دلچسپ و عجیب

دنیا کی انوکھی اور خوفناک ترین ڈھانچوں کی جھیل

موت کی جھیل

1942عیسوی جب برصغیر پاک و ہند انگریزوں کے زیرتسلط تھا تو ”روپ کنڈ“ نامی علاقے میں ایک جھیل دریافت ہوئی تھی جسے اب ”انسانی ڈھانچوں والی جھیل“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جھیل سطح سمندر سے 16ہزار فٹ بلند اورچاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ سرد علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس جھیل کا پانی ہمیشہ ...

Read More »

دنیا کے خطرناک ترین مقامات…..

ورکویانسک ورکویانسک (Verkhoyansk) ماسکو سے مشرق کی جانب تقریباً 3 ہزار میل سائبیریا کے دل میں واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے سرد ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں سردیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور یہاں بہنے والا یانا دریا سال کے 12 مہینوں میں سے 9 ماہ جما رہتا ہے۔ سردیوں میں یہاں ...

Read More »

بھارت کا امیر ترین مندر!

تریمولا مندر

ہمارے پڑوسی ملک، بھارت میں لوگوں کو سونا یعنی بہت پسند ہے۔ خواہ وہ تہوار کے دوران خریدا جائے، شادی میں تحفے کے طور پر دینا ہو یا پھر مذہبی تہوار میں عطیہ کیا جائے۔ خیال ہے کہ وہاں لوگوں کے گھروں، کاروباری اداروں اور مندروں کے خزانوں میں تقریباً ‘‘بیس ہزار’’ ٹن سونا جمع ہے۔ لیکن اس قیمتی دھات ...

Read More »

عجیب و غریب بادشاہ! جو محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتا ہے۔

آپ نے جاہ و جلال کے مالک بے شمار بادشاہوں کے واقعات سن رکھے ہوں گے۔ کچھ تو ایسے بادشاہ بھی تاریخ میں گزرے ہیں کہ وہ جہاں سے گزرتے وہاں سڑکیں بن جایا کرتیں اور جہاں قیام کرتے وہاں شہر تعمیر ہوجاتے۔ لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے بادشاہ کا قصہ سنائیں گے جو بادشاہ ہونے کے ساتھ ...

Read More »

دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت۔ آبادی صرف گیارہ افراد

آج تک آپ نے اُردوڈائری پر دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کے قصے تو سنے ہوں گے لیکن ہم آپ کو آج دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت کی سیر پر لیے چلتے ہیں یہ ایک ایسی سلطنت ہے جس میں کل 11 لوگ رہتے ہیں اور وہ بھی پارٹ ٹائم جی ہاں یہ بے حد دلچسپ سلطنت ہے  کنگڈم ...

Read More »

موت کے بعد بھی پلکیں جھپکانے والی معصوم لڑکی!

آج ہم بات کریں گے ایک ایسی لڑکی کی جو آج سے تقریباً سو سال پہلے پیدا ہوئی لیکن وہ آج تک ایک بچی ہے۔ ایک ایسی بچی جس کی موت ہوئے سو سال گزرچکے لیکن وہ آج تک اپنی پلکیں جھپکاتی ہے اوردیکھنے والوں کو  حیران کردیتی ہے۔ اسے کئی ناموں سے جانا جاتا ہے جیسے شیشے کے تابوت ...

Read More »