرکے مشرق و مغرب کی اس تجارت پر قبضہ کرلیا جائے۔ ایسی ہی ایک کوشش یورپی ملک اسپین کی جانب سے کی گئی جب کرسٹوفرکولمبس کی قیادت میں ہسپانوی بحری جہاز مغربی راستے سے ہندوستان دریافت کرنے نکلے۔  ہندوستان تو نہیں البتہ یہ لوگ ایک نیا براعظم یعنی امریکہ دریافت کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔

اس واقعے کے صرف پانچ سال بعد یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک پرتگال نے ایک بحری قافلہ واسکو ڈی گاما نامی شخص کی قیادت میں ہندوستان کا راستہ کھوجنے روانہ کیا۔ اس  قافلے میں 170 افراد شامل تھے جبکہ پرتگال کے بحری جہازوں میں دنیا کی جدید ترین توپیں بھی نصب تھیں۔راستے میں پیش آنے والی بے پناہ مشکلات کے بعد واسکو دے گاما یورپی تاریخ میں پہلی مرتبہ افریقہ کے جنوبی ساحلوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم ہندوستان ابھی   تک ہزاروں میل دور تھا اور اس کا درست راستہ اختیار کرنا اندھیرے میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف تھا۔ خوش قسمتی سے واسکو ڈی گاما کو کینیا کے ساحلی شہر مالیندی سے ایک گجراتی مسلمان ملاح  مل گیا جو بحرِ ہند سے یوں واقف تھا جیسے اپنی ہتھیلی کی لکیروں سے۔ واسکو ڈی گاما نے پہلے تو نشے کے ذریعے اس ملاح کو اپنے قابو میں کیا بعد میں اسے یرغمال بنا کرہندوستان کا راستہ ڈھونڈ نکالا۔20 مئی 1498 عیسوی  12 ہزار میل سفر کرنے اور اپنے درجنوں آدمی گنوانے کے بعد واسکو ڈی گاما ہندوستان کی بندرگاہ کالی کٹ پہنچ گیا۔کالی کٹ کے راجہ ساموتھری نے اس نئے آنے والے مسافر اور بیوپاری کی خوب خاطر مدارت کی لیکن بدلے میں نہ تو اسے واسکو ڈی گاما کی طرف سے کوئی تحفہ ملا  جو اس دور میں غیر ملکی سفیر راجاؤں کے دربار میں پیش کیا کرتے اور نہ ہی وہ عزت کہ جو اپنے میزبان کو دی جاتی ہے۔  اس کے علاوہ واسکو ڈی گاما نے  راجہ ساموتھری سے کالی کٹ میں ایک تجارتی گودام بنانے اور اپنے محافظ رکھنےکی اجازت طلب کی۔

راجہ نے واسکو ڈی گاما سے ٹیکس دینے کا مطالبہ کیا جو قانون کے مطابق تمام تاجر دیا کرتے۔لیکن واسکو ڈی گاما راجہ تو دراصل اس سرزمین کو لوٹنے آیا تھا کچھ دینے کے لیے نہیں،  سو راجہ ساموتھری اور پرتگالیوں کے بیچ بات جنگ و جدل تک پہنچ گئی اور واسکو ڈی گاما نے  اپنے جہازوں میں نصب توپو ں کے ذریعے کالی کٹ پر اتنی بمباری کی کہ کئی عمارتیں بشمول شاہی محل کے تباہ و برباد ہوگئیں، راجہ ساموتھری کے پاس ان توپوں کا کوئی جواب نہ تھا چنانچہ  وہ اندرون ملک فرار ہوگیا۔ تین ماہ ہندوستان میں گزارنے کے بعد واسکو ڈی گاما  انتہائی بیش قیمت مسالے جہازوں میں لدوا کر دوبارہ پرتگال روانہ ہوا۔ جاتے جاتے چند ہندوستانی سپاہیوں اور 16 ماہی گیروں کو بھی اپنے ساتھ اغوا کرکے لے گیا۔

اس سے قبل بحر ہند میں ہونے والی تجارت نہایت پرامن اور باہمی مفادات پر مبنی ہوتی لیکن اس سمندر میں پرتگالیوں کے قدم پڑتے ہیں سب کچھ بدل گیا۔ پرتگالیوں کی پالیسی اول دن سے یہ رہی کہ سب کچھ طاقت کے بل بوتے پر چھین لیا جائے ۔ یہاں تک کہ  ہندوستان  کی طرف دوسرے بحری بیڑے کی روانگی کے وقت پرتگال کے بادشاہ نے اس بیڑے کے امیر  پیڈرو الویریس کیبرل کو سختی سے تاکید کی کہ سمندر میں مسلمانوں کا جو بھی قافلہ ملے اسے لوٹ لو اور سب افراد کو قتل کردو۔ ان ہدایات کی روشنی میں پرتگالیوں نے  اپنے راستے میں آنے والے مسلمان حاجیوں کے ایک جہاز پر  حملہ کیا ، مال و اسباب لوٹ کر عورتوں اور بچوں سمیت تمام معصوم افراد کو جہاز کے ساتھ زندہ جلادیا ۔ کیبرل نامی اس پرتگالی شخص نے   کالی کٹ پہنچ کر دو دن تک بمباری کی جس سے شہر کی تمام  آبادی جنگلوں میں بھاگنے پر مجبور ہوگئی۔ دوسری مرتبہ جب واسکو ڈی گاما ہندوستان پہنچا تو راجہ ساموتھری نے   شہر کے سب سے  مقدس سمجھنے  جانے والے پجاری کو اس سے بات چیت کرنے بھیجا۔جواب میں  واسکو ڈی گاما نے اس پجاری کےہونٹ اور کان کاٹ دیےاور کان کی جگہ کسی جانور کے کان سی دیے ۔ یہ تھا ہندوستانیوں کے لیے پرتگالیوں کا پہلا تعارف۔

اسی سفر کے دوران یعنی 1502 عیسوی میں واسکو ڈی گاما نے 20 ہندوستانی جہازوں کو لوٹا، اس کے عملے کو زبح کردیا، جبکہ 800 سے زیادہ قیدیوں کے ناک اور کان کٹوا کر راجہ کے پاس ایک خطہ کے ساتھ بھجوائے جس میں لکھا تھا کہ راجہ ان سب کا سالن بنوالے۔ پرتگالیوں کے اس غرور اور کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس نہایت جدید اور طاقتور جنگی جہاز موجود تھے۔ پرتگالیوں کو روکنے کی خاطر  ریاست گجرات کے فرمانروا اور مصر کے  مملکوں نے  مشترکہ کوششیں کیں لیکن انہیں  بھی  شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پرتگالیوں کی سمندری طاقت کا یہ عالم تھا کہ ایران کے  شہنشاہ شاہ اسماعیل صفوی کو بھی انہیں تسلیم کرنا پڑا۔ یہاں تک  کہ  بحر ہند کو پرتگالی سمندر کہا جانے لگا۔ہندوستان میں اپنے قدم جمانے کے بعدپرتگالیوں نے یہاں کی سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ 1526 عیسوی جب بہادر شاہ بن محمود گجرات کے تخت پر براجمان ہوئے، تب ان کے سالار رومی خان نے سازش کرتے ہوئے مغل بادشاہ ہمایوں کوگجرات پر حملے کی دعوت دی۔ جبکہ بہادر شاہ بن محمود نے پرتگالیوں سے  ہمایوں کے خلاف مدد کی درخواست کی۔ پرتگالیوں نے مدد کے نام پر ان بادشاہ سلامت کو دریا میں پھینک کر انتہائی بے دردی سے قتل کر ڈالا اور خود ڈیو نامی ایک قدیم بندرگاہ  پر  قابض ہوگئے۔

ایسی ہی ایک غلطی سندھ کے حکمران مرزا عیسی سے بھی ہوئی اس نےسلطان محمد کوکلتاش سے جنگ کے دوران پرتگالیوں سے مدد طلب کی لیکن جب پرتگالیوں کی یہ جماعت سندھ پہنچی تو ان دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوچکی تھی لیکن پرتگالی تو یہاں لوٹ مار اور تخریب کاری کے لیے ہی آئے تھے چنانچہ وہ بحیثیت تاجر ٹھٹھہ شہر میں داخل ہوئے۔ ٹھٹھہ اس دور میں سندھ کا سب سے بڑا تجارتی مرکز اور ترقی یافتہ شہر ہوا کرتا۔ پرتگالیوں نے ٹھٹھہ شہر میں داخل ہوکر اس میں خوب لوٹ مار مچائی جو ہاتھ لگا وہ چھین لیا۔ بعد ازاں بادشاہ کی آمد کا سن کر ٹھٹھہ کی گلیوں میں بارود بچھا کر فرار ہوگئے۔ اس قتل و غارت گری میں 8 ہزار افراد موت کا نشانہ بنے ۔ اس واقعے نے ٹھٹھہ شہر  کو ویران اور برباد کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا، اور  اپنے وقت کا ترقی یافتہ شہرٹھٹھہ گمنامی کے اندھیروں میں    ڈوب گیا۔بلاشبہ  اس دور میں ہندوستان پر ایک طاقتور مغل سلطنت قائم تھی لیکن مغلوں کو سمندری علاقوں سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، دوسرا یہ لوگ  مغل بادشاہوں کو قیمتی تحفے تحائف دے کر     انہیں مطمئن کردیتے۔ بعد ازاں یورپ سے آئے دوسرے لٹیروں مثلاً انگریزوں، فرانسیسیوں اور ولندیزیوں نے ان کی سرگرمیاں محدود کردیں لیکن  ہندوستان کے بعض ساحلی شہروں جن میں گوا بھی شامل ہے، ان پر پرتگالیوں کا قبضہ سن 1961 عیسوی تک برقرار رہا۔

اس کے بعد نہرو حکومت نے ان تمام غاصب پرتگالیوں نے تمام ساحلی شہروں سے نکال باہر کیا۔  پرتگالیوں سے متعلق تاریخی حقائق یہ بات واضح کردیتے ہیں کہ  ہندوستان کا راستہ کھوجنے والا  مشہور جہازراں واسکو ڈی گاما کوئی  مہم جو نہیں بلکہ ایک بحری قزاق  تھا اور اس کی قوم یعنی پرتگالیوں کی حیثیت چور اور لٹیروں سے زیادہ نہ تھی جو  ناصرف ہندوستان کے خزانے اپنے ملک لوٹ لے گئے بلکہ ہزاروں معصوم ہندوستانیوں کے قتل کا سبب بھی بنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے