ہندوستانی مسلمانوں کے سلطنت عثمانیہ سے تعلقات!

استنبول

ہندوستان میں جب تک مغل سلطنت اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود رہی، ہندوستانی مسلمانوں کو ملک سے باہر عثمانی سلطان/ خلیفہ سے وفاداری کی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی۔ مغل شہنشاہیت کے زوال کے بعد، قدرتی بات ہے کہ خلافتِ عثمانیہ کی اہمیت بڑھ گئی۔

وی کیرول کے الفاظ میں حقیقت یہ ہے کہ :

’’خود انگلستان نے اسلامیانِ ہند کی نظروں میں ترکی کی اہمیت بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی بہت کوشش کی۔ انیسویں صدی کے دوران میں طویل عرصے تک انگلستان کی یہ پالیسی رہی کہ روس کے خلاف ترکی کو بھڑکایا جاتا رہے‘‘۔

۱۷۹۹ء میں میسور کے حاکم ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد خلافتِ عثمانیہ میں مسلمانانِ ہند کی دلچسپی میں اور اضافہ ہوا۔ اس وقت وفاداریوں میں بھی کشمکش نہ ہوئی، کیونکہ انگلستان نے روس کے خلاف ترکی کی طرف داری کی، اور جمعہ کے خطبوں میں عثمانی خلیفہ کا نام لینے پر بھی انگلستان نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ترکی کی طرف انگلستان کا رویہ انیسویں صدی کے آخری عشرے میں تبدیل ہوا، جس کی وجہ یہ ہوئی کہ مصر پر انگلستان کا تسلط ۱۸۸۲ء میں قائم ہوگیا تھا۔ ۱۸۹۷ء میں یونانیوں نے انگلستان کی شہ پر بغاوت کردی۔ ترکوں کے ہاتھوں یونانیوں کو شکست ہوئی تو ہندوستان کے مسلمانوں نے جشن منایا، لیکن سرسیّد احمد خان سخت پریشان ہوئے، کیونکہ وہ تو سلطان عبدالحمید کو خلیفۃ المسلمین ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور اِس موضوع پر مضامین لکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ چونکہ مسلمانانِ ہند برطانیہ کی رعایا ہیں، سلطان عبدالحمید کی رعایا نہیں ہیں، لہٰذا انھیں برطانیہ کا وفادار رہنا چاہیے، خواہ اس کے لیے ترکی سے غیر دوستانہ رویہ اختیار کرنا پڑے۔ سرسیّد نے خطبے میں عثمانی سلطان/ خلیفہ کا نام لینے پر بھی اعتراض کیا اور اسے غیرضروری قرار دیا۔ تاہم سرسیّد مسلم ممالک کی زبوں حالی پر جذباتی طور پر بہت پریشان رہتے تھے۔

سرسید احمد خان نے ایک مرتبہ لکھا:

’’جب بہت ساری مسلم مملکتیں موجود تھیں اور ان میں کسی ایک کو زوال آجاتا تھا تو چنداں تکلیف نہ ہوتی تھی، لیکن اب کہ جب چند ہی مسلم مملکتیں باقی رہ گئی ہیں، تو کوئی چھوٹی ریاست بھی ہاتھ سے نکل جائے تو احساسِ زیاں ہوتا ہے۔ اگر ترکی مفتوح ہوجاتا ہے تو زبردست صدمہ ہوگا، کیونکہ ترکی اسلام کی بچی کھچی آخری ریاست ہے۔ ڈرلگتا ہے، کہیں ہماری حالت یہودیوں کی سی نہ ہوجائے اور ہم بھی بے وطن ہوکر مارے مارے نہ پھریں۔‘‘

جمال الدین افغانی نے ہندوستان کے دورانِ قیام سرسیّد کے مذہبی خیالات کے خلاف ایک تنقیدی مقالہ ردِّنیچریہ لکھا (فارسی، مطبوعہ بمبئی ۱۸۸۱-اردو، کلکتہ۱۸۸۳، عربی، بیروت ۱۸۸۶ئ)۔ انھوں نے سرسیّد کے خلاف باقاعدہ ایک تحریک اپنے ہفت روزہ العروۃ الوثقیٰ میں شروع کی، جو پیرس سے چھپتا تھا۔ اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا:

’’سرسیّد اور ان کے رفقاے کار نے … اسلامی خلافت کے خلاف معاندانہ مضامین لکھے… سرسیّد اور اس کے احباب تو بیرونی استعمار کو گلے لگاتے ہیں اور مذہب اور قومیت کی خوشبو کے آثار بھی مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔‘‘ جمال الدین افغانی یہ نہ جان سکے کہ وہ اور سرسیّد دونوں امتِ مسلمہ کے مستقبل کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ خلافتِ عثمانیہ کے بارے میں مسلم انڈیا کی مخصوص اور نازک پوزیشن کا بھی صحیح اندازہ نہ کرسکے۔ مسلمانانِ ہند کی حالت مصر، ایران، افغانستان یا ترکی کے مسلمانوں جیسی نہیں تھی۔ وہ ہندوستان میں اقلیت میں تھے، اگرچہ ان کی تعداد سات کروڑ تھی۔ اگر مسلمانانِ ہند افغانی کی خواہش کے مطابق ہندوستان کو ’’مادرِ وطن‘‘ بنالیتے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا کہ سات کروڑ مسلمان ایک ایسی قوم میں ضم ہوکر رہ جاتے جس کی تعداد مسلمانوں سے چارگنا زیادہ تھی۔ یہ خیال اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں ’’مذہب‘‘ کی بنیاد پر ’’قومیت‘‘ کی تشکیل ایک عجیب اور متضاد بات نظر آتی ہے، لیکن بلاشبہ سرسیّد تو مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ایک جداگانہ قوم قرار دیتے تھے۔ ان کے مذہبی نظریات خواہ کتنے ہی ناقص اور قابلِ اعتراض ہوں، لیکن ان کے سیاسی نظریات کے مضمرات بالکل صاف اور واضح تھے۔ ان کا استدلال بیّن اور بہتر تھا اور آئندہ آنے والے واقعات کی روشنی میں ثابت ہوا کہ وہ صحیح تھے۔ افغانی کے ہندوستان کے دورانِ قیام ہندوستان کے مسلمان دانشوروں پر اتحادِ اسلامی کے جذبے میں کچھ زیادہ ہی جوش آگیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ضمن میں افغانی سالارجنگ سے بھی ملے اور سرسیّد سے بھی، لیکن دونوں نے ان کے سیاسی نظریے سے کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن نوجوان دانشوروں کے ایک گروپ نے، جس میں سیّد امیر علی، چراغ علی، حسن عسکری جیسے لوگ شامل تھے، افغانی کی پرجوش پیروی کی اور ان کا شاندار استقبال کیا جب وہ کلکتہ کے دورے پر آئے تھے۔

سیّد امیر علی اتحادِ اسلامی کے بڑے چیمپئن تھے۔ وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے ۱۸۷۷ء میں کلکتہ میں ایک مسلم قومی سیاسی تنظیم قائم کی تھی۔ سیّد امیر علی سنی خلافت کی حمایت کرنے والے پہلے شیعہ مسلمان نہیں تھے کیونکہ ان سے پہلے روس اور ایران کے شیعہ اور سنی علما نے مشترکہ فیصلہ کرکے خلافتِ عثمانیہ کو دفاعِ اسلام کی ایک سیاسی ضرورت قرار دیا تھا۔ تاہم سیّد امیر علی کا اثر ہندوستانی مسلمانوں کے اونچے دانشور اور ذہین طبقے تک محدود رہا یا انگلستان میں صرف ان لوگوں تک جن کو مشرقی مسئلے سے کوئی خاص دلچسپی تھی۔

سیّد امیر علی اور چراغ علی نے اسلام کے دفاع میں بہت لکھا ہے۔ ان کی تصانیف زیادہ تر انگریزی میں ہیں، اسی لیے وہ اندرونِ ملک سے زیادہ بیرونی ملکوں میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور شریف الدین پیرزادہ جیسے مشہور مؤررخین نے تاریخ تحریک آزادی (انگریزی) کی جلد اوّل، صفحات ۴۸ اور ۴۹ کی بنیاد پر لکھا ہے کہ افغانی نے ایک ایسی اسلامی جمہوریہ کا تصور پیش کیا تھا جس میں وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں، افغانستان اور شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقے (موجودہ پاکستان) شامل ہوں۔ اس تصور کو کہاں اور کیسی پذیرائی ملی، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ہمارے جن بزرگوں نے خلافتِ عثمانیہ کے تحت اتحادِ اسلامی کی ضرورت سے خاص اور گہری دلچسپی لی، ان میں مولانا محمد شبلی (۱۸۵۷-۱۹۱۴ئ) کی شخصیت قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے سرسیّد کے رفیقِ کار کی حیثیت سے سترہ برس ایم اے او کالج، علی گڑھ میں کام کیا تھا، بلکہ سرسیّد کے اثر سے انھوں نے سلطان عبدالحمید کے خلیفۃ المسلمین کے دعوے کے بطلان میں ایک مضمون بھی لکھا تھا۔ یہ مضمون ان کی مرضی کے خلاف لکھنے کی ترغیب دی گئی تھی، ورنہ وہ سرسیّد کے مذہبی و سیاسی نظریے کے خلاف ایک مجسّم ردِعمل کی حیثیت رکھتے تھے۔ اے ایچ البیرونی نے کیا خوب لکھا ہے:

’’جدید مسلم انڈیا کی تشکیل میں مولانا شبلی کا خاص کارنامہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے علی گڑھ تحریک کو تقویت پہنچائی، بلکہ یہ ہے کہ اسے کمزور کیا۔‘‘ ۱۸۷۷ء میں جب ترک انگریزوں کے ساتھ مل کر روسیوں کے خلاف لڑ رہے تھے، مسلمانانِ ہند کی توجہ ترکی کی طرف مبذول ہوئی۔ مولانا شبلی ان مسلمانوں میں سے تھے جنھوں نے ترک زخمی اور معذور سپاہیوں کی مدد کے لیے اپنے ضلع سے چندے جمع کیے۔ پھر یہ چندے ترکی روانہ کیے گئے۔ وہ خود ۱۸۹۲ء میں قسطنطنیہ گئے اور وہاں تین ماہ قیام کیا۔ سلطان عبدالحمید نے ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں مجیدی ماڈل سے نوازا۔۱۸۷۷ء کے کچھ عرصہ بعد انگلستان اور ترکی کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ انگلستان نے ۱۸۸۲ء میں مصر پر قبضہ جمالیا، اور ۱۸۹۷ء میں یونان کو ترغیب دے کر ترکی کے خلاف بغاوت کرادی، چنانچہ جب مولانا شبلی ترکی سے واپس ہندوستان آئے تو قدرتاً انہیں حکومت برطانیہ نے سلطان عبدالحمید کا جاسوس خیال کیا، انھیں سلطان کا عطا کردہ تمغۂ مجیدی لگانے کی اجازت نہ دی گئی، بلکہ وہ تمغہ چوری ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے